{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreihnmxoam4ee3xvznl3wuhcfbwniljgjvmn2zk3csrzgyepvzn5rda",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mm3cba6hrsi2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidvrq3bunfmmgpqhuvyvlwroah6a4u4nn2mlzrkvibtkjzymomffe"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 94801
},
"path": "/node/185933",
"publishedAt": "2026-05-17T01:28:40.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"جنگ",
"دفائی ٹیکنالوجی",
"روبوٹکس",
"مصنوعی ذہانت",
"ڈرونز",
"اعزاز احمد چوہدری",
"نقطۂ نظر",
"news"
],
"textContent": "**اگر انسانی تاریخ میں کوئی مستقل حقیقت ہے تو یہ نظریہ جنگ ہے۔ یہاں تک کہ امن کو کبھی کبھار جنگ کی عدم موجودگی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔**\n\nقومیں وسائل کی لڑائی، مفادات کے تصادم یا محض غلبہ اور بالادستی کے لیے جنگوں میں ملوث ہوتی ہیں۔\n\nدوسری جنگ عظیم کی خوفناک تباہی کا سامنا کرنے کے بعد یہ گمان کیا گیا کہ اب جنگیں تاریخ میں دفن ہو جائیں گی کیونکہ اقوام عالم نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کیے تھے اور ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کا عہد کیا تھا۔\n\nتاہم، ایسا نہیں ہوا۔ آج، 49 ریاستوں کے درمیان یا ان کے اندر 130 سے زیادہ فعال مسلح تنازعات ہیں۔ ماضی کی نسبت اب جنگیں زیادہ تباہ کن اور کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہیں۔\n\nاس طرح جنگ نہ صرف ایک مستقل حقیقت ہے بلکہ اس کے نفاذ کا طریقہ بھی مسلسل جدت اختیار کر رہا ہے۔\n\nجنگ کے ارتقا کو قریب سے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ کی پانچ نسلوں نے صدیوں کے دوران انسانی تجربے کی رہنمائی کی ہے۔\n\nجنگ کی پہلی نسل نے بڑے پیمانے پر لشکر کشی اور تلواروں اور نیزوں کا استعمال دیکھا۔ دوسری میں دشمن کو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے کے لیے رائفلز اور توپوں جیسے بالواسطہ ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔\n\nتیسری میں سادہ فائر پاور کی بجائے رفتار اور حیرت انگیز چالوں کا فائدہ اٹھایا گیا ۔ چوتھی میں غیر ریاستی عناصر اور نیم فوجی دستے بھی جنگوں میں شامل کیے جانے لگے۔\n\nجنگ کی پانچویں نسل میں پروپیگنڈا اور جدید ٹیکنالوجیز شامل ہو گئیں۔\n\nجدید جنگ کی نوعیت ہائبرڈ ہے، جس میں روایتی، غیر روایتی، غیر ریاستی، سائبر اور نفسیاتی ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے۔\n\nاس کے ساتھ معاشی جبر، ثقافتی یلغار، اور ان بنیادی اقدار اور نظریات کے بارے میں ابہام اور الجھن پیدا کرنے کے لیے مسلسل پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے جو ایک قوم کو یکجا رکھتی ہیں۔ ہائبرڈ وارفیئر کی اصطلاح 1989 کے آس پاس تیار کی گئی تھی۔\n\nباعث حیرت ہےمشہور چینی حکمت عملی ساز، ’دی آرٹ آف وار‘ کے مصنف سن زو، چھٹی صدی قبل مسیح کے اوائل میں ہی یہ اندازہ لگا چکے تھے کہ جنگ کا سب سے بڑا فن بغیر لڑے دشمن کو زیر کرنا ہے۔ یہ دشمن کی قوت ارادی اور لڑنے کی صلاحیت کو توڑ کر کیا جاتا ہے۔\n\nتاریخی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، مستقبل کی جنگ حریف کی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو نشانہ بنانے کے لیے حرکیاتی اور غیر حرکی آلات کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال جاری رکھے گی یعنی سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، سماجی، سفارتی، فوجی، اور یہاں تک کہ نفسیاتی۔\n\nہر گزرتے سال کے ساتھ، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز خصوصا خود مختار مہلک ہتھیار جدید جنگ کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔\n\nسب سے زیادہ قابل ذکر ہیں مصنوعی ذہانت رکھنے والے میزائل اور ڈرون، جن کی رہنمائی خصوصی سیمی کنڈکٹرز، مائیکرو چپس اور سینسر کرتے ہیں۔ یہ مہلک ہتھیار کافی میموری بینڈوڈتھ، درست حساب اور خود مختار نیویگیشن رکھتے ہیں۔\n\nمیزائلوں نے، خاص طور پر، اعلیٰ درستگی، لمبی رینج، اور تیز رفتار ردعمل کی صلاحیتوں کو فعال بنا کر جنگ کی نوعیت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے جس نے میدان جنگ کے روایتی تصورات کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔\n\nمئی 2025 میں چار روزہ انڈیا پاکستان جنگ میں، پاکستان نے بصری حد سے باہر پرواز کرنے والے کئی انڈین طیاروں کو مار گرانے کے لیے میزائلوں کا استعمال کیا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرزمین کے اندر گہرائی میں جگہوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل بھیجے۔\n\nحالیہ 40 روزہ امریکہ ایران جنگ میں بھی امریکہ اپنے ارادے کے اعلان کے باوجود جانی نقصان کے خوف سے فوج کو زمین پر نہیں لایا اور زیادہ تر انفراریڈ سینسرز اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے ذریعے چلنے والے میزائلوں پر انحصار کیا۔\n\nمیزائلوں کی طرح، اب جدید روبوٹس کو خود مختار، ٹیلی آپریٹڈ سسٹم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو زیادہ درست اور مؤثر طریقے سے انٹیلی جنس، نگرانی، اور یہاں تک کہ ٹارگٹ سٹرائیک کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔\n\nڈرون اور روبوٹک کتے ریئل ٹائم ڈیٹا فراہم کر سکتے ہیں، جنگی کارکردگی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور بارودی سرنگوں کی صفائی یا پکڑے گئے اہلکاروں کو تلاش کرنے جیسے پر خطر کاموں کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔\nپائلٹ کے بغیر اڑنے والی فضائی گاڑیاں انٹیلی جنس کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں، جو ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے لیس ہیں۔ لاؤٹرنگ گولہ بارود یا خودکش ڈرون آزادانہ طور پر اہداف کو ٹریک اور حملہ کر سکتے ہیں۔\n\nڈرائیور کے بغیر زمینی گاڑیاں کسی فوجی کو کھوئے بغیر سامان اور گولہ بارود کی نقل و حمل میں مدد کرتی ہیں۔ ڈرونز کو اب مربوط حملے کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب مصنوعی سپاہی یعنی ہیومنائیڈ روبوٹ موجود ہوں گے۔\n\nکچھ دیگر ٹیکنالوجیز کو بھی مستقبل کی جنگوں میں ان کے ممکنہ کردار کے لیے تسلیم کیا جانا چاہیے۔\n\nکوانٹم کمپیوٹنگ، جو پیچیدہ مسائل کو کلاسیکی کمپیوٹرز کے مقابلے میں تیزی سے حل کرتی ہے، کو مواصلات میں استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ تنازعات کے حالات کے دوران ناقابل ہیک اور محفوظ ڈیٹا کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔\n\nاگلی جنریشن کی کمپوزٹ بیٹریاں جو اپنی پیداوار اور استعمال کے درمیان فرق کو ختم کرتے ہوئے طویل عرصے تک توانائی کا ذخیرہ کر سکتی ہیں۔\n\nیہ ٹیکنالوجیز صحت کی دیکھ بھال اور ماحولیاتی تحفظ میں صنعتی پیداوار کے علاوہ دفاعی مینوفیکچرنگ میں انقلاب برپا کر رہی ہیں۔\n\nیہ رجحانات ایک واضح سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مستقبل کی جنگیں آمنے سامنے کی لڑائی یا انسانی کنٹرول والے نظاموں سے ہٹ کر ذہین خود مختار نظاموں کی طرف چلی جائیں گی جو مسلسل انسانی مداخلت کے بغیر فیصلے کر سکیں گی۔\n\nان ٹیکنالوجیز کا استعمال مخالف کے حوصلے کو توڑنے اور اس کے معاشی اثاثوں یا اس کی سپلائی چین کو نشانہ بنانے کے لیے بھی کیا جائے گا جیسا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے پاور گرڈ اور پل اور یہاں تک کہ اس کی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی دی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس سے کچھ سنگین اخلاقی سوالات اٹھتے ہیں۔ خود مختار ہتھیاروں میں سیاق و سباق کو سمجھنے یا ہمدردی کا اطلاق کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔\n\nجوابدہی کے خوف کے بغیر جنگی قوانین کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیے جانے کا زیادہ امکان ہے۔ مزید، ان ٹیکنالوجیز کی رفتار اور چستی تنازعات کو قابو سے باہر کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔\n\nکسی قوم کے پاس جس قسم کی ٹیکنالوجیز ہیں وہی اب تعین کریں گی کہ مستقبل کی جنگ میں وہ قوم کس حد تک حریف کی ملکی اور خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہو گی۔\n\nگویا کسی قوم کی جدید ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت ہی اب مستقبل کی جنگیں چھیڑنے یا اگر اس پر جنگ مسلط ہو جائے تو اس سے بچنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھے گی، جو عنصر مستقبل کی جنگوں کو ناقابل احتساب بناتا ہے وہ بگڑتا ہوا عالمی نظام ہے جو کہ ابتری کا شکار ہے۔\n\nبڑی طاقتوں کو اپنے مخالفین پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے غیر قانونی، یکطرفہ اور غیر متناسب طاقت کا استعمال کرنے میں کوئی عار نہیں ہے۔\n\nایسے غیر یقینی عالمی ماحول میں، درمیانی اور چھوٹی طاقتیں اپنے آپ کو بچانے اور ہم خیال ممالک کے ساتھ اتحاد کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہیں۔\n\nچنانچہ اکثر ممالک نہ صرف جنگ سے متعلقہ ٹیکنالوجیز کے حصول بلکہ اپنے ڈیجیٹل اور سیٹلائٹ پر مبنی مواصلاتی روابط کی ترقی کے لیے ریسرچ پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔\n\nتاہم جارحیت کو روکنے کے لیے مضبوط معیشت، معتبر معلوماتی آلات اور تخلیقی بیانیہ کی تعمیر کی ضرورت ہوتی ہے۔\n\nاس طرح کی پیچیدہ ملٹی ڈومین مستقبل کی جنگوں کا احتساب کرنے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مشابہ ایک نئے عالمی کمپیکٹ کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے سفارتی بات چیت کی اشد ضرورت ہے تاکہ ریاستوں کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے باہمی احترام کا پابند بنایا جا سکے۔\n\nمستقبل کی خوفناک اور خونی جنگوں سے بچنے کا یہی واحد راستہ ہے۔\n\n_مصنف صنوبر انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین اور پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ ہیں۔_\n\n_نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nجنگ\n\nدفائی ٹیکنالوجی\n\nروبوٹکس\n\nمصنوعی ذہانت\n\nڈرونز\n\nمصنوعی ذہانت اور ہائبرڈ حکمتِ عملیوں نے جنگ کو نئی شکل دے دی ہے، اب لڑائیاں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ معیشت، سائبر سپیس اور ذہنوں میں بھی لڑی جا رہی ہیں۔\n\nاعزاز احمد چوہدری\n\nاتوار, مئی 17, 2026 - 06:30\n\nMain image:\n\n> <p>تین ستمبر 2025 کو بیجنگ کے تیانانمن سکوائر میں ایک فوجی پریڈ کے دوران جدید ترین ہائپر سونک میزائلوں کی نمائش کی جا رہی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ کی جنگیں اور معاہدے: پیچیدہ دنیا کو آسان بنانے کا عمل\n\nکیا جنگیں ختم کروانا واقعی امریکہ کے مفاد میں ہے؟\n\nجدید دور کی جنگ کی پوشیدہ قیمت\n\nپاکستان انڈیا جنگ کا ایک سال: جب لوگ ’انڈین ڈرون کباڑ میں بیچتے رہے‘\n\nSEO Title:\n\nمستقبل کی جنگیں: جہاں انسان نہیں، مشینیں لڑیں گی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "مستقبل کی جنگیں: جہاں انسان نہیں، مشینیں لڑیں گی"
}