{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiglbcnva5pagg7sauwkawoiuzvn5l2nxthmiczyobbd5mdpmjtezm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mm3c7wcyjnh2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiaud5svwzym5dfsbrnzgdjgbg4lps4q3v2dlnrhog6lbc2uhart24"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 121356
  },
  "path": "/node/185945",
  "publishedAt": "2026-05-17T18:22:59.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "Pakistan",
    "Balochistan",
    "IndependentUrdu",
    "pic.twitter.com/9YBd0Fi3t1",
    "January 31, 2026",
    "بلوچستان",
    "سکیورٹی فورسز",
    "آپریشن",
    "عسکریت پسند",
    "اموات",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "news",
    "@indyurdu"
  ],
  "textContent": "**بلوچستان کے وزیر اعلی کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے اتوار کو بتایا کہ بلوچستان کے علاقے منگلہ زرغون غر میں سکیورٹی فورسز کے 13 مئی سے جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے 35 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے۔**\n\nپاکستان حکومت ’فتنہ الہندوستان‘ انڈیا کے مبینہ حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔\n\nیہ کارروائی ایسے وقت کی گئی جب گذشتہ چند روز کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آئے تھے۔\n\nبلوچستان میں ہفتے کو دالبندین، تربت، نوشکی اور مستونگ میں فائرنگ، حملوں اور توڑ پھوڑ کے مختلف واقعات میں ایک لیڈی پولیس کانسٹیبل اور براہوی زبان کے اسسٹنٹ پروفیسر جان سے گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔\n\nشاہد رند نے اتوار کو جاری بیان میں بتایا: آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے متعدد کیمپس اور ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے، جس سے ان کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔‘\n\n> بلوچستان: کالعدم بی ایل اے کے حملوں میں مبینہ طور پر خواتین بھی شامل\n>\n>  کالعدم علیحدگی پسند گروپ بلوچستان لبریشن آرمی کی شیئر کردہ ویڈیوز میں خواتین کو ہفتے کو بلوچستان بھر میں مربوط حملوں میں مبینہ طور پر حصہ لیتے دکھایا گیا ہے۔#Pakistan #Balochistan #IndependentUrdu pic.twitter.com/9YBd0Fi3t1\n>\n> — Independent Urdu (@indyurdu) January 31, 2026\n\nانہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ’فتنہ الہندوستان کے تین اہم کمانڈرز‘ کو گرفتار بھی کیا گیا ہے، جن سے اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر مزید کارروائیاں جاری ہیں۔\n\nشاہد رند کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیم کے سہولت کاروں اور پشت پناہ عناصر کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور ریاست پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔\n\nانہوں نے اس آپریشن کو بلوچستان اور ملک کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور مشکوک عناصر کی نشاندہی کریں۔\n\nانہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے بیرونی آقاؤں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبی ایل اے نے رواں سال جنوری میں پاکستان میں حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی تھی، جسے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کا نام دیا گیا، جس کے دوران صوبے کے نو اضلاع میں خودکش دھماکے اور مسلح حملے کیے گئے۔\n\nحکام کے مطابق ان حملوں میں 274 افراد جان سے گئے تھے۔\n\nجس کے بعد پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا تھا وہ بی ایل اے کو اپنی پابندیوں کی رجیم کے تحت ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرنے کے لیے کام کرے۔\n\nیہ گروہ غیر بلوچ افراد کو کر ٹارگٹ کلنگ، اجتماعی قتل اور انفراسٹرکچر پر مہلک تخریبی حملوں میں بھی ملوث رہا ہے۔\n\nکالعدم بی ایل اے ایک قوم پرست شدت پسند تنظیم ہے، جن کی عسکریت پسند کارروائیوں سے صوبہ انتشار کا شکار ہے۔\n\nبرطانیہ، پاکستان اور امریکہ سمیت کئی ممالک اسے ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے چکے ہیں، جن کے حملوں میں 2011 سے اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور اس نے خاص طور پر چینی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔\n\nبلوچستان\n\nسکیورٹی فورسز\n\nآپریشن\n\nعسکریت پسند\n\nاموات\n\nیہ کارروائی ایسے وقت کی گئی جب گذشتہ چند روز کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آئے تھے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, مئی 17, 2026 - 23:15\n\nMain image:\n\n> <p>پانچ ستمبر 2021 کو کوئٹہ کے جنوب مغربی شہر میں ایک چوکی کے قریب موٹرسائیکل پر سوار خودکش حملہ آور کے خود کو دھماکے سے اڑا لینے کے بعد سکیورٹی اہلکار دھماکے کی جگہ کا جائزہ لے رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبلوچستان: الگ الگ حملوں میں خاتون کانسٹیبل، اسسٹنٹ پروفیسر کی اموات، دالبندین میں تھانے پر حملہ\n\nآسٹریلیا نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی پر پابندیاں عائد کر دیں\n\nسلامتی کونسل بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے: پاکستان\n\nامریکہ کی جانب سے بی ایل اے، مجید بریگیڈ کو دہشت گرد قرار دینے پر پاکستان کا خیر مقدم\n\nSEO Title:\n\nانٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 35 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے: بلوچستان حکومت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 35 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے: بلوچستان حکومت"
}