{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidebfcv53zxadkj5w3l534sjh46disucilucxx5bb43ow46bwshey",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlyl2d3cauz2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifp6jkrymdzvie4pjegpxcn3v2fakqdo3tyrk7vf5jvk6crsx4lli"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 171877
  },
  "path": "/node/185934",
  "publishedAt": "2026-05-16T17:30:27.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "بلوچستان",
    "حملے",
    "عسکریت پسندی",
    "محمد عیسیٰ",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**بلوچستان میں ہفتے کو دالبندین، تربت، نوشکی اور مستونگ میں فائرنگ، حملوں اور توڑ پھوڑ کے مختلف واقعات میں ایک لیڈی پولیس کانسٹیبل اور براہوی زبان کے اسسٹنٹ پروفیسر جان سے گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔**\n\nوزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دونوں واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد خواتین، اساتذہ اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر خوف پھیلانا چاہتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کا قتل بلوچستان کے امن پر حملہ ہے جبکہ اساتذہ کو نشانہ بنانا صوبے کی علمی و ادبی شناخت پر حملہ ہے۔\n\nوزارت داخلہ بلوچستان کے ترجمان بابر یوسفزئی نے بتایا کہ پاک ایران بارڈر کے قریب واقع دالبندین شہر میں مسلح افراد نے پولیس سٹیشن اور جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کیا، تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔ ان کے مطابق مسلح افراد نے سرکاری عمارتوں میں توڑ پھوڑ اور آگ لگائی، جبکہ بعد ازاں ایک گھر میں پناہ لی، جسے فورسز نے گھیرے میں لے لیا۔\n\nبابر یوسفزئی کا کہنا تھا کہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ ایک مقامی پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ آور دالبندین تھانے سے 14 سے زائد قیدی بھی چھڑا کر لے گئے۔ ان کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد زخمی ہوئے۔\n\nنوشکی میں براہوی زبان کے اسسٹنٹ پروفیسر، شاعر اور ادیب غمخوار حیات کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ ایس ایس پی سلیم شاہوانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ غمخوار حیات پر نوشکی کے علاقے مینگل آباد میں حملہ کیا گیا، جہاں وہ شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔\n\nانہوں نے کہا کہ قتل کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے اور تحقیقات جاری ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے بیان میں کہا کہ ’پروفیسر غمخوار حیات کا قتل بلوچستان کی علمی، ادبی اور فکری اقدار پر حملہ ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nغمخوار حیات نے ماسٹرز کی ڈگری کے بعد 2014 میں براہوی زبان کے لیکچرر کے طور پر خدمات شروع کیں اور اس وقت ڈگری کالج نوشکی میں اسسٹنٹ پروفیسر تھے۔\n\nضلع کیچ کے علاقے تربت میں لیڈی پولیس کانسٹیبل شکیلہ کو نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت فائرنگ کر کے قتل کر دیا جب وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ کورٹ ڈیوٹی کے لیے جا رہی تھیں۔ پولیس کے مطابق حملہ آبسر ریسرچ فارم کے قریب کیا گیا۔\n\nپولیس حکام کے مطابق شکیلہ موقع پر ہی جان سے گئیں جبکہ ان کے شوہر اور آٹھ سالہ بیٹے زخمی ہوئے، تاہم ان کی گود میں موجود چھ ماہ کا بچہ محفوظ رہا۔\n\nمکران ڈویژن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل عمران قریشی نے بتایا کہ شکیلہ کو گذشتہ کئی ماہ سے شدت پسند گروہوں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں کہ وہ ملازمت چھوڑ دیں۔ ان کے مطابق شکیلہ کے شوہر پہلے ایک کالعدم تنظیم سے وابستہ رہے تھے لیکن بعد میں ہتھیار ڈال چکے تھے۔\n\nجمعے کو مستونگ اور نوشکی میں بھی مسلح افراد نے کوئٹہ ـ تفتان شاہراہ پر کارروائیاں کیں۔ پولیس کے مطابق مستونگ کے علاقے کانک میں کرومائیٹ لے جانے والی پانچ گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ نوشکی کے علاقے مَل میں مسلح افراد نے شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی چیکنگ کی اور ایک پل کو دھماکے سے اڑا دیا۔ ان حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔\n\nاسی دوران جمعرات کو مستونگ کے قریب سے گوادر یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر اور دو اساتذہ کو نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے تھے، جن کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔\n\nبلوچستان\n\nحملے\n\nعسکریت پسندی\n\nوزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کا قتل بلوچستان کے امن پر حملہ ہے جبکہ اساتذہ کو نشانہ بنانا صوبے کی علمی و ادبی شناخت پر حملہ ہے۔\n\nمحمد عیسیٰ\n\nہفتہ, مئی 16, 2026 - 22:30\n\nMain image:\n\n> <p>یکم فروری 2026 کو کوئٹہ کے مضافات میں بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملے کے ایک روز بعد ایک شخص نذرِ آتش پولیس سٹیشن میں جلی ہوئی گاڑیوں کے قریب کھڑا ہے (بنارس خان / اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nلڑکی کو اسلام آباد میں خودکش حملے کے لیے تیار کیا گیا: وزیراعلیٰ بلوچستان\n\nآسٹریلیا نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی پر پابندیاں عائد کر دیں\n\nبلوچستان میں حملے کا نشانہ بننے والی مائننگ کمپنی کون سی ہے؟\n\nبلوچستان: مائننگ کمپنی کی سائٹ پر حملہ، ترک شہری سمیت 10 قتل\n\nSEO Title:\n\nبلوچستان: الگ الگ حملوں میں خاتون کانسٹیبل، اسسٹنٹ پروفیسر کی اموات، دالبندین میں تھانے پر حملہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "بلوچستان: الگ الگ حملوں میں خاتون کانسٹیبل، اسسٹنٹ پروفیسر کی اموات، دالبندین میں تھانے پر حملہ"
}