{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreica3tbg5ilhvdkkmyde64jat3rvhujwos6o4ztgqml2bucvfbmuyy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mly4mq3s2up2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibakx72cljxle5ebxeb3n5igh5yj7kf3w3ogrgkkq6b6olfbe7kxu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 140063
  },
  "path": "/node/185932",
  "publishedAt": "2026-05-16T13:05:40.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "غزہ پر اسرائیلی حملہ",
    "اسرائیلی جارحیت",
    "حماس",
    "فضائی حملے",
    "روئٹرز",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**اسرائیلی فوج نے ہفتے کو کہا ہے کہ اس نے غزہ پر گذشتہ روز کیے گئے فضائی حملے میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ عزالدين الحداد کو قتل کر دیا ہے۔**\n\nیہ گذشتہ سال اکتوبر میں غزہ میں امریکہ کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی جانب سے قتل کیے جانے والے حماس کے سب سے سینیئر رہنما ہیں۔\n\nحماس کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ 1970 میں پیدا ہونے والے عزالدین الحداد اس حملے میں مارے گئے۔ تاہم حماس نے باضابطہ طور پر ان کی موت کا اعلان نہیں کیا۔\n\nغزہ کے وسط میں واقع مسجد الاقصیٰ شہدا میں ہفتے کو الحداد، ان کی اہلیہ اور 19 سالہ بیٹی کی مشترکہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔\n\nغزہ کے طبی حکام نے کہا کہ اسرائیل نے جمعے کو غزہ پر کم از کم دو حملے کیے، جن میں تین خواتین اور ایک بچے سمیت سات فلسطینی جان سے گئے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے وزیرِ دفاع کے ہمراہ جمعے کو ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ فوج نے حماس رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملہ کیا، تاہم اس وقت یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ وہ جان سے گئے ہیں یا نہیں۔\n\nنیتن یاہو اور وزیرِ دفاع کاٹز نے الزام لگایا کہ الحداد سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے منصوبہ سازوں میں شامل تھے، جن کے بعد اسرائیل نے غزہ پر جاری کارروائیاں شروع کیں۔\n\nانہوں نے الحداد پر ہزاروں اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کے قتل، اغوا اور نقصان کی ذمہ داری کا بھی الزام لگایا۔\n\n’دی گھوسٹ‘ کے لقب سے معروف الحداد ماضی میں اسرائیل کے کئی قاتلانہ حملوں سے بچ نکلے تھے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق وہ حماس کے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے کمانڈرز میں سے تھے اور 1980 کی دہائی میں تنظیم کے قیام کے بعد مختلف اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔\n\nغزہ پر اسرائیلی حملہ\n\nاسرائیلی جارحیت\n\nحماس\n\nفضائی حملے\n\nیہ گذشتہ سال اکتوبر میں غزہ میں امریکہ کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی جانب سے قتل کیے جانے والے حماس کے سب سے سینیئر رہنما ہیں۔\n\nروئٹرز\n\nہفتہ, مئی 16, 2026 - 18:00\n\nMain image:\n\n> <p>16 مئی 2026 کو غزہ سٹی میں جنازے کے دوران فلسطینی شہری حماس کے عسکری ونگ کے کمانڈر عزالدین الحداد کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں (روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nغیر مسلح ہوں گے نہ غیر ملکی تسلط قبول: حماس\n\nحماس غزہ میں 10 ہزار پولیس اہلکار اور ملازمتیں رکھنا چاہتی ہے: روئٹرز\n\nاسرائیل کے مددگار اور حماس مخالف ياسر ابو شباب ہلاک\n\nحماس سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں ملوث نہیں، جنگ بندی برقرار: ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nغزہ پر فضائی حملے میں حماس ملٹری ونگ کے سربراہ عزالدين الحداد جان سے گئے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "غزہ پر فضائی حملے میں حماس ملٹری ونگ کے سربراہ عزالدين الحداد جان سے گئے"
}