{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreieuzylttn2cpu45eys64vpnvegfirscmnp6i3lzavu66vo2jeig2i",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlxhrg2h5zb2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreietmppi7thwybpymlaiwu5v4o35wjugruubprciiuhzebexhhijbu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 87720
},
"path": "/node/185929",
"publishedAt": "2026-05-16T06:51:41.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"سعودی عرب",
"سائنس دان",
"سائنس میلہ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"نئی نسل",
"news"
],
"textContent": "**سعودی عرب کے نوجوان سائنس دانوں نے امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس میں منعقدہ ’ریجینیرون انٹرنیشنل سائنس اینڈ انجینئرنگ فیئر‘ (ISEF) 2026 میں 12 خصوصی ایوارڈز اپنے نام کیے۔**\n\nسعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق 70 ممالک کے 1,700 سے زائد طلبہ کے درمیان مقابلے میں سعودی وفد کو مختلف بین الاقوامی سائنسی اور تعلیمی اداروں کی جانب سے ان منصوبوں پر اعزازات دیے گئے جنہیں تحقیق کے معیار، عملی افادیت اور ابھرتے سائنسی شعبوں سے تعلق کے باعث سراہا گیا۔\n\nیہ ایوارڈز اس وقت سامنے آئے جب مقابلہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا تھا اور شرکا بڑے انعامات کے اعلان کے منتظر تھے۔\n\nسعودی عرب 2007 سے ہر سال آئی ایس ای ایف میں شرکت کر رہا ہے۔\n\nرواں سال سعودی وفد میں 40 طلبہ شامل تھے، جن میں سے 23 نے فینکس میں بالمشافہ جبکہ 17 نے ریاض سے آن لائن شرکت کی۔ طلبہ نے انجینیئرنگ، طبی علوم، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تحقیقی منصوبے پیش کیے۔\n\nتقریب کے موقع پر موہبہ نے ایک خصوصی سیمینار بھی منعقد کیا، جس میں باصلاحیت طلبہ کی شناخت، ان کی تربیت، اور انہیں عالمی سائنسی مقابلوں کے لیے تیار کرنے سے متعلق سعودی عرب کے طریقہ کار کو اجاگر کیا گیا۔\n\nسیمینار میں سائنسی نمائشوں کی تیاری، عالمی مقابلوں کے لیے طلبہ کی تربیت، اور جدت طرازی کے پروگراموں کی معاونت کے لیے عملے کو تیار کرنے کی حکمت عملیوں پر توجہ دی گئی، جو مملکت کے سائنسی نظام کو مضبوط بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔\n\n**’عزم کے سفیر‘**\n\nامریکہ اور کینیڈا میں سعودی ثقافتی اتاشی ڈاکٹر تهاني البيز نے کہا کہ اس ٹیم کی شرکت نوجوانوں پر سرمایہ کاری اور انہیں عالمی سائنسی فورمز پر مقابلے کے قابل بنانے کے سعودی عزم کی عکاس ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایس پی اے کے مطابق ڈاکٹر تهاني البيز نے کہا کہ طلبہ کے منصوبے توانائی، انجینیئرنگ، طبی علوم اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز جیسے قومی ترجیحی شعبوں سے متعلق تھے، جنہیں مملکت کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے اور معیشت کو متنوع بنانے کے اہداف کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں سعودی ثقافتی مشن اس وقت دنیا کی 30 بہترین جامعات میں زیرِ تعلیم 1,500 سے زائد سعودی سکالرشپ طلبہ کی نگرانی کر رہا ہے، اور انہیں یقین ہے کہ آئی ایس ای ایف کے کئی شرکا مستقبل میں انہی اداروں میں شامل ہوں گے۔\n\nطلبہ کو ’عزم کے سفیر‘ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر تهاني البيزنے وفد کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ عالمی سائنسی میدان میں مملکت کے لیے نئی کامیابیاں حاصل کرتے رہیں۔\n\nسعودی عرب\n\nسائنس دان\n\nسائنس میلہ\n\nایس پی اے کے مطابق 70 ممالک کے 1,700 سے زائد طلبہ کے درمیان مقابلے میں سعودی وفد کو مختلف بین الاقوامی سائنسی اور تعلیمی اداروں کی جانب سے ان منصوبوں پر اعزازات دیے گئے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, مئی 16, 2026 - 11:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">رواں سال سعودی وفد میں 40 طلبہ شامل تھے، جن میں سے 23 نے فینکس میں بالمشافہ جبکہ 17 نے ریاض سے آن لائن شرکت کی۔ طلبہ نے انجینیئرنگ، طبی علوم، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تحقیقی منصوبے پیش کیے(ایس پی اے)</p>\n\nنئی نسل\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کیسے کامیاب ہوئے\n\nحج پرمٹ صرف سرکاری ذرائع سے ہی حاصل کیا جائے: سعودی وزارت\n\nحج پرمٹ صرف سرکاری ذرائع سے ہی حاصل کیا جائے: سعودی وزارت\n\nسعودی عرب کو خطرہ پاکستان کے لیے بھی خطرہ ہے: ترجمان فوج\n\nSEO Title:\n\nبین الاقوامی سائنس اینڈ انجینئرنگ فیئر میں سعودی سائنس دانوں کے 12 ایوارڈز\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "بین الاقوامی سائنس اینڈ انجینئرنگ فیئر میں سعودی سائنس دانوں کے 12 ایوارڈز"
}