{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifk4fwauzqmp7svgivaaypuvvssfnumhfdmra5dqikve3ebbl3jay",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlwt5qfeyvi2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiguem2crd4yqymddsjcdzecrcx2ffeohgt6qje6hsisaqci3jcbte"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 135315
},
"path": "/node/185903",
"publishedAt": "2026-05-16T01:38:17.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"1965 جنگ",
"افغان جنگ",
"1971 کی جنگ",
"ایران جنگ",
"روس یوکرین جنگ",
"ڈاکٹر سید کلیم امام",
"نقطۂ نظر",
"news"
],
"textContent": "**جنگ کو اکثر اعداد و شمار تک محدود کر دیا جاتا ہے یعنی اموات، اخراجات اور تباہی کا پیمانہ۔ یہ اعداد و شمار شہ سرخیوں پر چھائے رہتے ہیں اور پالیسی مباحثوں کا رخ طے کرتے ہیں۔ لیکن یہ کہانی کا صرف ایک رخ پیش کرتے ہیں۔ گہری حقیقت کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل ہے۔**\n\nجب لڑائی رکتی ہے تو جنگ شاذ و نادر ہی ختم ہوتی ہے۔ اس کے اثرات باقی رہتے ہیں، یہ معاشروں کو نئی شکل دیتی ہے اور ایسے طریقوں سے جاری رہتی ہے جو کم دکھائی دیتے ہیں لیکن کہیں زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔\n\nروایتی طور پر جنگ کو ایک متعین واقعے کے طور پر سمجھا جاتا تھا۔ مطلب یہ کہ فوجیں لڑتی تھیں، جنگ بندی کے معاہدوں پر دستخط ہوتے تھے اور اس کے بعد تعمیر نو ہوتی تھی۔\n\nجنگ چاہے کتنی ہی تباہ کن کیوں نہ ہو، اسے عارضی سمجھا جاتا تھا۔ اب ایسا نہیں سمجھا جاتا اور جنگ کے سب سے سنگین نتائج ہتھیاروں کے خاموش ہونے کے کافی عرصے بعد سامنے آتے ہیں۔\n\nتاریخ اس کی واضح یاد دہانیاں کراتی ہے۔ ویت نام جنگ کی کئی دہائیوں بعد بھی، ایجنٹ اورنج کے اثرات کینسر، پیدائشی نقائص اور دائمی بیماریوں کی صورت میں اب بھی ظاہر ہوتے ہیں۔\n\nعراق میں، ڈیپلیٹڈ یورینیم کے استعمال سے جڑے طویل مدتی ماحولیاتی اور صحت پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔ یہ تنازعے کے فوری نتائج نہیں ہیں، بلکہ وہ سست اور نسلی نقصانات ہیں جو برسوں بعد بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔\n\n13 مئی 2026 کو جنوبی لبنان کے گاؤں جرجوع کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے کے مقام سے دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nپورے مشرق وسطیٰ میں، یہ رجحان تکلیف دہ حد تک واضح دکھائی دیتا ہے۔ غزہ، لبنان، شام اور یمن میں، جنگ نے نہ صرف شہروں کو تباہ کیا ہے بلکہ ان نظاموں کو بھی کمزور کر دیا ہے جو روزمرہ کی زندگی کو رواں دواں رکھتے ہیں۔ ہسپتال بمشکل کام کر رہے ہیں۔\n\nخوراک کا عدم تحفظ بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہے، اور بچوں کی ایک پوری نسل صدمے اور غیر یقینی صورت حال سے بھرے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے۔ جب تشدد میں کمی آ بھی جائے، تب بھی زندگی معمول پر نہیں آتی۔\n\nاسی دوران، تنازعات کی نوعیت بھی بدل گئی ہے۔ ایران سے جڑی جاری کشیدگی، اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان پیچیدہ گٹھ جوڑ، یہ واضح کرتے ہیں کہ جدید جنگوں کے اکثر کوئی فیصلہ کن نتائج نہیں نکلتے۔\n\nشدید فوجی کارروائیوں کے باوجود، بنیادی سیاسی تنازعات حل طلب رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو ہوتا ہے وہ کوئی حل نہیں، بلکہ ایک تکرار ہوتی ہے، یعنی کشیدگی اور جوابی کارروائیوں کا ایک ایسا چکر جو استحکام لائے بغیر عدم تحفظ کو طول دیتا ہے۔\n\nوسیع تر تناظر میں، آج کے تنازعات پراکسی محرکات، بیرونی مداخلت اور انفارمیشن وارفیئر سے تشکیل پاتے ہیں۔ یہ عناصر جنگوں کو طویل اور کم فیصلہ کن بنا دیتے ہیں۔\n\nبیرونی عناصر اکثر تنازعات کو حل کرنے کے بجائے انہیں برقرار رکھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں فتح شاذ و نادر ہی حتمی ہوتی ہے۔\n\nبہت سی جنگیں ایک ایسی بے چین کیفیت اختیار کر لیتی ہیں جہاں فعال تشدد میں تو کمی آ سکتی ہے، لیکن غیر یقینی صورت حال اور کمزوری برقرار رہتی ہے۔\n\nپاکستان کا اپنا تجربہ ان چھپی ہوئی قیمتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا اور سابق قبائلی علاقوں میں، برسوں کی عسکریت پسندی اور انسداد دہشت گردی کے آپریشنز نے آبادیوں کو بے گھر کیا ہے، روزگار کے ذرائع کو درہم برہم کیا ہے اور مقامی معیشتوں پر بوجھ ڈالا ہے۔\n\nبلوچستان میں طویل عدم تحفظ نے پسماندگی میں اضافہ کیا ہے اور شہریوں اور ریاست کے درمیان بداعتمادی کو گہرا کیا ہے۔ یہ اثرات ان لوگوں کی روزمرہ کی حقیقتوں کو شکل دیتے ہیں جو ان حالات سے گزرتے ہیں۔\n\nجدید جنگ کی نمایاں بات صرف اس کا دورانیہ ہی نہیں، بلکہ اس کے اہداف بھی ہیں۔ آج کا تنازع ریاست کو جوڑے رکھنے والے اداروں کو تیزی سے کمزور کرتا ہے۔\n\nوقت کے ساتھ، یہ زوال ایک نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے عوامی خدمت سے ہٹ کر اپنا اختیار منوانے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔\n\nعدالتیں اپنی آزادی کھو دیتی ہیں اور طرز حکمرانی کی ساکھ ختم ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی عوام کا اعتماد بھی اٹھ جاتا ہے۔\n\nہو سکتا ہے اس کے نتائج فوری نہ ہوں، لیکن یقیناً گہرے ہوتے ہیں۔ جب قانون کی حکمرانی کمزور ہوتی ہے، تو احتساب دم توڑ دیتا ہے، استثنیٰ میں اضافہ ہوتا ہے، بدعنوانی جڑ پکڑتی ہے، شکایات کے انبار لگ جاتے ہیں اور شہریوں اور ریاست کے درمیان تعلق ٹوٹنے لگتا ہے۔\n\nایسے حالات میں، لوگ اکثر رسمی اداروں سے منہ موڑ لیتے ہیں اور اس کے بجائے تحفظ اور بقا کے لیے مقامی طاقت کے ڈھانچوں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ صرف عدم استحکام کو طول نہیں دیتا بلکہ اسے اس طرح نئی شکل دیتا ہے جسے پلٹنا کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔\n\nمادی نقصان کی تلافی کی جا سکتی ہے، شہروں کو دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے، بنیادی ڈھانچہ بحال کیا جا سکتا ہے، لیکن اداروں کی تباہی اپنے پیچھے ایک گہرا خلا چھوڑ جاتی ہے۔\n\nاعتماد، قانونی حیثیت اور طرز حکمرانی کی ساکھ کو صرف وسائل سے دوبارہ نہیں بنایا جا سکتا اور ان کے لیے وقت، تسلسل اور ایک فعال سماجی معاہدے کی ضرورت ہوتی ہے۔\n\nحالیہ تاریخ اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے۔ 2003 کے بعد عراق میں، ریاستی اداروں کے زوال نے مسلسل غیر یقینی صورت حال اور مسلح گروہوں کے ابھرنے میں اہم کردار ادا کیا۔\n\n2011 کے بعد لیبیا کی تقسیم اور افغانستان میں تنازعات کے بار بار چلنے والے ادوار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایک بار جب اداروں کی بنیادیں کمزور ہو جائیں تو استحکام بحال کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ محض اکا دکا واقعات نہیں ہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔\n\nشاید جدید جنگ کا سب سے دیرپا اثر وہ طریقہ ہے جس سے یہ معاشروں کو اندر سے نئی شکل دیتی ہے۔ تنازعات والے علاقوں میں پلنے بڑھنے والوں کے لیے، جنگ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل کیفیت کا نام ہے۔\n\nعدم تحفظ، تعلیم میں خلل اور محدود مواقع کا سامنا طویل مدتی نقوش چھوڑتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس سے ایسی نسلیں پیدا ہوتی ہیں جن کے لیے عدم استحکام ایک تلخ حقیقت بن جاتا ہے۔\n\nایسے ماحول میں صرف تعمیر نو ہی کافی نہیں ہے۔ انفراسٹرکچر بنانا ضروری ہے، لیکن یہ تنازعے سے پیدا ہونے والے ان گہرے نقصانات کو پورا نہیں کرتا۔ اداروں پر اعتماد اور طرز حکمرانی پر یقین کے بغیر بحالی نامکمل ہی رہتی ہے۔\n\nایک پیچیدہ اور غیر مستحکم علاقائی تناظر میں کام کرنے والے پاکستان جیسے ممالک کے لیے، یہ ایک مشکل توازن پیش کرتا ہے۔ سکیورٹی خطرات کا جواب دینا ضروری ہے، لیکن جواب دینے کا طریقہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔\n\nایسے اقدامات جو اداروں کی ساکھ کو کمزور کرتے ہیں یا سماجی تقسیم کو گہرا کرتے ہیں، ان سے طویل مدتی نقصانات کا خطرہ پیدا ہوتا ہے جو قلیل مدتی فوائد پر بھاری پڑ سکتے ہیں۔\n\nاستحکام کو صرف طاقت کے ذریعے یقینی نہیں بنایا جا سکتا بلکہ اس کا انحصار قانونی حیثیت، احتساب اور اعتماد پر ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nلہٰذا جدید جنگ میں مرکزی سوال اب یہ نہیں رہا کہ کون جیتتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ باقی کیا بچتا ہے۔ علاقے واپس لیے جا سکتے ہیں اور شہر دوبارہ تعمیر کیے جا سکتے ہیں، لیکن جب ادارے کمزور پڑ جاتے ہیں اور اعتماد ختم ہو جاتا ہے، تو اس کے نتائج دیرپا ہوتے ہیں۔\n\nاصل میدان جنگ اب صرف جسمانی جگہ نہیں رہی بلکہ یہ طرز حکمرانی کی لچک اور اداروں کی طاقت ہے۔\n\nجب تک جنگ کو اس کی تباہی کے بجائے اس کے چھوڑے ہوئے اثرات کے حوالے سے ان شرائط پر نہیں سمجھا جاتا، تب تک اس کی سب سے سنگین اور دیرپا قیمتوں کو نظر انداز کیا جاتا رہے گا۔\n\nبشکریہ عرب نیوز\n\nمصنف سابق وفاقی سیکرٹری اور آئی جی پی ہیں۔ انہوں نے سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی کی ہے اور وہ قانون اور فلسفہ پڑھاتے ہیں۔ ایکس: Kaleemimam@۔ ای میل: skimam98@hotmail.com۔ فیس بک: syedkaleemimam@\n\n_نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\n1965 جنگ\n\nافغان جنگ\n\n1971 کی جنگ\n\nایران جنگ\n\nروس یوکرین جنگ\n\nجب لڑائی رکتی ہے تو جنگ شاذ و نادر ہی ختم ہوتی ہے۔ یہ جنگ ایسے طریقوں سے جاری رہتی ہے جو کم دکھائی دیتے ہیں لیکن کہیں زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔\n\nڈاکٹر سید کلیم امام\n\nہفتہ, مئی 16, 2026 - 06:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\"> 14 مئی 2026 کو یوکرین کے دارالحکومت کیئف میں روسی ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد آگ بجھانے والا عملہ تباہ شدہ پٹرول سٹیشن کے مقام پر کام کر رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nاپنے جواب میں جنگ کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا: ایران\n\nپاکستان انڈیا جنگ کا ایک سال: جب لوگ ’انڈین ڈرون کباڑ میں بیچتے رہے‘\n\n’جنگ سے قبل خرچہ 10 اور اب 30 ہزار‘: مہنگے ڈیزل سے ماہی گیر بھی پریشان\n\nانڈیا کے ساتھ مئی کی 88 گھنٹوں کی جنگ کا آغاز کیسے ہوا؟\n\nSEO Title:\n\nجدید دور کی جنگ کی پوشیدہ قیمت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "جدید دور کی جنگ کی پوشیدہ قیمت"
}