{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreif44iun5pqlvc6yjqyciduybs5lwkuc3ufh4jyyq5sagauowdjrqy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlwmhsbbsfk2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreif2idqydg32bfl7blpvjwo2nchalnm3f523grrknew4fd4sg5pxci"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 60016
},
"path": "/node/185915",
"publishedAt": "2026-05-15T04:29:55.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بچے",
"ڈاکٹر",
"فیصل آباد",
"عمران ملک",
"صحت",
"video"
],
"textContent": "**فیصل آباد کے چلڈرن ہسپتال میں کام کرنے والی گولڈ میڈلسٹ ڈاکٹر نگینہ شہزادی بچوں کے معدے اور جگر کے امراض کی ماہر ہیں اور بچوں کے معدے سے بیٹریاں، سکے، کھلونوں کے چھوٹے پارٹس اور حتیٰ کہ بلیڈ جیسی خطرناک اشیا نکالنے جیسے پیچیدہ کیسز سنبھال چکی ہیں۔**\n\nان کے مطابق یہ مسئلہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ بعض اوقات بچوں کی جان کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔\n\nڈاکٹر نگینہ شہزادی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے ایم بی بی ایس کے دوران مختلف مضامین میں سات گولڈ میڈل حاصل کیے۔\n\nوہ فیصل آباد کی واحد پیڈیاٹرک گیسٹرواینٹرولوجسٹ ہیں اور اس وقت چلڈرن ہسپتال اینڈ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ فیصل آباد میں پیڈیاٹرک گیسٹرواینٹرولوجی، ہیپاٹولوجی اینڈ نیوٹریشن کے شعبے کی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔\n\nان کی نگرانی میں 2014 میں فیصل آباد میں بچوں کے معدہ و جگر کے امراض کے علاج کے لیے پہلا خصوصی وارڈ قائم کیا گیا، جس سے پہلے مریضوں کو لاہور، کراچی یا دیگر شہروں جانا پڑتا تھا۔\n\nڈاکٹر نگینہ شہزادی کے مطابق بچوں کا شعبہ انتہائی حساس ہے، جہاں معمولی سی غفلت بھی بڑے خطرے کا سبب بن سکتی ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ اب تک مختلف بچوں کے معدے سے 300 سے زائد مختلف اشیا نکالی جا چکی ہیں اور ہسپتال میں روزانہ ایسے کیسز سامنے آتے ہیں جن میں بچے کھیل کے دوران یا لاعلمی میں چیزیں نگل لیتے ہیں۔ اکثر بچے سکے، بیٹری سیل، نٹ بولٹ، کھلونوں کے چھوٹے حصے اور کبھی کبھار بلیڈ تک نگل لیتے ہیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ کئی مرتبہ والدین کو فوراً اندازہ نہیں ہو پاتا کیونکہ کم عمر بچے اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتے۔ جب بچے کو درد شروع ہوتا ہے یا ایکسرے کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کوئی چیز نگل لی تھی، اور بعض اوقات معمولی تاخیر بھی پیچیدگیاں پیدا کر دیتی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nڈاکٹر نگینہ کے مطابق حالیہ برسوں میں سب سے خطرناک کیسز بٹن سیلز اور مقناطیس نگلنے کے ہیں۔ گھڑیوں، ریموٹ کنٹرول اور کھلونوں میں استعمال ہونے والی چھوٹی گول بیٹریاں چند گھنٹوں میں اندرونی بافتوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر بچہ ایک سے زیادہ مقناطیس نگل لے تو آنتوں میں سوراخ یا رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔\n\nانہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بیٹریاں، مقناطیس، کھلونوں کے چھوٹے حصے، زیورات اور خطرناک کیمیکل بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں، خاص طور پر ایسے کیمیکل جو خالی بوتلوں میں رکھے جاتے ہیں۔\n\nان کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتال میں اینڈوسکوپی سمیت یہ مہنگا علاج مفت فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ بچوں کی جان بچائی جا سکے۔\n\nفیصل آباد ایگریکلچر یونیورسٹی کے پروفیسر شہزاد بسرا نے ڈاکٹر نگینہ شہزادی کے کام کو انتہائی قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور مہارت سے کئی معصوم بچوں کی زندگیاں بچائی جا چکی ہیں۔\n\nپروفیسر شہزاد بسرا نے بھی والدین پر زور دیا کہ وہ استعمال شدہ سیلز، چھوٹی دھاتی اشیا اور دیگر خطرناک چیزیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں تاکہ کسی حادثے سے بچا جا سکے۔\n\nبچے\n\nڈاکٹر\n\nفیصل آباد\n\nڈاکٹر نگینہ کے مطابق حالیہ برسوں میں سب سے خطرناک کیسز بٹن سیلز اور مقناطیس نگلنے کے ہیں۔\n\nعمران ملک\n\nجمعہ, مئی 15, 2026 - 09:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ڈاکٹر نگینہ شہزادی کے مطابق بچوں کا شعبہ انتہائی حساس ہے، جہاں معمولی سی غفلت بھی بڑے خطرے کا سبب بن سکتی ہے(انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nصحت\n\njw id:\n\nTmrL8h3d\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\n’غزہ: ڈاکٹرز انڈر اٹیک‘: بی بی سی پر نشر نہ ہونے والی فلم کے لیے بافٹا ایوارڈ\n\nعمران خان کی آنکھ کا چوتھا پروسیجر، سرکاری ڈاکٹر ’مطمئن‘\n\nآپ ڈاکٹروں کے لیے منا بھائی والے سبجیکٹ کب بنے؟\n\nڈاکٹر عافیہ صدیقی کا بھتیجا امریکہ میں قتل\n\nSEO Title:\n\nبچوں کے معدے سے سینکڑوں اشیا نکالنے والی ڈاکٹر والدین کو کیا مشورہ دیتی ہیں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "بچوں کے معدے سے سینکڑوں اشیا نکالنے والی ڈاکٹر والدین کو کیا مشورہ دیتی ہیں؟"
}