{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicbhxzdrr2cv3zkqelfnjsrapxtcqgqudpxmktjx23isl6e4wnmri",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlwmhjitlls2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigj2tanh34xukus2ajmzo2bumsi747mvle5rrusguxvqidsk5aa2y"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 133406
},
"path": "/node/185919",
"publishedAt": "2026-05-15T06:30:58.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"گرمی کی شدت",
"گرمی",
"درجہ حرارت",
"انڈیا",
"کراچی",
"ستوتی مشرا",
"ماحولیات",
"news"
],
"textContent": "**سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان بھر میں درجہ حرارت کا 40 ڈگری سیلسیئس کے بالائی ہندسوں تک پہنچ جانا اب شدید موسم کا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں رہا بلکہ یہ مون سون سے پہلے کے موسم کا ایک معمول بن چکا ہے۔**\n\nیہ نتیجہ ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن کی ایک تازہ تحقیق سے سامنے آیا ہے، جو ایک بین الاقوامی سائنسی اشتراک ہے اور شدید موسمیاتی واقعات میں انسانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والے موسمیاتی بحران کے کردار کا جائزہ لیتا ہے۔\n\nجمعرات کو شائع ہونے والی اس تحقیق میں شدید گرمی کے اس طویل دورانیے کا جائزہ لیا گیا جس نے وسط اپریل اور مئی کے اوائل کے درمیان انڈیا اور پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا۔\n\nجب کئی شہروں میں روزانہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 46 ڈگری سیلسیئس سے تجاوز کر گیا، جس کے نتیجے میں انڈیا میں گرمی سے کم از کم 37 اور پاکستان کے شہر کراچی میں 10 اموات ہوئیں۔\n\nتحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ موسمیاتی بحران نے اس طرح کی گرمی پڑنے کے امکانات کو تین گنا بڑھا دیا ہے اور خطرناک درجہ حرارت کا دورانیہ ہر سال طویل ہوتا جا رہا ہے۔\n\nاس گرمی کی وجہ سے خطے بھر میں بجلی کی طلب بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی کیوں کہ ٹھنڈک کی ضروریات میں اضافہ ہوا اور زرعی خشک سالی نے دس لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے کو متاثر کیا، جس سے کھیتی باڑی پر انحصار کرنے والے کروڑوں لوگوں کی غذائی سکیورٹی اور روزگار کو خطرہ لاحق ہو گیا۔\n\nسائنس دانوں کو معلوم ہوا ہے کہ آج کی آب و ہوا میں اس پیمانے کی گرمی اب تقریباً ہر پانچ سال میں ایک بار پڑتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی سال اپریل میں اس موسم بہار جیسی گرمی پڑنے کا 20 فیصد امکان موجود ہے۔\n\nصنعتی دور سے قبل کی آب و ہوا میں، اسی واقعے کے رونما ہونے کا امکان صرف ایک تہائی ہوتا، اور درجہ حرارت تقریباً ایک ڈگری کم ہوتا۔\n\nصرف گذشتہ دس سالوں میں ہی، جیسے جیسے دنیا مزید 0.4 ڈگری سیلسیئس گرم ہوئی ہے، اسی طرح کے واقعات کا امکان تقریباً 35 فیصد بڑھ گیا ہے اور یہ 0.3 ڈگری زیادہ گرم ہو گئے ہیں۔\n\nامپیریل کالج لندن میں انتہائی موسم اور موسمیاتی تبدیلی کی ریسرچ ایسوسی ایٹ اور اس تحقیق کی ایک مرکزی مصنفہ ڈاکٹر مریم زکریا نے کہا کہ ’جنوبی ایشیا میں جو کبھی شاذ و نادر پڑنے والی گرمی ہوا کرتی تھی اب وہ ایک باقاعدہ حقیقت بن چکی ہے۔‘\n\n’درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، جس سے انڈیا اور پاکستان میں کروڑوں لوگوں کے لیے جان لیوا حالات عام ہوتے جا رہے ہیں۔\n\nشاید سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ مون سون سے پہلے کا گرم دورانیہ مزید گرم اور طویل ہوتا جا رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ لوگ اب سال کے ایک بہت بڑے حصے میں شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں۔‘\n\nمحققین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی درجہ حرارت آج کی سطح سے مزید 1.3 ڈگری سیلسیس بڑھا تو اس موسم بہار کی ہیٹ ویو جیسے واقعات کا امکان دو گنا سے بھی زیادہ ہو جائے گا اور یہ تقریباً 1.2 ڈگری زیادہ گرم ہوں گے۔\n\nجس کا مطلب ہے کہ آج کے معیارات کے مطابق جسے پہلے ہی انتہائی شدید سمجھا جاتا ہے، وہ مستقبل کے معیارات کے لحاظ سے مون سون سے پہلے کا ایک ٹھنڈا موسم بن جائے گا۔\n\nیہ تحقیق اس بات کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ گرمی میں سب سے زیادہ شدت مئی کی بجائے اپریل میں آ رہی ہے، جو سیزن میں توقع سے پہلے ہے۔\n\nیہ اس لیے اہم ہے کیوں کہ سیزن کے شروع کی گرمی سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیوں کہ آبادیاں ابھی اس کی عادی نہیں ہوتی ہیں، اور دریائے سندھ اور گنگا کی وادیوں میں نمی کا بڑھتا ہوا اثر گرمی کے دباؤ کو اس حد تک بڑھا دیتا ہے جو صرف خشک درجہ حرارت کی ریڈنگز سے ظاہر نہیں ہوتا۔\n\nپاکستان کے صوبہ بلوچستان کے جعفرآباد میں 30 مئی 2024 کو جاری گرمی کی لہر کے دوران ایک شخص پائپ کی مدد سے نہا رہا ہے (فدا حسین/ اے ایف پی)\n\n\n\n\nتحقیق میں حوالہ دی گئی ریسرچ کے مطابق، پاکستان کے پنجاب کے کچھ حصوں میں روایتی اینٹوں اور کنکریٹ کی عمارتوں کا اندرونی درجہ حرارت گرم ترین مہینوں کے دوران 45 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔\n\nاس کا سب سے زیادہ بوجھ ان لوگوں پر پڑتا ہے جن کے پاس سب سے کم تحفظ ہوتا ہے۔\n\nیہ تحقیق کھلی فضا میں کام کرنے والے مزدوروں، دیہاڑی داروں، ٹھنڈک کے بغیر کچے مکانات میں رہنے والے افراد، معمر افراد اور خواتین کو سب سے زیادہ خطرے سے دوچار قرار دیتی ہے، جس میں آمدنی، انفراسٹرکچر تک رسائی اور صنف سے جڑے خطرات میں گہرا فرق پایا جاتا ہے۔\n\nاس سال کی ہیٹ ویو کئی انڈین ریاستوں میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے ساتھ آئی، جس میں بڑی تعداد میں انتخابی اہلکار، ووٹرز اور مردم شماری کرنے والے شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے کام کر رہے تھے۔\n\nریڈ کراس ریڈ کریسنٹ کلائمیٹ سینٹر میں اربن اور ایٹریبیوشن کے سربراہ روپ سنگھ نے کہا کہ ’اگرچہ انڈیا اور پاکستان نے ہیٹ ایکشن پلانز میں سرمایہ کاری کی ہے۔\n\nلیکن یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ شدید گرمی بدستور کھلی فضا میں کام کرنے والے مزدوروں، کچے مکانات میں رہنے والے افراد اور دیہاڑی داروں کو غیر متناسب طور پر متاثر کر رہی ہے جو سب سے زیادہ خطرے کی زد میں اور کمزور ہیں۔‘\n\nروپ سنگھ نے کہا کہ سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو بڑھانے اور ہیٹ ویوز کو باضابطہ طور پر ایک آفت قرار دینے سے، جو کہ اس وقت انڈیا اور پاکستان دونوں ہی نہیں کرتے، آفات سے نمٹنے کے امدادی فنڈز کا اجرا ممکن ہو سکتا ہے اور ایک زیادہ جامع ردعمل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nامپیریل کالج لندن کے ایک اور ریسرچ ایسوسی ایٹ ڈاکٹر بین کلارک نے کہا: ’ہماری تحقیق بار بار یہ ظاہر کرتی ہے کہ خطرناک گرمی جو کبھی شاذ و نادر اور غیر معمولی ہوا کرتی تھی، تیزی سے معمول کا موسم بنتی جا رہی ہے۔‘\n\n’ہم موجودہ گرمی کی سطح کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہیں، اور یہ جان لیوا واقعات اپنی تعداد اور شدت دونوں میں اس وقت تک بڑھتے رہیں گے جب تک کہ ہم گیسوں کے اخراج میں فوری کمی نہیں لاتے۔‘\n\nتحقیق بتاتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں درجہ حرارت میں اضافہ دنیا کے دیگر حصوں کی نسبت کچھ کم ہے، جس کی ایک وجہ فضا میں ایروسولز کی زیادہ مقدار اور وسیع پیمانے پر ہونے والی آبپاشی ہے جو جزوی طور پر ٹھنڈک کا باعث بنتی ہے۔\n\nتاہم، جو عوامل خشک درجہ حرارت میں اضافے کو روکتے ہیں وہی زمینی سطح پر نمی میں بھی اضافہ کرتے ہیں، جس سے جسم پر پڑنے والا گرمی کا اصل دباؤ بڑھ جاتا ہے۔\n\nخاص طور پر کھلی فضا میں جسمانی مشقت کرنے والے افراد کے لیے، جن کی پسینے کے ذریعے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت زیادہ نمی میں متاثر ہوتی ہے۔ جب نمی کو شامل کر کے ہیٹ انڈیکس کو ماپا جاتا ہے تو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور بھی زیادہ واضح ہو جاتے ہیں۔\n\nگرمی کی شدت\n\nگرمی\n\nدرجہ حرارت\n\nانڈیا\n\nکراچی\n\nتحقیق کے مطابق ماحولیاتی بحران نے انتہائی گرمی کے امکان کو تین گنا بڑھا دیا ہے۔\n\nستوتی مشرا\n\nجمعہ, مئی 15, 2026 - 11:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">21 اپریل 2025 کی اس تصویر میں کراچی میں فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کا ایک رکن گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے ایک بزرگ شہری پر پانی کا چھڑکاؤ کر رہا ہے (اے ایف پی/ آصف حسن)</p>\n\nماحولیات\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nیورپ: گرمی اور بڑھتا درجہ حرارت سیاحت کو کیسے بدل رہے ہیں؟\n\nانڈیا: موسم گرما کے جلد آغاز سے گندم کی فصل کو خطرہ\n\nموسم گرما میں جیکب آباد سے لوگوں کی عارضی نقل مکانی میں اضافہ\n\n2008 کے موسم گرما میں ماؤنٹ ایورسٹ بیس کیمپ کا ایک سفر\n\nSEO Title:\n\nپاکستان اور انڈیا کے لیے 40 ’معمول‘ کا درجہ حرارت: سائنس دان\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/climate-change/news/india-pakistan-heatwave-deaths-b2977059.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پاکستان اور انڈیا کے لیے 40 ’معمول‘ کا درجہ حرارت: سائنس دان"
}