{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiaag6xd4ad6fdtsg3t3m5icyy3ddxzieqfgh6vqr6iip4cdr6bjau",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlwmgvzjcuf2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihopiqahd5dpfrgchsialy72i7puvzjurcwuavaebyklzzsrvs4ze"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 66206
},
"path": "/node/185922",
"publishedAt": "2026-05-15T12:47:29.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"کراچی",
"پولیس",
"منشیات",
"صالحہ فیروز خان",
"پاکستان",
"video"
],
"textContent": "**کراچی پولیس نے کوکین سمیت دیگر منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی کے کیس کو ’ٹیسٹ کیس‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات صرف کراچی تک محدود نہیں کیونکہ 2014 سے سرگرم ملزمہ کے نیٹ ورک میں غیر ملکی خواتین بھی شامل ہیں۔**\n\nکراچی پولیس اور وفاقی ادارے نے منگل 12 مئی کو ایک مشترکہ کارروائی میں گارڈن کے علاقے سے انمول عرف پنکی نامی خاتون کو گرفتار کیا تھا، جن پر الزام ہے کہ وہ منشیات فروشی کا منظم نیٹ ورک چلاتی ہیں۔\n\nانہیں اسی روز سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا تھا، جہاں عدالت نے ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ اس موقعے پر انمول عرف پنکی کی بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سندھ حکومت اور پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لے کر متعلقہ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا تھا۔\n\nجمعے کو ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) کراچی آزاد خان نے سینٹرل پولیس آفس میں دیگر سینیئر افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انمول عرف پنکی کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات جاری کیں اور بتایا کہ مجموعی طور پر ملزمہ کے خلاف 20 مقدمات سامنے آچکے ہیں۔\n\nکراچی پولیس چیف آزاد خان نے بتایا کہ انمول عرف پنکی 2014 سے منشیات کے دھندے میں سرگرم تھیں اور کراچی میں انہوں نے 2018 سے اپنا نیٹ ورک فعال کیا۔ ان کے مطابق جب ملزمہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریڈار پر آئیں تو وہ لاہور منتقل ہوگئیں۔\n\nانہوں نے انکشاف کیا کہ ملزمہ کے قبضے سے حاصل ہونے والے موبائل فون سے 869 رابطہ نمبرز برآمد ہوئے ہیں جبکہ ایک بینک اکاؤنٹ کی 500 سے زائد صفحات پر مشتمل اسٹیٹمنٹ بھی حاصل کرلی گئی ہے، جس میں تقریباً 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں۔\n\nپریس کانفرنس کے دوران آزاد خان کا کہنا تھا کہ انمول عرف پنکی کا کیس سندھ پولیس کے لیے ایک اہم ’ٹیسٹ کیس‘ کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے ’ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔‘\n\nبقول اے آئی جی: ’پنکی کا برانڈ نیم ہی اس کے گلے کا پھندا بنے گا۔‘\n\nایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) کراچی آزاد خان 15 مئی 2026 کو سینٹرل پولیس آفس میں دیگر سینیئر افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انمول عرف پنکی کے کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے (سندھ پولیس)\n\n\n\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ ’تحقیقات کا دائرہ صرف کراچی تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ ان افراد کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں، جو مبینہ طور پر ملزمہ سے منشیات حاصل کرکے آگے فروخت کرتے تھے۔‘\n\nان کے مطابق ملزمہ کے سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nآزاد خان نے مزید بتایا کہ پولیس نے سچل کے علاقے میں انمول عرف پنکی کے سابقہ گھر پر چھاپہ مارا ہے جہاں سے منشیات، خصوصاً کوکین، برآمد ہوئی اور اس حوالے سے الگ مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ منشیات بیرونِ شہر یا بیرونِ ملک سے کراچی لائی جاتی تھیں۔\n\nکراچی پولیس چیف نے بتایا کہ ’اس پورے نیٹ ورک میں تقریباً 20 خواتین شامل ہیں جن میں بعض غیر ملکی افریقی خواتین بھی شامل ہیں، جو اس وقت لاہور میں موجود ہیں۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف)، پنجاب پولیس اور ایف آئی اے سے رابطہ کیا جاچکا ہے جبکہ چار افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی کارروائی بھی جاری ہے۔\n\nآزاد خان نے بتایا کہ اگر منشیات سے ہونے والی اموات کا تعلق اس نیٹ ورک سے ثابت ہوا تو مزید مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ملزمہ سے تفتیش کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی سپیشل برانچ اور ڈی آئی جی کرائم شامل ہیں جبکہ وہ خود اس کمیٹی کی سربراہی کریں گے۔\n\nانہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سندھ پولیس دیگر اداروں کے ساتھ مل کر پورے منشیات فروش نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے اور اس کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔\n\n**انمول عرف پنکی آج عدالت میں پیش نہ ہو سکی، پولیس مزید ریمانڈ لینے کی خواہاں**\n\nدوسری جانب کراچی میں انمول عرف پنکی کو آج عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ ملزمہ کوجوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کی تین مختلف عدالتوں میں پیش کیا جانا تھا۔\n\nاس حوالے سے ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ فتح شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پولیس کو ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ 13 مئی سے 15 مئی تک ملا تھا اور ابھی ریمانڈ کے چند گھنٹے باقی ہیں۔ ممکن ہے جمعے کی رات تک ریمانڈ مکمل کر لیا جائے، جس کے بعد ملزمہ کو 16 مئی کی صبح عدالت میں پیش کیا جائے گا۔‘\n\nفتح شیخ نے ملزمہ کے خلاف مقدمات کے حوالے سے آگاہ کرتےبہوئے بتایا کہ ’انمول عرف پنکی کے خلاف ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے مختلف تھانوں میں 10 سے زائد مقدمات درج ہیں، جبکہ حالیہ کارروائی کے بعد مزید چار مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس مختلف کیسز کے حوالے سے تفتیش کر رہی ہے اور مزید شواہد اکٹھےکیے جا رہے ہیں۔‘\n\nتفتیشی افسر کے مطابق: ’پولیس عدالت میں مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا بھی کرے گی۔‘\n\nدوسری جانب ملزمہ کے وکیل صفائی میر ہدایت اللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’انمول پنکی کی صحت بہتر نہیں ہے، انہیں دمے اور گردوں میں پتھری کا مسئلہ ہے، تاہم ہم مستقبل ممیں عدالت سے درخواست بھی کریں گے کہ انمول کا طبی معائنہ کروایا جائے اور ان پر جو ٹارچر کیا جا رہا ہے، وہ ختم کیا جائے۔‘\n\nوکیل صفائی نے مزید بتایا کہ ’انمول عرف پنکی کے خلاف قتل، غیر قانونی اسلحہ اور منشیات کے مقدمات درج ہیں۔‘\n\nکراچی\n\nپولیس\n\nمنشیات\n\nکراچی پولیس نے کوکین سمیت دیگر منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی کے کیس کو ’ٹیسٹ کیس‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات صرف کراچی تک محدود نہیں کیونکہ 2014 سے سرگرم ملزمہ کے نیٹ ورک میں غیر ملکی خواتین بھی شامل ہیں۔\n\nصالحہ فیروز خان\n\nجمعہ, مئی 15, 2026 - 17:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی 12 مئی 2026 کو کراچی سٹی کورٹ میں پیشی کے موقعے پر (ویڈیو سکرین گریب/سوشل میڈیا)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nxqfp9iDe\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nکوکین کی ’سپلائر‘ انمول ہیں کون اور انہیں ’تحفظ‘ کون دے رہا تھا؟\n\nکراچی میں منشیات کی آن لائن فروخت کیسے ہوتی ہے؟\n\nڈرگ ڈیلر نے غلطی سے پولیس کو منشیات کی قیمتیں میسج کر دیں\n\nاسلام آباد کی یونیورسٹی میں ٹیکسی ڈرائیور منشیات بیچتا رہا: قائمہ کمیٹی میں انکشاف\n\nSEO Title:\n\n’پنکی‘ کے نیٹ ورک میں غیر ملکی خواتین بھی شامل، تحقیقات کراچی تک محدود نہیں: پولیس\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "’پنکی‘ کے نیٹ ورک میں غیر ملکی خواتین بھی شامل، تحقیقات کراچی تک محدود نہیں: پولیس"
}