{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiedv7d4tite2h3vtz3ukpr4edojb4prvrpvu4zzbvq45eec4m43bq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlwmgnokgu42"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreid5h2eicmxvg5mzyo6n2o3up4wzok5k3zigxfkfm74gzwg4aig2a4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 80606
},
"path": "/node/185924",
"publishedAt": "2026-05-15T15:54:28.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"سٹیٹ بینک آف پاکستان",
"گورنر سٹیٹ بینک",
"پاکستان",
"معیشت",
"زرمبادلہ",
"برآمدات",
"ترسیلات زر",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"news"
],
"textContent": "**سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر تین ارب ڈالر کی نچلی سطح سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔**\n\nکراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ نوید بھی سنائی کہ رواں مالی سال کے دوران ترسیلات زر 41 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح عبور کرنے کی توقع ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nجمیل احمد کے مطابق 2023 میں ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا تھا، جب درآمدات محدود ہو چکی تھیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر تھیں اور لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) کھلوانا بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا تھا۔\n\nتاہم انہوں نے کہا کہ ’اب صورت حال نمایاں طور پر بہتر ہو چکی ہے اور ماہانہ درآمدات اوسطاً پانچ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، جبکہ ایل سیز کھلوانے کے عمل میں بھی نمایاں آسانی آئی ہے۔‘\n\nکراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ مرکزی بینک کی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور ہنڈی و حوالہ جیسے غیر قانونی ذرائع کے خلاف سخت کارروائیوں نے معیشت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔\n\nانہوں نے بتایا: ’گذشتہ مالی سال میں ترسیلات زر 38 ارب ڈالر رہیں، جو اس سال بڑھ کر 41 ارب ڈالر سے زائد ہونے کی توقع ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہوں گی۔‘\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ ’مالی سال 2026 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہا جبکہ مجموعی خسارہ صفر سے ایک فیصد کے درمیان محدود رہنے کا امکان ہے۔‘\n\nگورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد 15 مئی 2026 کو کراچی میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایک تقریب میں شریک ہیں (کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری)\n\n\n\n\nمعاشی شرح نمو کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان ادارہ برائے شماریات کے اندازوں کے مطابق ابتدائی نو ماہ میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی جبکہ سٹیٹ بینک کے تخمینے کے مطابق سالانہ شرح نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔\n\nتاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی غیر یقینی صورت حال اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آخری سہ ماہی میں اثر انداز ہو سکتا ہے۔\n\nمہنگائی کے حوالے سے جمیل احمد نے کہا کہ مالی سال کے آخری حصے میں مہنگائی عارضی طور پر سات فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے، تاہم سٹیٹ بینک اسے درمیانی مدت میں پانچ سے سات فیصد کی حد میں رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور مستقبل میں اس میں بتدریج کمی متوقع ہے۔\n\nانہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کے فروغ کے لیے ضوابط کو آسان بنایا گیا ہے اور بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس شعبے کے لیے خصوصی فنانسنگ منصوبے تیار کریں۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ایس ایم ای فنانسنگ جون 2024 کے 491 ارب روپے سے بڑھ کر دسمبر 2025 تک 882 ارب روپے ہو گئی ہے جبکہ جون 2028 تک اسے 1.5 کھرب روپے تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔\n\nبرآمدات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عالمی معاشی سست روی اور اجناس کی قیمتوں میں کمی نے برآمدات کو متاثر کیا ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال چاول کی برآمدات نے نمایاں کردار ادا کیا، تاہم اس سال قیمتوں میں کمی کے باعث برآمدی آمدن میں تقریباً ایک ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔ رواں سال برآمدات تقریباً 30 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے، تاہم حکومت اس رجحان کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔\n\nگورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان کے نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن مکمل کر کے منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔\n\nانہوں نے واضح کیا کہ ایکسچینج کمپنیوں کی شرح مبادلہ مارکیٹ طے کرتی ہے اور سٹیٹ بینک اس میں براہ راست مداخلت نہیں کرتا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ملک میں ورچوئل اثاثوں کے لیے لائسنسنگ اور ریگولیٹری فریم ورک پر بھی پیش رفت جاری ہے۔\n\nسٹیٹ بینک آف پاکستان\n\nگورنر سٹیٹ بینک\n\nپاکستان\n\nمعیشت\n\nزرمبادلہ\n\nبرآمدات\n\nترسیلات زر\n\nمرکزی بینک کے گورنر نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہا جبکہ مجموعی خسارہ صفر سے ایک فیصد کے درمیان محدود رہنے کا امکان ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, مئی 15, 2026 - 20:45\n\nMain image:\n\n> <p>دو مارچ، 2023 کی اس تصویر میں کراچی کا ایک کرنسی ڈیلر ڈالر گن رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nتیل پر موخر ادائیگی کی سعودی سہولت سے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں گے: شہباز شریف\n\nایران جنگ سے معیشت کو نقصان پہنچا لیکن سعودی سپورٹ سے مستحکم رہے: وزیراعظم\n\nاقتصادی سروے: مہنگائی اور قرضے بڑھے، مالی خسارہ کم ہوا\n\nکیا ڈیجیٹل معیشت پاکستان کو قرضوں سے نجات دلا سکتی ہے؟\n\nSEO Title:\n\nزرمبادلہ ذخائر 3 ارب ڈالر سے 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے: گورنر سٹیٹ بینک\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "زرمبادلہ ذخائر 3 ارب ڈالر سے 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے: گورنر سٹیٹ بینک"
}