{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreifeifulvzbcjz44ggxytjmbvxjqhllenqlxsgw6we2lmjamaz75ga",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mltvbtagiuu2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreif5opldv3wuhzmgyoxms56naz5zcuflvbpxx3kcrb2ra4kp24jtiq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 79665
  },
  "path": "/node/185902",
  "publishedAt": "2026-05-14T05:54:08.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "غزہ",
    "اسرائیل",
    "فلسطین",
    "جم",
    "نوجوان",
    "روئٹرز",
    "نئی نسل",
    "video"
  ],
  "textContent": "**خان یونس کی ایک تباہ شدہ عمارت کے تہہ خانے میں ایک چھوٹا سا جم قائم تھا، جسے دیکھ کر کوئی بھی اسے ورزش کے لیے مناسب جگہ نہیں کہہ سکتا تھا۔**\n\nدیواروں پر دراڑیں، چھت سے گرتا ملبہ، اور ہر لمحہ گرنے کا خطرہ، یہ سب کچھ وہاں موجود نوجوانوں کے حوصلے کو کم نہ کر سکا۔\n\nاسی جگہ 26 سالہ احمد فرونہ بھی روزانہ آتے تھے۔ وہ ایک تن ساز تھے جنہوں نے جنگ کے سخت حالات میں نہ صرف اپنا وزن کم ہوتے دیکھا بلکہ اپنے خوابوں کو بھی ڈگمگاتے محسوس کیا۔\n\nدو سال سے زائد جاری رہنے والی اس جنگ نے ان سے دس کلو سے زیادہ وزن چھین لیا، مگر ان کے ارادے کو نہیں ہلا سکی۔\n\nجب شہر کے جم بند ہو گئے، تو احمد نے ہار نہیں مانی۔ وہ کنکریٹ کے ٹکڑوں سے خود ہی ڈمبلز بنا کر مشق کرتے رہے۔\n\nان کے لیے ورزش صرف مسل بنانے کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ ذہنی سکون حاصل کرنے کا ایک راستہ بھی تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nجم کا داخلی حصہ ملبے سے بھرا ہوا تھا، اور اندر موجود ہر فرد جانتا تھا کہ چھت کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔\n\nمگر اس خطرے کے باوجود نوجوان وہاں جمع ہوتے، وزن اٹھاتے اور ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے۔\n\nاحمد المجايدة جو وہاں تربیت لے رہے تھے کہتے ہیں کہ یہ منظر غزہ کی اصل تصویر ہے تباہی کے بیچ جینے کی امید۔\n\nہر پسینہ بہاتا لمحہ ان کے لیے صرف ورزش نہیں بلکہ بقا کی جنگ تھا۔\n\nاحمد فرونہ کی آنکھوں میں اب بھی ایک خواب زندہ تھا: آج ہم ملبے کے نیچے اپنے جسم بنا رہے ہیں، ان شااللہ ایک دن ہم غزہ کو بھی دوبارہ تعمیر کریں گے۔‘\n\nغزہ\n\nاسرائیل\n\nفلسطین\n\nجم\n\nنوجوان\n\nدیواروں پر دراڑیں، چھت سے گرتا ملبہ، اور ہر لمحہ گرنے کا خطرہ، یہ سب کچھ وہاں موجود نوجوانوں کے حوصلے کو کم نہ کر سکا۔\n\nروئٹرز\n\nجمعرات, مئی 14, 2026 - 10:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">چھ مئی، 2026 کی اس تصویر میں غزہ کے علاقے خان یونس کے ایک جم میں فلسطینی نوجوان احمد فرونہ ورزش کرتے ہوئے(روئٹرز)</p>\n\nنئی نسل\n\njw id:\n\nZi05OyXd\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\n’غزہ: ڈاکٹرز انڈر اٹیک‘: بی بی سی پر نشر نہ ہونے والی فلم کے لیے بافٹا ایوارڈ\n\nاقوام متحدہ غزہ میں سعودی امدادی سرگرمیوں کا معترف\n\nغزہ: گڑیا بنا کر بچوں میں خوشیاں بانٹتی فلسطینی معلمہ\n\nپاکستان سمیت 11 ممالک کی غزہ فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت\n\nSEO Title:\n\nخستہ عمارت میں قائم جم اور غزہ کے نوجوان کے حوصلے کی کہانی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "خستہ عمارت میں قائم جم اور غزہ کے نوجوان کے حوصلے کی کہانی"
}