{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiaej2ld57w4v6z5x6oaualqrxzqyw4x4lhsq5p77qcg2nxfcqgrkm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mltvbjsqe4j2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreieec6rpl47iesf65ycmetnbvmy4hrkfxaxuundvymppqiy2i5lt34"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 81730
},
"path": "/node/185905",
"publishedAt": "2026-05-14T07:45:47.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاکستان",
"بلوچستان",
"گوادر",
"محمد عیسیٰ",
"news"
],
"textContent": "**بلوچستان میں صوبائی وزارت داخلہ کے ترجمان نے جمعرات کو بتایا کہ ساحلی شہر گوادر کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر سمیت چار افراد کو مسلح افراد نے بدھ کی رات دیر گئے مستونگ کے قریب کھڈ کوچہ سے اغوا کر لیا۔**\n\nانڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ترجمان بابر یوسفزئی نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر دی اور ’مختلف مقامات پر چھاپوں اور تلاشی کا عمل شروع کر دیا گیا۔ امید ہے کہ جلد مغویوں کو بازیاب کرا لیا جائے گا۔‘\n\nان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر منظور، پرائیوٹ سیکریٹری ڈاکٹر ارشاد اور ڈرائیور جمعرات کو صبح گوادر سے کوئٹہ کی جانب جارہے تھے کہ مستونگ کے قریب کھڈکوجہ کے مقام این اے 25 پر مسلح افراد نے انہیں اغوا کر لیا۔\n\nپروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کو حکومتِ بلوچستان نے 25 اکتوبر 2021 کو یونیورسٹی آف گوادر کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے 29 اکتوبر 2021 کو عہدے کا چارج سنبھالا تھا اور وہ چار سال سے وائس چانسلر کے عہدے پر تعینات ہیں۔\n\nگوادر میں جنوری 2017 میں یونیورسٹی آف تربت کے سب کیمپس کے طور پر تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوئیں اور 25 اکتوبر 2021 کو یہ مکمل خودمختار یونیورسٹی بن گئی۔\n\nاس وقت یونیورسٹی میں 2000 طلبا زیر تعلیم ہیں اور یونیورسٹی آف گوادر میں دو فیکلٹیز کام کر رہی ہیں جن میں فیکلٹی آف مینیجمنٹ سائنسز، کامرس اینڈ سوشل سائنسز اور فیکلٹی آف سائنسز، انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی شامل ہیں۔\n\nپاکستان\n\nبلوچستان\n\nگوادر\n\nانڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ترجمان بابر یوسفزئی نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر دی اور ’مختلف مقامات پر چھاپوں اور تلاشی کا عمل شروع کر دیا گیا۔ امید ہے کہ جلد مغویوں کو بازیاب کرا لیا جائے گا۔‘\n\nمحمد عیسیٰ\n\nجمعرات, مئی 14, 2026 - 12:45\n\nMain image:\n\n> <p>صوبائی وزارت داخلہ کے ترجمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ گوادر کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر سمیت چار افراد کو مسلح افراد نے جمعرات کو مستونگ کے قریب کھڈ کوچہ سے اغوا کر لیا(تصویر: یونیورسٹی آف گوادر)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nطیارے نہ مسافر: گوادر کا نیا ائیرپورٹ ’سفید ہاتھی‘ ثابت ہوا ہے؟\n\nساحل پر لگا گوادر کا آرٹس سکول جہاں ’رنگوں میں خواب بستے ہیں‘\n\nگوادر میں کتب میلہ، موسمیاتی تبدیلی مرکزی موضوع\n\nSEO Title:\n\nگوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت چار افراد اغوا: ترجمان صوبائی وزارت داخلہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت چار افراد اغوا: ترجمان صوبائی وزارت داخلہ"
}