{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigislwfxotymt6heg2ddmrzsqdhvkcq3lsbdrr6xypaeqml4xphye",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mltvbfq56p72"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidenqeq7h3vno6phbl34kcvj5u2677fftqsv26dqdo2pmj5qq7ttu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 78136
  },
  "path": "/node/185906",
  "publishedAt": "2026-05-14T10:41:52.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "افغانستان",
    "افغان طالبان",
    "روس",
    "روئٹرز",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**روس کے ایک سینیئر سکیورٹی عہدیدار نے جمعرات کو کہا ہے کہ ماسکو افغانستان کی طالبان حکومت سے ’مکمل شراکت داری‘ قائم کر رہا ہے اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی کابل کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ترغیب دے رہا ہے۔**\n\nروس گذشتہ سال طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا تھا۔ طالبان نے اگست 2021 میں اُس وقت اقتدار سنبھالا تھا جب امریکہ کی قیادت میں غیر ملکی افواج نے 20 سالہ جنگ کے بعد افغانستان سے انخلا کیا۔\n\nانٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق روسی عہدیدار سرگئی شوئیگو نے کہا کہ کابل کے ساتھ تعاون خطے کی سلامتی اور ترقی کے لیے اہم ہے۔\n\n25 نومبر 2024 کو لی گئی اور طالبان کے نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں افغانستان کا وفد (بائیں)، جس کی قیادت نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور عبدالغنی برادر کر رہے ہیں، کابل کے چاہار چنار محل میں روسی وفد کے ساتھ دوطرفہ ملاقات میں شریک ہے، جس کی قیادت روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو کر رہے ہیں۔ (طالبان نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور دفتر / اے ایف پی)\n\n\n\n\nروس کی سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری شوئیگو نے کہا کہ ماسکو طالبان کے ساتھ ایک ’عملی اور حقیقت پسندانہ مکالمہ‘ قائم کر رہا ہے، جس میں سکیورٹی، تجارت، ثقافتی روابط اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون شامل ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں چین، انڈیا، ایران، پاکستان اور کئی سابق سوویت ریاستیں شامل ہیں۔\n\nشوئیگو نے مزید کہا کہ ایس سی او کو افغانستان کے حوالے سے اپنا رابطہ گروپ دوبارہ فعال کرنا چاہیے۔\n\nروس نے 2003 میں طالبان کو ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے کر کالعدم کیا تھا، تاہم اپریل 2025 میں یہ پابندی ختم کر دی گئی۔ روس کا ماننا ہے کہ افغانستان سے مشرق وسطیٰ تک سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خطرات کے پیش نظر کابل کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔\n\nافغانستان\n\nافغان طالبان\n\nروس\n\nروس کی سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری شوئیگو نے کہا کہ ماسکو طالبان کے ساتھ ایک ’عملی اور حقیقت پسندانہ مکالمہ‘ قائم کر رہا ہے، جس میں سکیورٹی، تجارت، ثقافتی روابط اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون شامل ہے۔\n\nروئٹرز\n\nجمعرات, مئی 14, 2026 - 15:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">4 اکتوبر 2024 کو روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف (دائیں) ماسکو میں افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کے دوران مصافحہ کر رہے ہیں (ہینڈ آؤٹ / روسی وزارت خارجہ / اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nروس اور افغان طالبان کے درمیان گرمجوشی کی وجوہات کیا؟\n\nروس افغان جنگ کے 40 سال: جنگی پوسٹر کیا کہانی سناتے ہیں؟\n\nروس نے افغانستان پر حملہ کیوں کیا تھا؟\n\nماسکومذاکرات:’روس طالبان حکومت تسلیم کرنےپرغورنہیں کررہا‘\n\nSEO Title:\n\nافغان طالبان کی حکومت سے ’مکمل شراکت داری‘ قائم کر رہے ہیں: روس\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "افغان طالبان کی حکومت سے ’مکمل شراکت داری‘ قائم کر رہے ہیں: روس"
}