{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiew7i5mz4tdlhpastk5tsp5qacawxdosrsvbgrkm35xw7d4qsht2u",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mltvbai3g372"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihdzkseji4kvuzsji3443yo5abe34dt3cbvfsvqce7jpc4r64j3im"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 62700
  },
  "path": "/node/185908",
  "publishedAt": "2026-05-14T11:56:02.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ترجمان دفتر خارجہ",
    "ایران",
    "امریکہ",
    "صومالیہ",
    "بحری قزاق",
    "انڈیا",
    "مودی حکومت",
    "متحدہ عرب امارات",
    "قرۃ العین شیرازی",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل اب بھی جاری ہے اور اسلام آباد اس عمل میں ’مثبت اور پرامید‘ انداز میں شریک ہے۔**\n\nہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں دونوں فریقین کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔\n\n28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ حملے اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے بعد پاکستان نے ثالثی کی کوششیں کیں۔\n\n11 اور 12 اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں پہلے سے جاری دو ہفتوں کے لیے سیز فائر میں توسیع ممکن ہو سکی تھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس کے بعد سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی، تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے 10 مئی کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کو ایران کی جانب سے (مستقل جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز) پر ’جواب موصول ہوا ہے، لیکن انہوں نے اس کی کوئی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔\n\nجمعے کو بریفنگ کے بعد صحافیوں کی جانب سے کیے گئے سوال پر ترجمان نے کہا کہ گذشتہ ہفتے ایک تجویز موصول ہوئی تھی جسے فوری طور پر دوسرے فریق تک پہنچا دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق ’فی الحال معاملہ اسی مرحلے پر ہے۔‘\n\nطاہر اندرابی نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا، تاہم پاکستان اس تاخیر سے مایوس نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’امن کا عمل برقرار ہے، ہم پرامید ہیں اور رابطے میں ہیں۔‘\n\nترجمان نے مزید کہا کہ امن کے عمل کو بڑھانا بنیادی طور پر دونوں مرکزی فریقین کی ذمہ داری ہے، جبکہ سہولت کاروں کا کردار مثبت ماحول برقرار رکھنا اور رابطے جاری رکھنا ہوتا ہے۔ ’ہمیں مثبت رہنا اور رابطے برقرار رکھنے چاہییں اور کسی بھی ممکنہ تاخیر سے حوصلہ شکن نہیں ہونا چاہیے۔‘\n\nایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا تھا کہ ایران دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور وہ ثالث پاکستان کو اپنے موقف سے آگاہ کر دے گا۔\n\n**مودی کا دورہ متحدہ عرب امارات**\n\nانڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ متحدہ عرب امارات کل (بروز جمعہ) متوقع ہے۔\n\nبریفنگ کے دوران اس حوالے سے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان کے دفاعی تعلقات ہمارے ہمسایہ ملک کے کسی اور جگہ ایک وقتی دورے سے متاثر نہیں ہوتے۔ ہمارے دفاعی تعلقات بلکہ وسیع تر دوطرفہ سیاسی اور سفارتی تعلقات اپنی ایک الگ بنیاد، سمت اور ایک ادارہ جاتی مضبوطی رکھتے ہیں۔‘\n\nترجمان طاہر اندرابی نے مزید کہا: ’خلیجی اور مشرق وسطیٰ میں اپنے برادر ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات کے حوالے سے ہم جو بھی فیصلے کرتے ہیں، وہ اپنے عوامل کی بنیاد پر ہوتے ہیں، نہ کہ ہمارے ہمسایہ ملک کے کسی مخصوص دورے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔‘\n\n**صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کے لیے جبوتی کی دو رکنی ٹیم کا دورہ**\n\n21 اپریل کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں نے ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو اغوا کر لیا تھا، جس پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 پاکستانی شہری بھی شامل تھے، جنہیں قزاقوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے اس حوالے سے سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے جواب دیا: ’عملے کے ارکان کو اب بھی صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمال بنایا گیا ہے اور بدقسمتی سے ان کی رہائی ابھی تک یقینی نہیں بنائی جا سکی ہے۔ تاہم پاکستان کے سفارت خانے کی دو رکنی ٹیم، جو جِبوتی میں موجود ہے اور صومالیہ کے لیے بھی ذمہ دار ہے، گذشتہ ہفتے کے آخر میں موغادیشو گئی۔‘\n\nطاہر اندرابی نے مزید کہا: ’یہ ٹیم پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت گئی تھی اور اس نے صومالی وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور صومالی بحری و سمندری حکام کے ساتھ اہم ملاقاتیں کی ہیں۔‘\n\nان کے مطابق: ’ہمیں سب سے پہلے یہ بتایا گیا کہ پاکستانی عملے کے ارکان محفوظ ہیں اور انہیں خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔ حالانکہ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ مشکل حالات میں موجود ہیں، لیکن کم از کم ہمیں ان کی سلامتی اور تحفظ کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔‘\n\nترجمان نے مزید کہا کہ ’دوسری بات یہ بتائی گئی کہ قزاق براہ راست جہاز کے مالک کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ جہاز کا مالک مسلسل صومالی حکومتی حکام کو ان مذاکرات سے آگاہ رکھے ہوئے ہے۔ ہم نے متعلقہ حکام سے بھی بات کی جو اس معاملے میں رابطے میں ہیں۔‘\n\nطاہر اندرابی نے اس نوعیت کے واقعات سے متعلق کہا کہ ’ایسے واقعات کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ قزاق، جو صومالی شہری ہیں، متاثرہ افراد کی حکومتوں سے مذاکرات نہیں کرتے۔ وہ صرف جہاز کے مالکان سے بات چیت کرتے ہیں، کیونکہ یہ مذاکرات تاوان کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ہوتے ہیں۔‘\n\nترجمان نے کہا: ’لہذا یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ حکومت پاکستانی قزاقوں سے براہ راست مذاکرات کر سکتی ہے یا کرے گی۔ ایسا نہیں ہوتا اور نہ ہی انسداد قزاقی کے طریقہ کار میں یہ شامل ہے، بدقسمتی سے یہ ایک طویل عرصے سے جاری مسئلہ ہے اور اس طرح کے کئی واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں۔‘\n\nطاہر اندرابی نے کہا: ’ہم اپنے شہریوں کی حفاظت پر گہری تشویش رکھتے ہیں اور ان کی جلد رہائی کے خواہاں ہیں۔ ہم صومالی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور اس معاملے پر انگیجمنٹ جاری رکھیں گے۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ یہ معاملہ ہمارے صومالیہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں خصوصاً انسانی پہلو کے تناظر میں، انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم اس صورت حال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔‘\n\nگذشتہ روز یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ نے کہا تھا کہ اگر حکومت نے ان کے اہل خانہ کی بازیابی کے معاملے پر فوری توجہ نہ دی تو وہ بچوں سمیت بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔\n\nترجمان دفتر خارجہ\n\nایران\n\nامریکہ\n\nصومالیہ\n\nبحری قزاق\n\nانڈیا\n\nمودی حکومت\n\nمتحدہ عرب امارات\n\nپاکستان نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل اب بھی جاری ہے اور اسلام آباد اس عمل میں ’مثبت اور پرامید‘ انداز میں شریک ہے۔\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعرات, مئی 14, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی 14 مئی 2026 کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران (وزارت خارجہ فیس بک اکاؤنٹ)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران کے ساتھ سیزفائر ’لائف سپورٹ‘ پر ہے: صدر ٹرمپ\n\nپاکستان کو ایران کی جانب سے جواب موصول ہو گیا ہے: شہباز شریف\n\nصومالی قزاقوں سے یرغمالی بازیاب نہ ہوئے تو بھوک ہڑتال کریں گے: اہل خانہ\n\n’پتہ نہیں بابا کس حال میں ہیں؟‘ بحری جہاز پر یرغمال پاکستانی کی بیٹی\n\nSEO Title:\n\nایران امریکہ مذاکرات، پاکستان پرامید انداز میں عمل میں شریک: دفتر خارجہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "ایران امریکہ مذاکرات، پاکستان پرامید انداز میں عمل میں شریک: دفتر خارجہ"
}