{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreibagxmcug5xcjydfe5nph7uwm3epqi6kayrvuxhulqawrlpvgrqva",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mltvawmjhdu2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifwpejlejgcgxbv2prsaldpiitxdtlnaeqq6h3aqx5atunll7zwxy"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 98928
},
"path": "/node/185910",
"publishedAt": "2026-05-14T14:10:37.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"چین",
"اے آئی",
"ملازم",
"عدالت",
"جرمانہ",
"شویتا شرما",
"ٹیکنالوجی",
"news"
],
"textContent": "**چین کی ایک عدالت نے ایک ٹیک کمپنی کو کہا ہے کہ وہ اپنے سابق ملازم کو 28 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ رقم دے۔ اس ملازم کو اس وقت نوکری سے نکال دیا گیا تھا جب کمپنی نے اس کی جگہ اے آئی (مصنوعی ذہانت) نظام لگا دیا تھا اور عدالت نے اس برطرفی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔**\n\nکوالٹی اشورنس کے ماہر، جنہیں صرف ژو کے نام سے شناخت کیا گیا، کو مشرقی شہر ہانگژو میں کمپنی میں ان کے کام کو اے آئی سے بدلنے کے بعد تنزلی کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں 40 فیصد تنخواہ کٹوتی قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ جب ژو نے یہ شرائط ماننے سے انکار کیا تو انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔\n\nکمپنی کا مؤقف تھا کہ وہ تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے جس کے باعث عملے کی ضرورت کم ہو گئی اور اس نے 2022 میں کمپنی جوائن کرنے والے ژو کو تقریباً 33,500 پاؤنڈ بطور معاوضہ کی پیشکش کی۔\n\nژو نے یہ پیشکش مسترد کر دی اور معاملہ ثالثی پینل کے پاس لے گئے، جس نے ان کی برطرفی کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے زیادہ معاوضے کے دعوے کی حمایت کی۔\n\nکمپنی، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے ضلعی عدالت سے رجوع کیا لیکن اسے شکست ہوئی، جس کے بعد اس نے ہانگژو انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ میں اپیل کی، جہاں بھی فیصلہ ژو کے حق میں آیا۔\n\nعدالت نے قرار دیا کہ کمپنیاں صرف اس بنیاد پر ملازمین کو برطرف نہیں کر سکتیں کہ ان کی جگہ اے آئی سسٹمز لگا دیے جائیں۔\n\nعدالت کے مطابق کمپنی کی جانب سے پیش کی گئی برطرفی کی وجوہات نہ تو کاروباری کمی یا آپریشنل مشکلات جیسے منفی حالات میں آتی ہیں اور نہ ہی وہ اس قانونی شرط پر پوری اترتی ہیں جس کے تحت ملازمت کا معاہدہ جاری رکھنا ’ناممکن‘ ہو جائے۔\n\nعدالت نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کی بنیاد پر کمپنیاں یکطرفہ طور پر ملازمین کو فارغ نہیں کر سکتیں یا ان کی تنخواہیں کم نہیں کر سکتیں۔\n\nیہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں ٹیک ورکرز پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ کمپنیاں کم لاگت والے اے آئی سسٹمز کو تیزی سے اپنا رہی ہیں۔ رواں سال اب تک عالمی سطح پر 78 ہزار سے زائد ٹیک ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، جن میں سے تقریباً نصف اے آئی سے منسلک ہیں۔\n\nچین میں بھی کمپنیاں اے آئی ٹیکنالوجی اپنانے کی دوڑ میں شامل ہیں، جو اس شعبے میں عالمی برتری حاصل کرنے کی قومی حکمت عملی کا حصہ ہے۔\n\nتاہم اسی دوران حکومتی منصوبہ ساز لیبر مارکیٹ کے استحکام کو بھی ترجیح دے رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب معیشت سست روی کا شکار ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بلند ہے اعداد و شمار کے مطابق 16 سے 24 سال کے 17 فیصد افراد بے روزگار ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nچینی سرکاری میڈیا نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ خودکاری کے دور میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک ’حوصلہ افزا پیغام‘ ہے۔\n\nژجیانگ سے تعلق رکھنے والے وکیل وانگ ژویانگ، جو اس کیس میں شامل نہیں تھے، نے سرکاری خبر رساں ایجنسی سنہوا کو بتایا کہ اے آئی کو اپنانا خود بخود کمپنیوں کو ملازمت کے معاہدے ختم کرنے کا جواز فراہم نہیں کرتا۔\n\nیہ فیصلہ ایک اور مقدمے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک میپنگ کمپنی نے ایک طویل عرصے سے کام کرنے والے ڈیٹا کلیکٹر کی جگہ اے آئی نظام متعارف کروایا تھا۔\n\nکمپنی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ تبدیلی ’معروضی حالات میں بڑی تبدیلی‘ کے زمرے میں آتی ہے، جو چینی لیبر قوانین کے تحت ملازمت ختم کرنے کا جواز بن سکتی ہے، تاہم ثالثی کمیٹی اور عدالتوں نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔\n\nفیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ کمپنیوں کو اپنے کاروباری ماڈل میں اے آئی شامل کرنے کا حق ہے، لیکن یہ خود بخود ایسا بڑا تبدیلی نہیں بنتی جو ملازمت کے خاتمے کو قانونی جواز فراہم کرے۔\n\nکمیٹی نے کہا: ’ٹیکنالوجی کے فوائد سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ آجروں کو اپنی سماجی ذمہ داریاں بھی پوری کرنا ہوں گی۔‘\n\nچین\n\nاے آئی\n\nملازم\n\nعدالت\n\nجرمانہ\n\nچین میں عدالت نے اے آئی کے باعث ملازم کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دے کر کمپنی کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔\n\nشویتا شرما\n\nجمعرات, مئی 14, 2026 - 19:15\n\nMain image:\n\n> <p>شنگھائی میں 27 مارچ 2026 کو گلوبل ڈیولپر پائنیرز سمٹ کے دوران لوگ اے آئی اسسٹنٹ انسٹال کرنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسرکاری اداروں میں محفوظ اے آئی کے نفاذ کی تجویز\n\nڈیپ سیک کا نیا اے آئی ماڈل متعارف، حریفوں پر برتری کا دعویٰ\n\nجنریشن زی مصنوعی ذہانت سے بیزار کیوں ہو رہی ہے؟\n\n2027 میں انٹرنیٹ پر اے آئی بوٹس کی تعداد انسانوں سے زیادہ ہو گی\n\nSEO Title:\n\nچین: ملازم کی جگہ اے آئی سسٹم لگانے پر کمپنی کو جرمانہ\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/china/chinese-court-ai-job-loss-lawsuit-b2976410.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "چین: ملازم کی جگہ اے آئی سسٹم لگانے پر کمپنی کو جرمانہ"
}