{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiarw7ysygvfejo5ezowfsr5juxadqnddrcep5t5w5ni2ieh3anxru",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mltvaru7qq72"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifyjwvxjjwyytcmse6eiqrftm3cevc353aouqkxaj565eruxdzvee"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 58747
},
"path": "/node/185911",
"publishedAt": "2026-05-14T14:29:29.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"جے ڈی وینس",
"نائب صدر",
"امریکہ",
"مائیک بیڈیگن",
"news"
],
"textContent": "**وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کے نام ایک خط لکھ رکھا ہے، جو اُس صورت میں کھولا جائے گا، اگر صدر کو قتل کر دیا جائے۔**\n\nسیباسٹین گورکا، جو رواں مدت میں ٹرمپ انتظامیہ کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کی قیادت کر رہے ہیں، نے کہا کہ اگر صدر کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو مختلف ’پروٹوکولز‘ موجود ہیں، جن میں نائب صدر کے لیے ایک ذاتی پیغام کی موجودگی بھی شامل ہے۔\n\nسیباسٹین گورکا نے بدھ کو دی نیو یارک پوسٹ کے پوڈکاسٹ ’پوڈ فورس ون‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’ہمارے پاس پروٹوکولز ہیں، یقین کریں۔ میں ان پر بات نہیں کر سکتا، لیکن ہمارے پاس پروٹوکولز ہیں۔‘\n\nانہوں نے کہا: ’اوول آفس کے ڈیسک ’ریزیلوٹ ڈیسک‘ کی دراز میں ایک خط موجود ہے، جو نائب صدر کے نام ہے، اگر صدر کے ساتھ کچھ ہو جائے۔‘\n\nرواں برس جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے ممکنہ قتل کی صورت میں ’انتہائی سخت ہدایات‘ چھوڑ رکھی ہیں، خاص طور پر ایران کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے تناظر میں۔\n\nصدر نے نیوز نیشن کو بتایا تھا: ’میں نے نوٹس چھوڑ دیے ہیں کہ اگر کچھ بھی ہوا تو ہم ردِعمل میں پورا ملک اڑا دیں گے۔‘ اس وقت انہوں نے جے ڈی وینس کے نام کسی خط کا ذکر نہیں کیا تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nٹرمپ اس سے قبل بھی تین بار عوامی سطح پر قاتلانہ حملوں سے بچ چکے ہیں، جن میں تازہ ترین واقعہ گذشتہ ماہ وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر کے دوران پیش آیا، جب ایک مسلح شخص سکیورٹی توڑ کر صدر تک پہنچنے کی کوشش میں مبینہ طور پر آگے بڑھا۔\n\nویڈیو میں دکھایا گیا کہ 25 اپریل کو جے ڈی وینس کو فوری طور پر تقریب سے باہر لے جایا گیا، جبکہ ٹرمپ اپنی نشست پر موجود رہے، تاہم بعد میں صدر نے کہا کہ یہ ممکنہ طور پر ان کا اپنا فیصلہ تھا کیونکہ وہ ’یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔‘\n\nحکام کے مطابق ملزم، جس کی شناخت 31 سالہ کول ایلن کے طور پر ہوئی، کو موقعے پر ہی قابو کر لیا گیا، جب اس نے بال روم کے قریب سکیورٹی چیک پوائنٹ پر طویل فاصلے کے ہتھیار سے فائرنگ کی۔\n\nبعد ازاں کول ایلن کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس پر صدر کے قتل کی کوشش سمیت دیگر الزامات عائد کیے گئے اور اس نے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 26 اپریل، 2026 کو واشنگٹن میں ہونے والے حملے کے ملزم کول ایلن کی تصویر اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر شیئر کی۔\n\n\n\n\nٹرمپ اس سے قبل بھی 2024 کے صدارتی انتخاب سے پہلے دو مزید قاتلانہ حملوں میں بال بال بچے۔ پہلا واقعہ جولائی میں پنسلونییا کے شہر بٹلر میں ایک ریلی کے دوران پیش آیا تھا۔\n\nاس وقت کے رپبلکن صدارتی امیدوار کو تھامس کروکس نامی حملہ آور کی گولی کان کے قریب سے چھو کر گزری تھی، جس کے بعد سیکرٹ سروس نے انہیں فوراً محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ اس واقعے میں ایک شخص جان سے گیا اور دو زخمی ہوئے تھے، جبکہ جوابی کارروائی میں سنائپر نے حملہ آور کو مار دیا تھا۔\n\nدوسرا حملہ دو ماہ بعد فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں ٹرمپ کے انٹرنیشنل گالف کلب میں ہوا تھا، جہاں ریان روتھ نے گالف کھیلتے ہوئے صدر پر فائرنگ کی کوشش کی، جنہیں بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا اور مقدمے کی سماعت کے بعد عمر قید کی سزا سنائی گئی۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nجے ڈی وینس\n\nنائب صدر\n\nامریکہ\n\nٹرمپ انتظامیہ کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کی قیادت کرنے والے سیباسٹین گورکا کے مطابق اگر صدر کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو مختلف ’پروٹوکولز‘ موجود ہیں، جن میں نائب صدر کے لیے ایک ذاتی پیغام کی موجودگی بھی شامل ہے۔\n\nمائیک بیڈیگن\n\nجمعرات, مئی 14, 2026 - 19:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\"> 13 جولائی 2024 کو صدارتی انتخابات کے سلسلے میں پنسلوینیا کے شہر بٹلر میں ایک ریلی کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ گولی لگنے کے بعد سٹیج سے ہٹائے جانے کے باوجود پُرعزم انداز میں مکا لہراتے ہوئے (اینا منی میکر / گیٹی یامیجز / اے ایف پی)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nوائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ، امریکی صدر محفوظ رہے\n\nٹرمپ ڈنر فائرنگ: ملزم کا محرک ایران جنگ ہو سکتا ہے، رپورٹ\n\nٹرمپ پر قاتلانہ حملے میں استعمال ہونے والی بندوق کی تصاویر جاری\n\nٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟\n\nSEO Title:\n\nٹرمپ نے اپنے ممکنہ قتل کی صورت میں جے ڈی وینس کے لیے خط کہاں رکھا ہے؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.the-independent.com/news/world/americas/us-politics/trump-vance-letter-assassination-location-b2976122.html\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "ٹرمپ نے اپنے ممکنہ قتل کی صورت میں جے ڈی وینس کے لیے خط کہاں رکھا ہے؟"
}