{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreieklx7rr4bpjalzbrocjmsxnjsq6lfuvciqp46a7sc6bkhr2ee4pe",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mltvancnmnk2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibkco2g7linp7dmosz6edvb2vwlqxe5jdlz3zn55djqucieh4qlee"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 116596
  },
  "path": "/node/185912",
  "publishedAt": "2026-05-14T16:30:34.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "pic.twitter.com/XKFVcMLrqQ",
    "May 14, 2026",
    "پاکستان",
    "معیشت",
    "پانڈا بانڈ",
    "چین",
    "اظہار اللہ",
    "video",
    "@kschehzad"
  ],
  "textContent": "**وزارت خزانہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان نے پہلی بار چینی کرنسی یوآن میں بانڈ جاری کیا ہے جس کے ذریعے پہلے مرحلے میں 1.75 ارب یوآن (تقریباً 25 کروڑ ڈالر) جمع کیے گئے ہیں۔ اس بانڈ پر 2.5 فیصد منافع دیا جائے گا۔**\n\nیہ بانڈ جنہیں ’پانڈا بانڈ‘ کہا جاتا ہے، کے لیے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب چینی دارالحکومت بیجنگ گئے ہیں۔\n\n’پانڈا بانڈ‘ کا نام چین کے جانور اور قومی علامت پانڈا کے نام پر رکھا گیا ہے، جیسے جاپان میں اس کو ’سامورائی بانڈ‘ اور انڈیا میں ’مصالحہ بانڈ‘ کہا جاتا ہے۔\n\nپانڈا بانڈ جاری کرنا دراصل قرض حاصل کرنے کی ایک قسم ہے، جس میں پاکستان چین میں بانڈ جاری کر کے اسے چین کی مقامی مارکیٹ میں فروخت کرے گا، جس سے پاکستان کو قرضہ ملے گا اور اس کے بعد سود سمیت اسے واپس کیا جائے گا۔\n\nآسان الفاظ میں بات کی جائے تو پاکستان کی جانب سے چین میں پانڈا بانڈ جاری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان چینی مارکیٹ سے چینی کرنسی یوان میں قرض لیتا ہے اور یہی قرض چین کی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔\n\nسرمایہ کار بانڈز خرید کر پاکستان کو چینی کرنسی یوان دیں گے اور اسی یوان کرنسی کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان اپنے درآمدی بل ادا کر سکتا ہے۔\n\n> پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ: عالمی منڈیوں میں ایک تاریخی کامیابی\n>\n>  پاکستان نے چین کی مالیاتی منڈی میں اپنا پہلا \"پانڈا بانڈ\" کامیابی سے جاری کر دیا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ اس نے دنیا کی دوسری بڑی کیپٹل مارکیٹ تک رسائی حاصل کی ہے.\n>\n>  نمایاں نکات:\n>  کامیاب شروعات: یہ… pic.twitter.com/XKFVcMLrqQ\n>\n> — Khurram Schehzad (@kschehzad) May 14, 2026\n\nوفاقی وزارت خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق پانڈا بانڈ کا مجموعی حجم ایک ارب ڈالر ہوگا اور پہلے مرحلے میں 250 ملین ڈالر مالیت کے بانڈز جاری ہوں گے، جس سے وزارت خزانہ کے مطابق پہلی مرتبہ پاکستان کو چین کی مقامی سرمایہ کاری کی مارکیٹ تک رسائی ملے گی، جس سے معیشت مستحکم ہو سکتی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nسسٹینیبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق دنیا میں پانڈا بانڈ کی مجموعی مالیت 133 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس میں 55 فیصد بانڈ امریکہ اور چین نے جاری کیے تھے۔\n\nاعداد و شمار کے مطابق چین کی بانڈ مارکیٹ میں گذشتہ تین سالوں میں 13 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔\n\nاسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان نے 2024 میں پانڈا بانڈ میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد سنگل کرنسی یعنی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی یوان میں تجارت اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنا تھا، کیونکہ چینی سرمایہ کار مقامی کرنسی میں تجارت کو ترجیح دیتے ہیں۔\n\nگذشتہ ہفتے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ خلیج فارس میں کشیدہ صورت حال کی وجہ سے پاکستانی معیشت استحکام کی جانب بڑھی ہے، حالانکہ کشیدہ صورت حال اور آبنائے ہرمز کی بندش سے معیشت پر بوجھ ضرور پڑا ہے۔\n\nپاکستان عمومی طور پر ڈالر میں تجارت کرتا ہے اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ سے مقامی کرنسی پر بوجھ پڑتا ہے، جس سے معیشت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔\n\n**ماہرین کیا کہتے ہیں؟**\n\nشکیل احمد رامے ایشین انسٹی ٹیوٹ اف ایکو سیوک ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے سربراہ ہیں، جن کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان مالی تعاون بہت وسیع ہے اور اس کی مثال یہ ہے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تین بڑی کمپنیاں چین کی ہیں اور ان کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔\n\nانہوں نے پانڈا بانڈ جاری کرنے کے حوالے سے بتایا کہ اس وسیع مالی تعاون کو پانڈا بانڈ مزید مضبوط بنائیں گے۔\n\nشکیل احمد نے بتایا: ’امریکی مارکیٹ اور یورو بانڈ کی شرائط بہت سخت ہوتی ہیں لیکن پانڈا بانڈ کی شرائط اس کے مقابلے میں کم ہیں۔‘\n\nتجارتی تعاون کے حوالے سے شکیل کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ پاکستان کا سب سے زیادہ تجارت کا حجم ہے اور مستقبل میں پانڈا بانڈ کے ذریعے بل سیٹلمنٹ میں آسانی ہوجائے گی۔\n\nتیسری اہم بات شکیل کے مطابق پانڈا بانڈ جاری کرنے کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کا ڈالر پر انحصار بھی کم ہوجائے گا اور طویل المدت فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان کرنسی کے تبادلے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔\n\nانہوں نے مزید بتایا: ’سی پیک کے تحت پاکستان میں کام کرنے والی چینی کمپنیاں بھی مستقبل میں ان بانڈز میں حصہ دار یا ان کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ذریعے بانڈ جاری کرنے کی آفر کر سکتی ہیں۔‘\n\nپاکستان\n\nمعیشت\n\nپانڈا بانڈ\n\nچین\n\nوزارت خزانہ کے مطابق پاکستان نے پہلی بار چینی کرنسی یوآن میں بانڈ جاری کیا ہے جس کے ذریعے پہلے مرحلے میں 1.75 ارب یوآن (تقریباً 25 کروڑ ڈالر) جمع کیے گئے ہیں۔\n\nاظہار اللہ\n\nجمعرات, مئی 14, 2026 - 21:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستان نے پہلی بار چینی کرنسی یوآن میں بانڈ جاری کیا ہے، جسے ’پانڈا بانڈ‘ کہا جاتا ہے (وزارت خزانہ)</p>\n\nمعیشت\n\njw id:\n\nyEHo0Wg0\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nیورو بانڈ کیا ہے اور پاکستانی معیشت کے لیے کیوں اہم ہے؟\n\nپاکستان میں قرضوں میں کمی کے لیے پھر سکوک بانڈز کا سہارا\n\nپاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر موصول: سٹیٹ بینک\n\nکیا ڈیجیٹل معیشت پاکستان کو قرضوں سے نجات دلا سکتی ہے؟\n\nSEO Title:\n\nپانڈا بانڈ کیا ہے اور پاکستان نے چین میں ان کا اجرا کیوں کیا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پانڈا بانڈ کیا ہے اور پاکستان نے چین میں ان کا اجرا کیوں کیا؟"
}