External Publication
Visit Post

بارکھان میں سکیورٹی آپریشن، ’انڈین حمایت یافتہ‘ سات عسکریت پسند مارے گئے: فوج

Independent Urdu [Unofficial] May 13, 2026
Source

پاکستانی فوج نے بدھ کو کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشن کے دوران ’انڈین حمایت یافتہ‘ سات عسکریت پسند مارے گئے جبکہ میجر سمیت پانچ اہلکار بھی جان سے گئے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 13 مئی کی صبح بارکھان کے علاقے نوشم میں پاکستانی فوج اور فرنیٹر کور بلوچستان کے دستوں نے ’انڈین سرپرستی میں قائم فتنہ الہندستان کے دہشت گردوں‘ کے خاتمے کے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔

بیان کے مطابق: ’آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ایک گروہ کا سراغ لگا کر سکیورٹی فورسز نے انہیں نشانہ بنایا‘ اور فائرنگ کے تبادلے میں سات عسکریت پسند مارے گئے جبکہ ’ان کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی حکام بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیموں کو انڈین پراکسی ’فتنہ الہندوستان‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ تنظیمیں سکیورٹی فورسز، حکومتی تنصیبات اور ترقیاتی منصوبوں پر حملوں میں ملوث رہی ہیں اور اسلام آباد ان تنظیموں پر انڈیا سے مالی اور لاجسٹک مدد کا بھی الزام لگاتا ہے، جسے نئی دہلی مسترد کرتا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک فیلڈ افسر سمیت پانچ اہلکار بھی جان سے چلے گئے۔ جان سے جانے والوں میں میجر توصیف احمد بھٹی، نائب فدا حسین، سپاہی ذاکر حسین، سپاہی سہیل احمد اور سپاہی محمد ایاز شامل ہیں۔

پاکستانی فوج کے مطابق علاقے میں موجود دیگر عسکریت پسندوں کے خاتمے کے لیے گرد و نواح میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

مزید کہا گیا کہ ’پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناسور کو ملک سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے بلا تعطل انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رکھیں گے۔‘

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان، جس کی سرحدیں پڑوسی ممالک ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، طویل عرصے سے عسکریت پسندی کا شکار ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوشم میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران جوانوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’وطن کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے قربانیاں دینے والے قوم کے حقیقی ہیرو ہیں۔‘

وزیراعلیٰ آفس سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔‘ ساتھ ہی انہوں نے ’ریاست دشمن قوتوں کے مذموم عزائم ہر صورت ناکام بنانے‘ کے عزم کا اظہار کیا۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔‘

بلوچستان

آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج

پاکستانی فوج کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک فیلڈ افسر سمیت پانچ اہلکار بھی جان سے چلے گئے۔

انڈپینڈنٹ اردو

بدھ, مئی 13, 2026 - 23:00

Main image:

پاکستان کے فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار 16 ستمبر 2020 کو بلوچستان کے سرحدی شہر قلعہ سیف اللہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہ بدینی ٹریڈ ٹرمینل گیٹ وے کے قریب پہرہ دے رہا ہے (بنارس خان / اے ایف پی)

پاکستان

type:

news

related nodes:

بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 15عسکریت پسند مارے گئے: فوج

لڑکی کو اسلام آباد میں خودکش حملے کے لیے تیار کیا گیا: وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ، بارکھان میں کارروائیاں، 8 عسکریت پسند مارے گئے

بلوچستان کے علاقے بارکھان میں دھماکہ، چار افراد جان سے گئے

SEO Title:

بارکھان میں سکیورٹی آپریشن، ’انڈین حمایت یافتہ‘ سات عسکریت پسند مارے گئے: فوج

copyright:

show related homepage:

Show on Homepage

Discussion in the ATmosphere

Loading comments...