{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreibmttnk75jzdc2hlff6bwpw2tyydi6thnusedhhv5jwggaspef4oy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlpp4b4vl7j2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiarlgtcm4t7cnxiwociozwyzpdmgbghyz6oaur6agxhyjfgzkkyxe"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 119610
},
"path": "/node/185889",
"publishedAt": "2026-05-13T05:28:23.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"SBP",
"May 13, 2026",
"پاکستان",
"آئی ایم ایف",
"معیشت",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"news",
"@StateBank_Pak"
],
"textContent": "**پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹینیبل فیسلٹی (آر ایس ایف) پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 1.3 ارب ڈالر موصول ہوگئے ہیں۔**\n\nایک سرکاری بیان میں بدھ کو بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 08 مئی 2026 کو منعقدہ اجلاس میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت تیسرے جائزے کی تکمیل کرتے ہوئے پاکستان کے لیے 760 ملین ایس ڈی آر کی قسط کی منظوری دی۔\n\nمزید برآں، آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت 154 ملین ایس ڈی آر کی دوسری قسط کی بھی منظوری دی۔\n\nبیان میں کہا گیا ہے کہ ’سٹیٹ بینک آف پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے ای ایف ایف اور آر ایس ایف کے تحت مجموعی طور پر 1.3 ارب ڈالر موصول ہو گئے ہیں۔‘\n\n> #SBP has received about US$1.3 billion under the IMF’s EFF and RSF programs\n>\n> The IMF Executive Board completed third review under the Extended Fund Facility (EFF) in its meeting held on 08 May 2026, and approved disbursement of SDR 760 million for Pakistan. Furthermore, the IMF…\n>\n> — SBP (@StateBank_Pak) May 13, 2026\n\nیہ رقم 15 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ظاہر کی جائے گی۔\n\nآئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے گذشتہ ہفتے کے اجلاس میں پاکستانی معیشت کا جائزہ لینے کے بعد قرض جاری کرنے کی سفارش کی تھی۔\n\nپاکستان سات ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام پر عمل پیرا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nآئی ایم ایف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے زیادہ مشکل اور انتہائی غیر یقینی بیرونی ماحول کے پیش نظر پاکستان کو اصلاحاتی کوششوں میں تیزی لاتے ہوئے مضبوط میکرو اکنامک پالیسیاں برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔‘\n\nاپریل میں پاکستان کے مرکزی بینک نے اپنی کلیدی پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 11.5 فیصد کر دیا، جو تقریباً تین سال میں پہلا اضافہ تھا۔\n\nپاکستان 2023 میں دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا، جسے آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے بیل آؤٹ نے بچایا، جس کے بعد ملکی معیشت میں بحالی دیکھی گئی، مہنگائی میں کمی آئی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔\n\nلیکن اس معاہدے، جو 1958 کے بعد پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ 24 واں معاہدہ تھا، کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کی گئیں، جن میں آمدنی پر ٹیکس بڑھانے اور توانائی پر سبسڈی میں کمی شامل تھی، تاکہ اخراجات کو کم کیا جا سکے۔\n\nپاکستان\n\nآئی ایم ایف\n\nمعیشت\n\nیہ رقم 15 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ظاہر کی جائے گی۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, مئی 13, 2026 - 10:30\n\nMain image:\n\n> <p>کراچی میں 19 مئی 2022 کو ایک فارن کرنسی ڈیلر ڈالروں کی گنتی کر رہا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسعودی عرب سے اپریل میں 3.5 ارب ڈالر ترسیلات منتقل: سٹیٹ بینک\n\n2002 کے بعد پہلی بار پاکستان میں مالیاتی سرپلس ریکارڈ: سٹیٹ بینک\n\nکیا ڈیجیٹل معیشت پاکستان کو قرضوں سے نجات دلا سکتی ہے؟\n\nآئی ایم ایف کی پاکستان کے لیے 1.32 ارب ڈالر قسط کی منظوری\n\nSEO Title:\n\nپاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر موصول: سٹیٹ بینک\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر موصول: سٹیٹ بینک"
}