{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiecxod65oxgx6nbx47tpptckzuzbi22txryrqnbno3ppi5czslude",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlp2jqsmwez2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifbzlj7ptushvwppuw4pa6vvmvauyctmkncebgn7drnn675vyo6le"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 122479
},
"path": "/node/185873",
"publishedAt": "2026-05-12T05:02:53.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران",
"پاکستان",
"امریکہ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"news"
],
"textContent": "**پاکستان نے نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور سنسنی خیز قرار دیا ہے۔**\n\nدفتر خارجہ نے منگل کی صبح ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس نوعیت کی قیاس آرائیوں پر مبنی بیانیے بظاہر خطے میں استحکام اور امن کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے کے لیے گھڑے جا رہے ہیں۔‘\n\nامریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ’پاکستان نے خاموشی سے ایرانی فوجی طیاروں کو ممکنہ طور پر امریکی فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے ہوائی اڈوں پر کھڑے رکھنے کی اجازت دی۔‘\n\nسی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ’ایران نے کچھ سویلین طیارے ہمسایہ ملک افغانستان میں بھی پارک کیے۔‘\n\nامریکی حکام، جنہوں نے قومی سلامتی کے معاملات پر بات کرنے کے لیے شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اپریل کے اوائل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے چند دن بعد ’تہران نے متعدد طیارے پاکستان ایئر فورس بیس نور خان بھیجے۔ یہ ایک نہایت اہم فوجی تنصیب ہے جو راولپنڈی کے گیریژن شہر کے قریب واقع ہے۔‘\n\nرپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ان فوجی سازوسامان میں ایرانی فضائیہ کا ایک RC-130 طیارہ بھی شامل تھا، جو لاک ہیڈ C-130 Hercules ٹیکٹیکل ٹرانسپورٹ طیارے کا جاسوسی اور انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے والا ماڈل ہے۔‘\n\nتاہم پاکستان نے منگل کو سی بی ایس کی اس رپورٹ کو مسترد کیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جنگ بندی کے بعد اسلام آباد مذاکرات کے ابتدائی دور کے دوران، ایران اور امریکہ کے متعدد طیارے پاکستان پہنچے تھے تاکہ مذاکراتی عمل سے وابستہ سفارتی عملے، سکیورٹی ٹیموں اور انتظامی سٹاف کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی جا سکے جن میں سے کچھ طیارے اور معاون عملہ آئندہ مذاکراتی ادوار کی توقع میں عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہا۔‘\n\nبیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگرچہ باضابطہ مذاکرات ابھی دوبارہ شروع نہیں ہوئے، تاہم اعلیٰ سطحی سفارتی روابط جاری رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے دوروں کو موجودہ انتظامی اور لاجسٹک سہولیات کے تحت ممکن بنایا گیا۔\n\nپاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ’اس وقت پاکستان میں موجود ایرانی طیارے جنگ بندی کے دوران آئے تھے اور ان کا کسی عسکری ہنگامی صورت حال یا تحفظاتی انتظام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے برعکس دعوے قیاس آرائی، گمراہ کن اور حقائق سے مکمل طور پر عاری ہیں۔\n\n’پاکستان نے ہمیشہ غیر جانبدار، تعمیری اور ذمہ دار سہولت کار کے طور پر مکالمے اور کشیدگی میں کمی کی حمایت کی ہے۔ اسی کردار کے مطابق، پاکستان نے جہاں ضرورت پڑی معمول کی انتظامی اور لاجسٹک سہولت فراہم کی، جبکہ تمام متعلقہ فریقوں سے مکمل شفافیت اور مسلسل رابطہ بھی برقرار رکھا۔‘\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں پاکستان نے بطور ثالث اب تک اہم کردار ادا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اپریل میں مذاکرات کا ایک دور بھی ہو چکا ہے۔\n\nاسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور بھی ہونا تھا تاہم ایران کی جانب سے انکار کے بعد وہ اب تک نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ اس دوران ایک ہی ہفتے میں دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔\n\nایران\n\nپاکستان\n\nامریکہ\n\nامریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز نے ایک رپورٹ میں کہا کہ ایرانی فوجی طیاروں کو امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے پاکستان نے انہیں اپنے اڈوں پر کھڑے رکھنے کی اجازت دی۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, مئی 12, 2026 - 10:15\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان کے دفتر خارجہ نے 12 مئی 2026 کو امریکی چینل کی رپورٹ سے متعلق بیان جاری کیا (فائل فوٹو/ انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nٹرمپ کا مجوزہ امن فارمولا: امریکہ کی پسپائی کے اشارے\n\nایران کے ساتھ سیزفائر ’لائف سپورٹ‘ پر ہے: صدر ٹرمپ\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ جلد متوقع ہے: پاکستان\n\nپاکستان کو ایران کی جانب سے جواب موصول ہو گیا ہے: شہباز شریف\n\nSEO Title:\n\nایرانی طیاروں کی پاکستانی اڈوں پر موجودگی کی خبریں گمراہ کن: وزارت خارجہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "ایرانی طیاروں کی پاکستانی اڈوں پر موجودگی کی خبریں گمراہ کن: وزارت خارجہ"
}