{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiavcftxdrq3lbumal7qnem2pgvaptctda3e4ogm27jwrzq2d35na4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlp2j5qecqx2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihnn7w75jcmsaj7bnm237ikroabwhb7dwyzewq7qee7qr5w2x364u"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 132112
  },
  "path": "/node/185881",
  "publishedAt": "2026-05-12T13:14:58.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "Screenshot 2026-05-12 184602.png",
    "SBP",
    "https://t.co/F2ujiajGmt",
    "https://t.co/zcSCUPDamw",
    "pic.twitter.com/wmdvFegc1c",
    "May 12, 2026",
    "سٹیٹ بینک آف پاکستان",
    "پاکستانی معیشت",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "معیشت",
    "news",
    "@StateBank_Pak"
  ],
  "textContent": "**سٹیٹ بینک آف پاکستان نے منگل کو جاری کی گئی اپنی ششماہی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملکی معیشت نے مالی سال 26-2025 کے پہلے چھ ماہ میں قابلِ ذکر لچک اور رفتار کا مظاہرہ کیا اور پاکستان نے 2002 کے بعد پہلی بار نصف سالہ مالیاتی سرپلس حاصل کیا۔**\n\nرپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں ملک کی حقیقی جی ڈی پی شرح نمو 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جو گذشتہ مالی سال کی 3.1 فیصد شرح نمو سے بہتر ہے ۔\n\n## Screenshot 2026-05-12 184602.png\n\nرپورٹ میں کہا گیا کہ اقتصادی بہتری میں سب سے اہم کردار صنعتی شعبے نے ادا کیا، جس نے 8.1 فیصد کی مضبوط ترقی ریکارڈ کی۔\n\nبڑی صنعتوں نے تین سالہ منفی رجحان ختم کرتے ہوئے 4.8 فیصد اضافہ دکھایا، جس کی بڑی وجہ گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ، ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی پیداوار میں تیزی اور پیٹرولیم پیداوار میں اضافہ رہا۔\n\n> #SBP has released Half-Year Report on the State of Pakistan’s Economy for FY26.\n>  See PR: https://t.co/F2ujiajGmt\n>  Read Report: https://t.co/zcSCUPDamw pic.twitter.com/wmdvFegc1c\n>\n> — SBP (@StateBank_Pak) May 12, 2026\n\nرپورٹ کے مطابق اگرچہ شدید موسمی حالات اور سیلاب نے کپاس اور مکئی جیسی اہم خریف کی فصلوں کو نقصان پہنچایا، لیکن پھر بھی زرعی شعبہ 2.2 فیصد کی مثبت ترقی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس میں لائیو سٹاک کے شعبے کی بہتر کارکردگی اور گنے اور چاول کی بہتر پیداوار نے اہم کردار ادا کیا۔\n\nمرکزی بینک کے مطابق یہ کامیابی شرحِ سود (مارک اپ) کی ادائیگیوں میں نمایاں کمی اور مالیاتی استحکام کی مسلسل پالیسیوں کے باعث ممکن ہوئی۔ اس مالی گنجائش نے حکومت کو ترقیاتی منصوبوں اور سماجی اخراجات، خصوصاً سیلاب ریلیف سرگرمیوں میں اضافہ کرنے کا موقع دیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nرپورٹ کے مطابق عوام کو اس وقت کچھ ریلیف ملا، جب نیشنل کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق مہنگائی 5.2 فیصد تک کم ہو گئی، جو گذشتہ سال 7.2 فیصد تھی۔\n\nمزید کہا گیا کہ عالمی وانائی کی قیمتوں میں کمی اور بجلی کے نرخوں میں مقامی ایڈجسٹمنٹ نے مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم سیلاب کے باعث خوراک کی قیمتیں نسبتاً بلند رہیں۔\n\nرپورٹ کے مطابق اس بہتر معاشی صورت حال کے جواب میں سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے دسمبر 2025 میں پالیسی ریٹ میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کی۔\n\nمزید کہا گیا کہ صنعتی سرگرمیوں میں تیزی کے ساتھ درآمدات میں اضافہ ہوا، جس کے باعث تجارتی خسارہ تقریباً 36 فیصد بڑھ گیا۔\n\nملک نے صنعتی خام مال، مشینری اور ٹرانسپورٹ آلات زیادہ درآمد کیے جبکہ برآمدات 9.0 فیصد کم ہو کر 15.1 ارب امریکی ڈالر رہ گئیں، جس کی بڑی وجہ عالمی سطح پر چاول کی قیمتوں میں کمی اور بڑھتا ہوا مقابلہ تھا۔\n\nتاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.4 ارب ڈالر تک محدود رکھا گیا، جس میں ترسیلاتِ زر کا اہم کردار رہا۔\n\nرپورٹ کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 19.7 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات بھیجیں، جس کے باعث سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر دسمبر 2025 کے اختتام پر 16.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔\n\nاگرچہ مختصر مدت کا منظرنامہ مثبت ہے، تاہم سٹیٹ بینک نے طویل مدتی ساختی اور ماحولیاتی خطرات پر سخت انتباہ جاری کیا ہے۔\n\nرپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اب دور کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک فوری معاشی خطرہ بن چکی ہے۔ حالیہ سیلاب اور ہیٹ ویوز نے اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فوری موسمیاتی موافقت کی سرمایہ کاری نہ کی گئی تو 2050 تک پاکستان کی جی ڈی پی میں 9 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔\n\nمزید برآں مرکزی بینک نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات، عالمی شپنگ لاگت میں اضافہ، اور بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آنے والے مہینوں میں پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے رہیں گے۔\n\nسٹیٹ بینک آف پاکستان\n\nپاکستانی معیشت\n\nرپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں ملک کی حقیقی جی ڈی پی شرح نمو 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جو گذشتہ مالی سال کی 3.1 فیصد شرح نمو سے بہتر ہے ۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, مئی 12, 2026 - 18:15\n\nMain image:\n\n> <p>کراچی میں 21 اکتوبر 2004 کو پاکستان کے سٹیٹ بینک کی مرکزی عمارت سے لوگ باہر نکل رہے ہیں (روئٹرز)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسعودی عرب سے اپریل میں 3.5 ارب ڈالر ترسیلات منتقل: سٹیٹ بینک\n\nمعیشت اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کر رہے ہیں: وفاقی وزرا\n\nمشرق وسطیٰ جنگ: پاکستانی معیشت کے لیے خطرہ\n\nایران جنگ سے معیشت کو نقصان پہنچا لیکن سعودی سپورٹ سے مستحکم رہے: وزیراعظم\n\nSEO Title:\n\nمعیشت میں بہتری، 2002 کے بعد پہلی بار مالیاتی سرپلس ریکارڈ: سٹیٹ بینک پاکستان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "معیشت میں بہتری، 2002 کے بعد پہلی بار مالیاتی سرپلس ریکارڈ: سٹیٹ بینک پاکستان"
}