{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiebgerhpimh22h2ugkhzfsbf5szesq36ynrvp4cpwcdplcdpkczz4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlmddxdhhbl2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigw2j4ulhwju6skpxne2kccgkiqtmz657b3s4oohn7cmhu6d6crou"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 157970
  },
  "path": "/node/185860",
  "publishedAt": "2026-05-11T07:57:33.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "https://t.co/7PckFCqSff",
    "SBPRemittances",
    "pic.twitter.com/gdFiJLFcv4",
    "May 11, 2026",
    "پاکستان",
    "معیشت",
    "سعودی عرب",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "news",
    "@StateBank_Pak"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے مرکزی بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب اپریل میں بھی پاکستان کو بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر بھیجنے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے۔**\n\nسٹیٹ بینک کی جانب سے پیر کو جاری کیے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں مقیم ورکرز نے پاکستان کو 84 کروڑ 17 لاکھ ڈالر بھیجے ہیں۔\n\nترسیلاتِ زر پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہیں، جو درآمدات کی مالی معاونت، کرنسی کو مستحکم رکھنے اور لاکھوں خاندانوں کی مدد میں کردار ادا کرتی ہیں۔\n\n> Workers’ remittances recorded an inflow of US$ 3.5 billion during April 2026, showing an increase of 11.4 percent on y/y basis, while they declined by 7.6 percent on m/m basis.https://t.co/7PckFCqSff#SBPRemittances pic.twitter.com/gdFiJLFcv4\n>\n> — SBP (@StateBank_Pak) May 11, 2026\n\nخلیجی خطہ، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، وہاں کام کرنے والی بڑی پاکستانی افرادی قوت کے باعث ترسیلات کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے۔\n\nپاکستان میں گذشتہ دو برسوں کے دوران ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو مالی سال 2025 میں ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ایک سال پہلے کے 30.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں 26.6 فیصد زیادہ تھیں۔\n\nسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’اپریل 2026 کے دوران بیرون ملک ورکرز کی ترسیلاتِ زر 3.5 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔‘\n\nبیان کے مطابق ’اضافے کے لحاظ سے ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیاد پر 11.4 فیصد اضافہ جبکہ ماہانہ بنیاد پر 7.6 فیصد کمی ہوئی۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمرکزی بینک کے مطابق، جولائی تا اپریل مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر 33.9 ارب ڈالر ترسیلات موصول ہوئیں، جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں یہ رقم 31.2 ارب ڈالر تھی، جو 8.5 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔\n\nسعودی عرب کے بعد اپریل میں متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر رہا، جہاں سے 734.7 ملین ڈالر آئے، اس کے بعد برطانیہ سے 563.7 ملین ڈالر اور امریکہ سے 317.6 ملین ڈالر موصول ہوئے۔\n\nپاکستان کی ترسیلاتِ زر حالیہ سہ ماہیوں میں مسلسل ماہانہ 3 ارب ڈالر سے زائد رہی ہیں، جس سے معیشت کو بیرونی مالی دباؤ اور بڑھتے تجارتی خسارے کے مقابلے میں سہارا ملا ہے۔\n\nپاکستان\n\nمعیشت\n\nسعودی عرب\n\nپاکستان میں بیرون ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں سعودی عرب بدستور سرفہرست ہے جہاں مقیقم پاکستانیوں نے اپریل 2026 میں 3.5 ارب ڈالر منتقل کیے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, مئی 11, 2026 - 13:00\n\nMain image:\n\n> <p>اسلام آباد میں ایک شخص 11 جولائی 2023 کو کرنسی ایکسچینج کی دکان میں داخل ہو رہا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسعودی عرب سے تین ارب ڈالر کی منتقلی مکمل: پاکستان\n\nجنگ کی طوالت سے ترسیلات زر کتنی متاثر ہو سکتی ہیں؟\n\nترسیلات زر سے نتائج تک: پاکستان میں نیا سعودی معاشی اقدام\n\nSEO Title:\n\nسعودی عرب سے اپریل میں 3.5 ارب ڈالر بطور ترسیلات منتقل: پاکستان سٹیٹ بینک\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "سعودی عرب سے اپریل میں 3.5 ارب ڈالر ترسیلات منتقل: سٹیٹ بینک"
}