{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiefch5s4bfs6v26k5wqyz7vaowj6htkjuiq5fjibqlinkhmfymxdm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlmddb3gvzv2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreicfx3g3fdn6th6vxsydawhbbc32damtj6qjwec2wx5u5sp2ykz2je"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 95674
},
"path": "/node/185865",
"publishedAt": "2026-05-11T13:54:15.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران جنگ",
"اسلام آباد مذاکرات",
"امریکہ",
"اسحاق ڈار",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کو اسلام آباد میں امریکہ ناظم الامور نیٹلی بیکر سے ملاقات میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مستقل جنگ بندی اور وسیع تر معاہدے کی کوششوں پر بات چیت کی۔**\n\nپاکستان ان مذاکرات میں خود کو ایک اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے جس میں 11 اپریل کو اسلام آباد میں دونوں فریقین کے درمیان 1979 کے بعد پہلی بار براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی شامل ہے۔\n\nاسحاق ڈار اور امریکہ کی ناظم الامور کے درمیان یہ ملاقات اس پیش رفت کے ایک روز بعد ہوئی جب پاکستان نے کہا کہ اسے حالیہ امریکی تجویز پر ایران کا جواب موصول ہو گیا ہے جس کا مقصد کشیدگی کا خاتمہ اور دونوں فریقوں کے درمیان وسیع تر مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔\n\nحالیہ ہفتوں میں پاکستان کا سفارتی کردار زیادہ نمایاں ہوا ہے اور پاکستان نے بارہا امید ظاہر کی ہے کہ معاہدہ ’جلد یا بدیر‘ طے پا سکتا ہے تاہم اس کے دائرہ کار اور ترتیب کے حوالے سے اختلافات بدستور موجود ہیں۔\n\nپاکستان کے دفتر خارجہ نے اسحاق ڈار اور نیٹلی بیکر کی پیر کی ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا: ’وزیر خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا اور امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں خطے اور اس سے باہر امن اور استحکام میں معاون ثابت ہوں گی۔‘\n\nبیان میں مزید کہا گیا کہ اس بات چیت میں پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات پر بھی بات چیت کی گئی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیہ تازہ سفارتی پیش رفت خلیج میں کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری سکیورٹی سے متعلق غیر یقینی صورت حال کے پس منظر میں سامنے آئی ہے جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔\n\nوزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو کہا کہ اسلام آباد کو سفارتی ذرائع کے ذریعے ایران کا جواب موصول ہو گیا ہے، اور پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان مکالمے کی حوصلہ افزائی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو پاکستانی ثالث کے ذریعے ملنے والی تازہ ترین ایرانی تجاویز کو ’بالکل ناقابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔\n\nصدر ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں کہا تھا کہ ’میں نے ایران کے نام نہاد قیادت کی جانب سے ملنے والی تجاویز کو پڑھا ہے۔ یہ بالکل ناقابل قبول ہیں۔ مجھے یہ پسند نہیں۔‘\n\nپاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسحاق ڈار نے حالیہ کشیدگی اور خلیجی بحری راستوں میں سکیورٹی واقعات کے باعث متاثر ہونے والی تجارتی بحری آمد و رفت اور پھنسے ہوئے عملے کے بعد، سنگاپور کے ذریعے پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی وطن واپسی میں امریکہ کی جاری مدد کو سراہا۔\n\nایران جنگ\n\nاسلام آباد مذاکرات\n\nامریکہ\n\nاسحاق ڈار\n\nپاکستانی وزیر خارجہ اور امریکہ کی ناظم الامور کے درمیان یہ ملاقات اس پیش رفت کے ایک روز بعد ہوئی جب پاکستان نے کہا کہ اسے حالیہ امریکی تجویز پر ایران کا جواب موصول ہو گیا ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, مئی 11, 2026 - 18:45\n\nMain image:\n\n> <p>وزیر خارجہ اسحاق ڈار 11 مئی 2026 کو اسلام آباد میں امریکہ ناظم الامور نیٹلی بیکر سے ملاقات کر رہے ہیں (پاکستان دفتر خارجہ)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nاپنے جواب میں جنگ کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا: ایران\n\nپاکستان کو ایران کی جانب سے جواب موصول ہو گیا ہے: شہباز شریف\n\nایران جنگ: امن کی پاکستانی کاوشوں پر امریکی کانگریس میں قرارداد\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ جلد متوقع ہے: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nاسحاق ڈار اور نیٹلی بیکر کی ملاقات، امریکہ ایران مذاکرات پر تبادلہ خیال\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "اسحاق ڈار اور نیٹلی بیکر کی ملاقات، امریکہ ایران مذاکرات پر تبادلہ خیال"
}