{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreic2gk5mxjtgqh7lesz7hqkhvuq4ev3nbdowqbyv7b25rgjrpqxuna",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlirasukjw42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibssrensnqhra3vz57kdmu7skeontylg2o2inelwyqjfrfgiull7m"
    },
    "mimeType": "image/png",
    "size": 1437847
  },
  "path": "/node/185849",
  "publishedAt": "2026-05-10T11:09:17.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ورزش",
    "واک",
    "چہل قدمی",
    "صحت",
    "ہیری بل مور",
    "news"
  ],
  "textContent": "**چلنا دنیا کی سب سے کم تجویز کی جانے والی مگر سب سے مؤثر ’دواؤں‘ میں سے ایک ہے۔ پیروں کی ساخت اور حرکت کے ماہر ڈاکٹر کورٹنی کونلی کے مطابق، ’چلنا ہر ڈاکٹر کے نسخے کا حصہ ہونا چاہیے۔ یہ طب کا ہمہ گیر علاج ہے۔‘**\n\nوہ اپنی نئی کتاب Walk: Your Life Depends On It میں شریک مصنف ڈاکٹر ملیکا میک ڈوول کے ساتھ کہتی ہیں کہ چلنا کھانے، سونے، دانت صاف کرنے اور سانس لینے جیسی روزمرہ کی ناگزیر عادت ہے۔ یہ کمر، گھٹنوں اور کولہوں کے درد کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن سے لڑتا ہے، خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھتا ہے اور دماغی صحت بہتر بنا کر ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرتا ہے۔\n\nڈاکٹر میک ڈوول کہتی ہیں: ’جب ہم چلتے ہیں تو اس کا اثر جسم کے تقریباً ہر نظام پر پڑتا ہے۔ دنیا کے تقریباً 98 فیصد لوگ چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے اس کے فوائد سے فائدہ اٹھانے کی بے پناہ گنجائش موجود ہے۔‘\n\nلیکن سوال یہ ہے کہ سائنس کے مطابق ہمیں روزانہ کتنے قدم چلنا چاہیے؟\n\n**روزانہ 10 ہزار قدم: ایک غلط فہمی؟**\n\nماہرین کے مطابق روزانہ 10 ہزار قدم چلنے کا تصور ایک ’مکمل اصول‘ نہیں بلکہ ایک عام غلط فہمی ہے۔\n\nڈاکٹر میک ڈوول کہتی ہیں: ’زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ روزانہ 10 ہزار قدم ہی مثالی ہدف ہے، لیکن یہ ایک ایسا تصور ہے جسے توڑنے کی ضرورت ہے۔ آپ اپنے مقصد اور حالات کے مطابق مختلف اہداف منتخب کر سکتے ہیں۔‘\n\nواک کرنا دنیا کی سب سے کم تجویز کی جانے والی مگر سب سے مؤثر ’دواؤں‘ میں سے ایک ہے (اینواتو)\n\n\n\n\nان کے مطابق اگر کوئی شخص بہت کم حرکت کرتا ہے تو اس کے لیے بنیادی پیغام یہی ہے کہ ’کچھ نہ کرنے سے کچھ بھی بہتر ہے۔‘\n\n**500 قدم: صرف پانچ منٹ کی واک**\n\nتقریباً پانچ منٹ میں مکمل ہونے والی 500 قدم کی تیز واک کو ڈاکٹر کونلی ’مائیکرو واک‘ کہتی ہیں۔\n\nڈاکٹر میک ڈوول کے مطابق: ’صرف پانچ منٹ کی واک دماغ میں خون کی روانی بہتر کرتی ہے، سوچنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے، تخلیقی سوچ میں اضافہ کرتی ہے، موڈ بہتر بناتی ہے اور بے چینی و ڈپریشن کی علامات کم کرتی ہے۔‘\n\nوہ کہتی ہیں کہ اگر آپ روزمرہ کے معمولات میں چند مختصر واک شامل کر لیں تو جسم اور ذہن دونوں کو فائدہ ہو گا۔\n\n**2500 قدم: کم از کم حد**\n\nڈاکٹر میک ڈوول کے مطابق: ’اگر کوئی شخص روزانہ 2500 قدم سے کم چلتا ہے تو بیماری اور موت کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔‘\n\nوہ کہتی ہیں کہ ان کے تجربے میں 2500 قدم یا اس سے کم چلنے والے تقریباً ہر مریض میں اداسی یا ڈپریشن کی علامات موجود ہوتی ہیں۔\n\n**3000 سے 3500 قدم: نمایاں فرق**\n\nماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص اپنے روزانہ قدموں کی تعداد 2500 سے بڑھا کر 3000 کر لے تو موت کے مجموعی خطرے میں سات فیصد کمی آتی ہے، جبکہ 3500 قدم پر یہ کمی 15 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔\n\nڈاکٹر کونلی کہتی ہیں کہ 3800 قدم روزانہ چلنا ڈیمنشیا کے خطرے میں کمی کے لیے واک کے زیادہ سے زیادہ فوائد کا تقریباً 50 فیصد فراہم کرتا ہے۔\n\n**5000 قدم: کینسر اور ڈپریشن کے خلاف مدد**\n\nتحقیقی مطالعات کے مطابق 5000 قدم روزانہ چلنے والے افراد میں کینسر کے خلاف حفاظتی اثرات اور ڈپریشن کی علامات میں کمی دیکھی گئی ہے۔\n\n**7000 قدم: ’گولڈ اسٹینڈرڈ‘**\n\nماہرین کے مطابق روزانہ 7000 قدم چلنا صحت کے لیے ایک مؤثر اور حقیقت پسندانہ ہدف سمجھا جاتا ہے۔\n\n2025 میں دی لینسٹ میں شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق، روزانہ 7000 قدم چلنے والے افراد میں:\n\nڈپریشن کی علامات کا خطرہ 22 فیصد کم\n\nڈیمنشیا کا خطرہ 38 فیصد کم\n\nمجموعی اموات کا خطرہ 47 فیصد کم\n\nدل کی بیماری کا خطرہ 25 فیصد کم دیکھا گیا۔\n\nاس کے علاوہ کینسر سے اموات میں 37 فیصد، ٹائپ ٹو ذیابیطس میں 14 فیصد اور گرنے کے خطرے میں 28 فیصد کمی دیکھی گئی۔\n\n**9800 قدم: ڈیمنشیا کے خطرے میں نصف کمی**\n\n2022 میں جاما نیورولوجی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق روزانہ تقریباً 9800 قدم چلنے سے ڈیمنشیا کا خطرہ نصف تک کم ہو سکتا ہے۔\n\nتحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ تیز رفتار چلنا اضافی فائدہ دیتا ہے۔\n\n**صحیح طریقے سے چلنا بھی ضروری**\n\nڈاکٹر میک ڈوول کے مطابق صرف چلنا ہی کافی نہیں بلکہ مؤثر انداز میں چلنا بھی اہم ہے۔\n\nوہ چار بنیادی نکات بتاتی ہیں:\n\nسیدھا چلیں: سر اوپر رکھیں تاکہ جسمانی توازن اور پوسچر بہتر رہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nنرم قدم رکھیں: زور سے قدم مارنے کے بجائے نرم انداز اپنائیں تاکہ جسم پر دباؤ کم ہو۔\n\nتیز رفتار اختیار کریں: عام رفتار 90 سے 100 قدم فی منٹ ہوتی ہے، جبکہ تیز واک 120 قدم فی منٹ یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔\n\nکبھی کبھار الٹا چلیں: یہ جسم کے ان پٹھوں کو متحرک کرتا ہے جو عام طور پر کم استعمال ہوتے ہیں، خصوصاً گھٹنوں کے درد میں مفید ہے۔\n\n**صرف چلنا کافی نہیں**\n\nماہرین کے مطابق واک کے ساتھ ہفتے میں کم از کم دو بار طاقت بڑھانے والی ورزشیں بھی ضروری ہیں۔\n\nڈاکٹر میک ڈوول کہتی ہیں: ’روزانہ چلیں اور ہفتے میں کم از کم دو بار اسٹرینتھ ٹریننگ کریں۔ فارمولا بہت سادہ ہے، بس مستقل مزاجی چاہیے۔‘\n\nان کے مطابق خاص طور پر خواتین کے لیے طاقت بڑھانے والی ورزشیں ہڈیوں کی مضبوطی، جسمانی استحکام اور بڑھتی عمر میں حرکت برقرار رکھنے کے لیے بے حد اہم ہیں۔\n\nورزش\n\nواک\n\nچہل قدمی\n\nصحت\n\nصرف پانچ منٹ کی واک دماغ میں خون کی روانی بہتر کرتی ہے، سوچنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے، تخلیقی سوچ میں اضافہ کرتی ہے، موڈ بہتر بناتی ہے اور بے چینی و ڈپریشن کی علامات کم کرتی ہے۔\n\nہیری بل مور\n\nاتوار, مئی 10, 2026 - 16:00\n\nMain image:\n\n> <p>واک کرنا دنیا کی سب سے کم تجویز کی جانے والی مگر سب سے مؤثر ’دواؤں‘ میں سے ایک ہے (اینواتو)</p>\n\nصحت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکم از کم 15 منٹ یا 1500 قدم چلنا دل کے لیے کافی: تحقیق\n\nروزانہ 9000 قدم چلنا، سرطان کی 13 اقسام سے بچا سکتا ہے: تحقیق\n\nکیا صحت مند رہنے کے لیے 10 ہزار قدم چلنا ضروری ہے؟\n\n4000 قدم روز واک عمر رسیدہ خواتین کی زندگی بڑھا سکتی ہے: تحقیق\n\nSEO Title:\n\nروزانہ دس ہزار قدم یا صرف 500، سائنس صحت مند رہنے کے لیے کیا بتاتی ہے؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttp://independent.co.uk/health-and-fitness/steps-a-day-10000-health-benefit-walking-b2970853.html?fbclid=IwY2xjawRtQehleHRuA2FlbQIxMABicmlkETF0TVRWMjZ1VWhFVmV5Slg4c3J0YwZhcHBfaWQQMjIyMDM5MTc4ODIwMDg5MgABHrD9Mlaow0bXmeik8jyXBdX6D3n2Tsxe-mWpIXB2Gu6Re-kJu2M8PbdVlaRZ_aem_mztcJ0MUOQx8XHDMGLeUDA\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "روزانہ دس ہزار قدم یا صرف 500، سائنس صحت مند رہنے کے لیے کیا بتاتی ہے؟"
}