{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidyjwnn4znu2yutbp56wb4megpev4se4ztl25rdh33dkt6qbvrnea",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mli4qqwqawq2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidgg6k3vldmam3qjwqez7nrrzpo2nitcvapo7hvsyeqcrulwy2s3y"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 125882
  },
  "path": "/node/185846",
  "publishedAt": "2026-05-10T02:53:27.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "خیبر پختونخوا",
    "بنوں",
    "دہشت گردی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ہفتے کی رات ایک چوکی پر حملے کے نتیجے میں اب تک 12 پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ تین زخمی ہیں۔**\n\nبنوں پولیس کے ترجمان کاشف نے بتایا کہ فتح خیل چوکی حملے کے نتیجے میں منہدم ہو گئی اور کئی پولیس اہلکار ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔ یہ چوکی بنوں کے منڈان تھانے کے حدود میں واقع ہے اور اس سے پہلے بھی اس تھانے اور اسی علاقے میں پولیس اہلکاروں اور پولیس وین پر حملے کیے گئے ہیں۔\n\nسکیورٹی حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ حملے کے بعد امدادی کارروائی کے لیے پہنچنے والے اہلکاروں پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔\n\nروئٹرز کے مطابق پولیس افسر سجاد خان نے کہا کہ بنوں شہر کے مضافات میں واقع چوکی پر تعینات 15 میں سے زیادہ تر اہلکاروں کے جان سے جانے کا خدشہ ہے اور یہ تنصیب مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔\n\nانہوں نے رات گئے بتایا کہ لڑائی جاری ہے اور نقصان کی مکمل تفصیل آپریشن ختم ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔\n\nایک اور پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’دہشت گردوں نے پہلے پولیس چوکی پر بارودی مواد سے بھری گاڑی سے حملہ کیا، پھر مسلح افراد نے احاطے میں داخل ہو کر پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی۔\n\n’دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مدد کے لیے گئے لیکن دہشت گردوں نے ان پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا اور کچھ جانی نقصان ہوا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپولیس ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں نے اس حملے میں ڈرونز استعمال کیے۔\n\nخبر رساں ایجنسی اے پی نے بتایا کہ حملے میں ایک خودکش بمبار بھی شریک تھا۔\n\nپولیس افسر زاہد خان نے اے پی کو بتایا کہ حملے کے فوری بعد کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور دھماکے کے اثرات سے قریبی کئی مکانات اور سکیورٹی چوکی منہدم ہو گئی۔\n\nانہوں نے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا اور کہا کہ فائرنگ کا تبادلہ ابھی جاری ہے اور کچھ اہلکاروں کے زخمی ہونے اور ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔\n\nروئٹرز کے مطابق ریسکیو ایجنسیوں اور سرکاری ہسپتالوں کی ایمبولینسیں جائے وقوعہ پر بھیج دی گئیں اور حکام نے بنوں کے سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔\n\nاتحادالمجاہدین نامی عسکری اتحاد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔\n\nخیبر پختونخوا\n\nبنوں\n\nدہشت گردی\n\nبنوں پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں چوکی منہدم ہو گئی اور کئی پولیس اہلکار ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, مئی 10, 2026 - 07:45\n\nMain image:\n\n> <p>31 دسمبر، 2020 کو کرک میں ایک پولیس اہلکار تباہ حال عمارت کے باہر کھڑا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nہنگو کے بازار میں مارٹر حملہ، بچوں سمیت چھ افراد چل بسے: پولیس\n\nخیبر پختونخوا میں ڈرون حملے، وزیر اعلیٰ کا احتجاج کا عندیہ\n\nبنوں میں دو مرتبہ بم حملوں کا ہدف بننے والے گھر کی کہانی\n\nبنوں دھماکے میں مکان منہدم ہونے سے پانچ افراد جان سے گئے\n\nSEO Title:\n\nچوکی پر کار بم حملہ، 12 اہلکار جان سے گئے: بنوں پولیس\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "چوکی پر کار بم حملہ، 12 اہلکار جان سے گئے: بنوں پولیس"
}