{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreialzsauwcsgdjzjzoqlbquacofzffh5az2lei5gjrlidbmwgycitq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlhp3j4zxue2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibe4k3bwlji5e3tg4vtf5njhkfv7yq6jgtkp2qrh5wfbzmty3dlme"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 69057
},
"path": "/node/185843",
"publishedAt": "2026-05-09T14:21:12.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران جنگ",
"آبنائے ہرمز",
"قطر",
"ایل این جی",
"وزارت توانائی",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"معیشت",
"news"
],
"textContent": "**بحری جہازوں پر نظر رکھنے والی برطانوی کمپنی ’ایل ایس ای جی‘ کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق قطر کی راس لفان بندرگاہ سے روانہ ہونے والا قطری ایل این جی ٹینکر ’الخریطیات‘ ہفتے کو آبنائے ہرمز سے گزر کر پاکستان کی پورٹ قاسم کی طرف جا رہا ہے۔**\n\nروئٹرز کے مطابق اگر یہ سفر کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو یہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ کوئی قطری ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرے گا۔\n\nاس حوالے سے قطر انرجی کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔\n\nاس سے قبل پاکستان کی حکومت نے ہفتے ہی کو بین الاقوامی سپلائرز سے دو سپاٹ (عالمی منڈی سے موجودہ قیمت پر) ایل این جی کارگو کی بولیاں طلب کی ہیں تاکہ ملک کی توانائی ضروریات پوری کی جا سکیں۔\n\nیہ بولیاں اس وقت طلب کی گئی ہیں جب قطر سے معاہدہ کی گئی سپلائی کو آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ میں جاری رکاوٹوں کے باعث غیر یقینی کا سامنا ہے۔\n\nامریکہ اور ایران پاکستان کی ثالثی امن معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں جس سے علاقائی کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے اور اس سے پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو توقع ہے کہ قطر سے ایل این جی سپلائی بہتر طور پر بحال ہو سکے گی۔\n\nتاہم حکام کے مطابق ممکنہ کمی پوری کرنے کے لیے فوری سپاٹ خریداری ضروری ہے، خاص طور پر گرمیوں میں جب توانائی کی طلب زیادہ ہو جاتی ہے۔\n\nخطے میں توانائی کی فراہمی میں خلل ایران میں جاری جنگ کے باعث پیدا ہوا، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئی۔ اس کے نتیجے میں کئی ہفتوں کی لڑائی ہوئی اور ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی، جو دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور ایل این جی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا جبکہ گذشتہ ماہ جنگ بندی کا بھی اعلان کیا۔\n\nپاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے ٹینڈر کے مطابق: ’بین الاقوامی معتبر سپلائرز سے دو ایل این جی کارگو کی فراہمی کے لیے بولیاں طلب کی جاتی ہیں جو ڈیلیورڈ ایکس شپ بنیاد پر کراچی کے پورٹ قاسم پر اتاری جائے گی۔‘\n\nہر کارگو 140,000 کیوبک میٹر پر مشتمل ہوگا، جو تقریباً 100 ملین معیاری کیوبک فٹ یومیہ کے برابر ہے۔ ترسیل کی تاریخیں 12–16 مئی اور 24–28 مئی رکھی گئی ہیں۔ بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 11 مئی ہے۔\n\nیہ اس ہفتے پی ایل ایل کی دوسری ٹینڈرنگ ہے۔ اس سے قبل چھ مئی کو بھی دو کارگو کے لیے ٹینڈر جاری کیا گیا تھا مگر پیشکشیں مسترد کر دی گئیں کیونکہ توقع تھی کہ علاقائی کشیدگی کم ہونے سے سپاٹ قیمتیں گر جائیں گی اور قطر سے روکی ہوئی سپلائی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔\n\nمسترد شدہ بولیوں میں بی پی سنگاپور کی قیمت 17.28 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ، ٹوٹل انرجیز کی 16.98 ڈالر، وٹول بحرین کی 17.84 ڈالر، او کیو ٹریڈنگ کی 18.58 ڈالر، سوکار ٹریڈنگ کی 17.21 ڈالر، اور پیٹروچائنا سنگاپور کی 17.69 اور 17.49 ڈالر شامل تھیں۔\n\nتاہم قطر کی سپلائی میں غیر یقینی صورت حال کے باعث حکام دوبارہ سپاٹ مارکیٹ کی طرف گئے ہیں۔\n\nتوانائی وزارت کے حکام کے مطابق چھ مئی کی بولیاں اس امید پر مسترد کی گئیں کہ امریکہ اور ایران مذاکرات میں پیش رفت سے قطر کی ایل این جی سپلائی بحال ہو سکتی ہے۔\n\nایک اہلکار نے کہا: ’یہ انتظار کرو اور دیکھو کی صورت حال ہے۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ کم از کم دو قطری کارگو آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ اس تنگ آبی گزر گاہ میں نقل و حرکت محدود ہے، جبکہ گرمیوں میں بجلی کی طلب بڑھنے سے گیس کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمارچ میں پاکستان کی بجلی پیداوار چھ فیصد بڑھ کر 8,939 گیگا واٹ گھنٹہ ہو گئی۔ بجلی کا بڑا حصہ ہائیڈل، کوئلہ، جوہری اور گیس سے پیدا کیا گیا، جس میں چھ فیصد حصہ درآمدی ایل این جی کا تھا۔\n\nتوانائی کے وزیر نے کہا ہے کہ 3,400 میگاواٹ بجلی کی کمی سے پانچ ایل این جی پاور پلانٹس بند ہو گئے ہیں۔\n\nپاکستان نے مارچ میں صرف 70.2 ملین ڈالر کی ایل این جی درآمد کی، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 69 فیصد کم ہے۔\n\nحکام کے مطابق آئندہ مہینوں میں ایل این جی کی طلب میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اور ملک کو ماہانہ 4 سے 5 کارگو درکار ہوں گے جبکہ صنعت کے لیے مزید دو کارگو بھی ضرورت پڑتی ہے۔\n\nسوئی سدرن گیس کمپنی کے چیئرمین نے کہا کہ سپاٹ مارکیٹ یا قطر سے سپلائی کا انحصار جنگی صورت حال پر ہوگا۔\n\nتوانائی ماہرین کے مطابق اگر سپلائی لائنز متاثر رہیں تو پاکستان کو سپاٹ مارکیٹ پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا اور کچھ گیس مقامی ذرائع سے بھی پوری کی جائے گی جبکہ باقی درآمد کرنا ہوگی۔\n\nایران جنگ\n\nآبنائے ہرمز\n\nقطر\n\nایل این جی\n\nوزارت توانائی\n\nاگر یہ سفر کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو یہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ کوئی قطری ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرے گا۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, مئی 9, 2026 - 19:30\n\nMain image:\n\n> <p>یکم اپریل 2008 کو ایک قطری ایل این جی ٹینکر نہر سویز سے گزر رہا ہے (روئٹرز)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\n2023 کے بعد پاکستان پہلی بار عالمی منڈی سے ایل این جی خریدے گا\n\nایل این جی پر انحصار بجلی کے موجودہ بحران کا باعث: ماہرین\n\nآبنائے ہرمز کی صورت حال پاکستان پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے: عاصم افتخار\n\nایران سے جنگ بندی ختم نہیں ہوئی، آبنائے ہرمز پر لڑائی نہیں چاہتے: پیٹ ہیگستھ\n\nSEO Title:\n\nقطری ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز سے پاکستان کی جانب گامزن\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "قطری ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز سے پاکستان کی جانب گامزن"
}