{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigfv3ttjkt3shaawuictt7wpede76wdwyha6h64pr3b3vu7ff55kq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlhp3b7nxv42"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreig6iq6zrtoox43rz44a5pt44epicobgzt2ra6glvxuzmelh2avo7q"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 173203
},
"path": "/node/185844",
"publishedAt": "2026-05-10T17:06:43.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"القاعدہ",
"افغان طالبان",
"افغانستان",
"شدت پسند تنظیم",
"دہشت گردی",
"عبدالباسط خان",
"نقطۂ نظر",
"news"
],
"textContent": "**حالیہ دنوں میں القاعدہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف جاری ہونے والے تند و تیز بیانات نے خطے میں سکیورٹی کی صورت حال اور سرحد پار دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خدوخال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔**\n\nافغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شدت پسند تنظیمیں ایک بار پھر اس سرزمین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں گی اور اب یہ خطرات حقیقت بن کر سامنے آ رہے ہیں۔\n\nاپریل میں القاعدہ کے مرکزی ترجمان ادارے السحاب فاؤنڈیشن نے، تحریکِ طالبان پاکستان کے سرحد پار حملوں کے جواب میں کنڑ پر کیے گئے پاکستانی فضائی حملوں کی غیر معمولی لیکن شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔\n\nالقاعدہ مرکز کا یہ بیان دراصل اس کے جنوبی ایشیائی ونگ القاعدہ برصغیر کے مارچ میں دیے گئے اس اعلان کی توثیق ہے، جس میں کابل اور قندھار میں ہونے والے فضائی حملوں کی مذمت کی گئی تھی۔\n\nاگرچہ القاعدہ برصغیر اپنے اردو رسالے ’نوائے غزوہ ہند‘ کے ذریعے مستقل طور پر پاکستان مخالف بیانات جاری کرتی رہتی ہے، لیکن طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ القاعدہ مرکز نے پاکستان کے خلاف اور طالبان حکومت کی کھلی حمایت میں بیان جاری کیا ہے، جس میں طالبان کی مدد کے لیے اقدام کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔\n\nواضح رہے کہ القاعدہ نے طالبان کو ان کی فتح پر مبارک باد دی تھی اور اس کا جشن بھی منایا تھا، لیکن اس کے بعد اس نے حکمتِ عملی کے تحت خاموشی اختیار کر لی تھی تاکہ نوآموز طالبان حکومت کے لیے سکیورٹی اور قانونی چیلنجز پیدا نہ ہوں۔\n\nیہ بات قابلِ ذکر ہے کہ القاعدہ طالبان کی اسلامی امارت میں گہری دلچسپی رکھتی ہے اور داعش کے ساتھ اپنی رقابت کے تناظر میں اسے ایک عظیم الشان پیش رفت سمجھتی ہے، کیونکہ داعش عراق اور شام میں اپنی نام نہاد علاقائی خلافت کھو چکی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدونوں بیانات میں استعمال کیے گئے استعارے اور بیانیے بالکل یکساں ہیں۔ ان بیانات میں پاکستان کے موجودہ ہائبرڈ نظام اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اس کے تعلقات کا موازنہ جنرل پرویز مشرف کے فوجی دور اور بش انتظامیہ سے ان کی قربت کے ساتھ کیا گیا ہے۔\n\nپاکستان کے غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں پاکستانی فضائی حملے امریکی سٹریٹجک مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔\n\nالقاعدہ مرکز کا پاکستان کے خلاف طالبان حکومت کی کھلی حمایت کا اعلان کرنا ایک ایسی اہم پیش رفت ہے، جس کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے، تاکہ طالبان کے ساتھ القاعدہ کے مسلسل گٹھ جوڑ اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔\n\nواضح طور پر یہ بیان ان سابقہ خطرات کے جائزوں اور اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ کمیٹی کی ان رپورٹس کی توثیق کرتا ہے، جن کے مطابق القاعدہ نہ صرف طالبان حکومت کے ساتھ قریبی اتحاد برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ وہ تزویراتی (سٹریٹجک) معاملات پر طالبان قیادت کو مشورے بھی دیتی ہے۔\n\nاگرچہ یہ تنظیم شاید اب آپریشنل طور پر پہلے کی طرح فعال نہ ہو، لیکن یہ علاقائی جہادی گروہوں کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھ کر خاموشی سے اپنا دائرہ اثر پھیلا رہی ہے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔\n\nالقاعدہ مرکز تزویراتی صبر (سٹریٹجک پیشنس) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جہاں اس نے خود کو عالمی شدت پسندی کے ایک نظریاتی ہراول دستے کے طور پر قائم کر لیا ہے اور وہ ضابطہ اخلاق کے ذریعے اپنی مختلف ذیلی تنظیموں کی رہنمائی کرتا ہے۔\n\nاپنی موجودہ شکل میں، القاعدہ مرکز میں کمزور لیکن اپنے دائرہ کار یا اطراف میں مضبوط ہے۔ فی الوقت، اس نے سرحد پار حملوں کو اپنی ترجیحات سے نکال دیا ہے اور اس کی تمام تر توجہ لچک پذیری، حالات کے مطابق ڈھلنے اور مقامی شراکت داریوں کے ذریعے اپنی بقا پر مرکوز ہے۔\n\nاس سلسلے میں القاعدہ مرکز کی طالبان کے ساتھ شراکت داری سب سے قدیم اور اہم ترین ہے۔ یہ تعلق 1990 کی دہائی کے وسط سے قائم ہے، جس نے دہشت گردی کے خلاف دو دہائیوں پر محیط عالمی جنگ کے تھپیڑوں کا سامنا کیا اور ایک ایسی فتح کے ساتھ ابھرا ہے، جس کی قیمت بہت بھاری تھی۔\n\nطالبان اور القاعدہ مرکز کے گٹھ جوڑ کا اندازہ ان کی داخلی تنظیموں سے متعلق بعض اہم پیش رفتوں پر ان کے پالیسی موقف کی ہم آہنگی سے لگایا جا سکتا ہے۔\n\nمثال کے طور پر 2022 میں کابل میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی موت کے بعد، طالبان نے وہاں ان کی موجودگی سے انکار کیا۔ اسی طرح القاعدہ نے بھی طالبان کی انکار کی پالیسی سے مطابقت رکھتے ہوئے، باضابطہ طور پر ان کی موت کی تصدیق نہیں کی ہے۔\n\nمزید برآں، القاعدہ نے سیف العدل کو تنظیم کے نئے امیر کے طور پر مقرر کرنے کا بھی سرکاری اعلان نہیں کیا ہے، جو کہ تاحال عملی طور پر اس عالمی عسکریت پسند گروہ کی قیادت کر رہے ہیں۔\n\nافغانستان میں موجود القاعدہ نے اپنی توجہ دور کے دشمن یعنی امریکہ اور مغرب سے ہٹا کر قریبی دشمن یعنی ان مسلم اکثریتی ریاستوں پر مرکوز کر دی ہے، جن پر وہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام لگاتی ہے۔ القاعدہ مرکز کے پاکستان مخالف بیان کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔\n\nاس نئی حکمتِ عملی کے تحت 11 ستمبر 2001 کے واقعات یا 2005 کے لندن بم دھماکوں جیسے ہائی پروفائل بین الاقوامی حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد سے توجہ ہٹ گئی ہے۔\n\nاس کے بجائے، القاعدہ اپنی یمنی شاخ القاعدہ فی جزیرۃ العرب کے ذریعے مغرب میں لون وولف (انفرادی سطح پر) حملوں کی ترغیب دے رہی ہے۔\n\nالقاعدہ مغرب میں مقیم مسلمان تارکینِ وطن کے نظریاتی اختلافات اور شکایات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے اور ایسا کرتے ہوئے وہ انہیں تشدد پر اکسا رہی ہے، اگرچہ حالیہ برسوں میں اسے اس سلسلے میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔\n\nافغانستان اور پاکستان میں اپنی کارروائیوں کے حوالے سے القاعدہ مرکز کی بنیادی توجہ اب عالمگیریت کے بجائے ’مقامی عالمگیریت‘ پر مرکوز ہو گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے، یہ تنظیم خود کو مقامی عسکریت پسند گروہوں میں ضم کر رہی ہے اور ان کے اہداف کے حصول میں ان کی مدد کر رہی ہے۔\n\nتاہم، اس نے ایک خود ساختہ عالمی خلافت کے قیام کے اپنے بڑے مقصد کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف اپنے طریقہ کار کو بلاواسطہ سے بالواسطہ میں تبدیل کر لیا ہے۔\n\n10 ستمبر 2003 کو الجزیرہ ٹی وی پر چلنے والی ایک فوٹیج کے سکرین گریب میں القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری نامعلوم مقام پر دکھائی دے رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)\n\n\n\n\nاس کا ماننا ہے کہ مقامی عسکریت پسند گروہوں کی مدد کر کے اور بین الاقوامی حملوں کو ثانوی حیثیت دے کر وہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کارروائیوں سے محفوظ رہ سکے گی۔\n\nیہ حکمتِ عملی اسے مقامی عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ اتحاد کے ذریعے بقا، بحالی اور دوبارہ ابھرنے کا موقع فراہم کرے گی۔\n\nموجودہ وقت میں القاعدہ، اتحاد المجاہدین پاکستان کی کارروائیوں میں گہرائی سے شامل ہے، جو کہ حافظ گل بہادر، لشکرِ اسلام اور انقلابِ اسلامی پاکستان کا ایک اتحاد ہے۔\n\nیہ مانا جاتا ہے کہ انقلابِ اسلامی پاکستان دراصل القاعدہ کے 313 بریگیڈ کے بچ جانے والے عناصر اور بعض دیگر عسکریت پسند گروہوں کی باقیات کی ایک نئی شکل ہے۔\n\nاس ضمن میں نوائے غزوہ ہند میں فروری 2026 میں شائع ہونے والے ان ماہانہ انفوگرافکس کا ذکر کرنا ضروری ہے، جو دنیا کے مختلف حصوں میں القاعدہ کے حملوں سے متعلق ہیں اور جن میں پاکستان میں اتحاد المجاہدین پاکستان کی دہشت گردانہ مہم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔\n\nاگرچہ القاعدہ مرکز کا عروج اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے، لیکن یہ اب بھی ایک ایسی غیر روایتی قوت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔\n\nتزویراتی صبر، افغانستان جیسی کمزور ریاستوں میں مقامی عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ گٹھ جوڑ اور مرکزیت کے بجائے لچک پذیری کی حکمتِ عملی کے ذریعے القاعدہ نے اپنی اہمیت برقرار رکھی ہے۔\n\nافغانستان میں اس تنظیم کے ارتقا سے نظریں چرانا ایک سنگین غلطی ہوگی، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ اور پالیسی توجہ کی شدید کمی ہے۔\n\nایسے ماحول میں، مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شراکت داری اور انٹیلی جنس ہم آہنگی کو فروغ دینا اور اس کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے کوششیں کرنا، القاعدہ کے ابھرتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔\n\n_نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق پونا ضروری نہیں۔_\n\nالقاعدہ\n\nافغان طالبان\n\nافغانستان\n\nشدت پسند تنظیم\n\nدہشت گردی\n\nالقاعدہ طالبان کی اسلامی امارت میں گہری دلچسپی رکھتی ہے اور داعش کے ساتھ اپنی رقابت کے تناظر میں اسے ایک عظیم الشان پیش رفت سمجھتی ہے۔\n\nعبدالباسط خان\n\nاتوار, مئی 10, 2026 - 06:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">افغان طالبان کی وزارتِ دفاع کا ایک نیا بھرتی ہونے والا کیڈٹ 2 نومبر 2025 کو صوبہ پکتیا کے شہر گردیز کے مضافات میں واقع 203 منصوری کور کے فوجی تربیتی مرکز میں اپنی گریجویشن تقریب کے دوران بھاری ہتھیار سے فائرنگ کی تیاری کرتے ہوئے (اے ایف پی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\n’دہشت گردی پر مبنی پوسٹ کی تعریف‘: القاعدہ بانی کے بیٹے فرانس سے ملک بدر\n\nافغانستان میں القاعدہ دوبارہ جڑ پکڑ رہی ہے: رپورٹ\n\nافغانستان میں القاعدہ نہیں، طالبان نے یو این کا دعویٰ مسترد کردیا\n\nٹی ٹی پی القاعدہ سےالحاق کی کوشش کرسکتی ہے: اقوام متحدہ\n\nSEO Title:\n\nپاکستان کے خلاف القاعدہ کا حالیہ بیان اور افغان طالبان کی حمایت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "پاکستان کے خلاف القاعدہ کا حالیہ بیان اور افغان طالبان کی حمایت"
}