{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiei3m7ajraqrbsca5ltd5v3bu3zexesmiaffdypikwgp7inqf2onu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlexw7o3kd22"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiakbo4rv2v7gmz2s33ysyjluwm7aawqlrjrf3i6gs2jxuhyqk7u5e"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 102453
},
"path": "/node/185814",
"publishedAt": "2026-05-08T13:30:15.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"View this post on Instagram",
"A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
"۱۲۳۴.jpg",
"Screenshot 2026-05-08 175138.jpg",
"Screenshot 2026-05-08 175336.jpg",
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"امریکہ",
"ایران جنگ",
"ایران پر امریکی حملہ",
"امن مذاکرات",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"video",
"لائیو اپ ڈیٹس"
],
"textContent": " * **امریکی تجویز پر ایران کا جواب جمعے کو موصول ہونے کی توقع ہے: مارکو روبیو**\n * **پاکستان نے مذاکرات کے دوران ایران سے فوجی تصادم سے گریز کا مشورہ دیا: ٹرمپ**\n * **جنگ بندی کے بعد اسرائیل کا بیروت پر پہلا حملہ**\n\n**لائیو اپ ڈیٹس**\n---\n\n* * *\n\n**امریکی تجویز پر ایران کا جواب جمعے کو موصول ہونے کی توقع ہے: مارکو روبیو**\n\nامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن کو جمعے کے روز ایران کی جانب سے تنازع ختم کرنے کے لیے امریکی تجاویز پر جواب موصول ہونے کی توقع ہے۔\n\nروم کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں مارکو روبیو نے کہا: ’ہمیں آج کسی وقت ان کی جانب سے جواب ملنے کی توقع ہے۔۔۔ مجھے امید ہے کہ یہ ایک سنجیدہ پیشکش ہوگی۔‘\n\nانہوں نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی کوششوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔\n\nامریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا: ’ایران اب دعویٰ کر رہا ہے کہ یہ آبی گزرگاہ اس کی ملکیت ہے اور اسے ایک بین الاقوامی بحری راستے کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے۔۔ یہ ایک ناقابل قبول بات ہے جسے وہ معمول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘\n\nمارکو روبیو نے یہ بیان اس رپورٹ کے بعد دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کی منظوری کے لیے ایک ادارہ قائم کر دیا ہے۔\n\n* * *\n\n**امریکی حملوں میں ایک جہاز متاثر، 10 ملاح زخمی اور 5 لاپتہ ہوگئے: ایرانی عہدیدار**\n\nایک ایرانی عہدیدار نے جمعے کو کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں رات بھر ہونے والے امریکی حملوں میں ایک ایرانی مال بردار جہاز نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں 10 ملاح زخمی جبکہ پانچ دیگر لاپتہ ہو گئے۔\n\n8 اپریل سے جاری جنگ بندی کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان جمعرات اور جمعے کی شب فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔\n\nایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق جنوبی صوبے ہرمزگان کے عہدیدار محمد رادمہر نے کہا: ’گذشتہ رات آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران (خلیج عمان) کے پانیوں میں امریکی جارحانہ کارروائیوں کے دوران میناب کے قریب ایک مال بردار جہاز نشانہ بنا اور اس میں آگ لگ گئی۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’10 زخمی ملاحوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ مقامی ٹیمیں اور امدادی کارکن دیگر پانچ ملاحوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘\n\nفوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا مال بردار جہاز کو براہ راست نشانہ بنایا گیا تھا یا نہیں۔\n\nدوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ ایرانی افواج نے رات کے دوران تین امریکی جنگی جہازوں پر میزائل، ڈرون اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے حملے کیے، تاہم کوئی جہاز متاثر نہیں ہوا۔ امریکی افواج نے ان حملوں کو ناکام بناتے ہوئے ایران میں زمینی اڈوں پر جوابی کارروائی کی۔\n\nاسی طرح ایران کی فوج کا کہنا تھا کہ امریکی جہازوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب انہوں نے ایران کے ساحلی پانیوں سے روانہ ہونے والے ’ایک ایرانی آئل ٹینکر‘ اور متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ کے مقابل آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک اور جہاز کو ہدف بنایا۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**سی آئی اے کے اندازے ’غلط‘، قوم کے دفاع کے لیے تیاری 1000 فیصد ہے: ایرانی وزیر خارجہ**\n\nایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا ہے کہ اپنی قوم کے دفاع کے لیے ان کے ملک کی تیاری 1000 فیصد ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل کے ذخیروں سے متعلق سی آئی اے کے اعداد و شمار غلط ہیں۔\n\nایکس پر اپنے پیغام میں عباس عراقچی نے ایرانی میزائل ذخیروں سے متعلق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اعدادو شمار کو ’غلط‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’ہماری میزائل انوینٹری اور لانچر کی گنجائش 28 فروری کے مقابلے میں 75 فیصد نہیں ہے۔ درست اعداد و شمار 120 فیصد ہیں۔‘\n\nساتھ ہی انہوں نے کہا: ’جہاں تک اپنے لوگوں کے دفاع کے لیے ہماری تیاری کا تعلق ہے، وہ 1,000 فیصد ہے۔‘\n\nامریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے تجزیے میں ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ایران کے پاس جنگ سے پہلے کے موبائل لانچرز کے ذخیرے کا تقریباً 75 فیصد اور میزائلوں کے ذخیرے کا تقریباً 70 فیصد حصہ اب بھی محفوظ ہے۔\n\nایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’جب بھی کوئی سفارتی حل میز پر ہوتا ہے، امریکہ ایک لاپرواہ فوجی مہم جوئی کا انتخاب کرتا ہے۔ کیا یہ دباؤ ڈالنے کا کوئی بھونڈا حربہ ہے؟ یا پھر کسی مفسد کی جانب سے امریکی صدر کو ایک بار پھر کسی دلدل میں دھکیلنے کا نتیجہ ہے؟‘\n\nساتھ ہی انہوں نے کہا: ’وجوہات جو بھی ہوں، نتیجہ ایک ہی ہے۔ ایرانی کبھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکتے اور سفارت کاری ہمیشہ اس کا شکار بنتی ہے۔‘\n\n## ۱۲۳۴.jpg\n\n* * *\n\n**متحدہ عرب امارات پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں میں تین افراد زخمی**\n\nمتحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے جمعے کو ایکس پر بتایا کہ اماراتی فضائی دفاع نے ایران سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور تین ڈرونز کو نشانہ بنایا۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزارت کے مطابق اس واقعے میں تین افراد کو درمیانے درجے کے زخم آئے۔\n\nوزارت کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر کھلے عام حملوں کے آغاز سے، فضائی دفاعی نظام نے مجموعی طور پر 551 بیلسٹک میزائلز، 29 کروز میزائلز، اور 2,263 یو اے ویز کا مقابلہ کیا ہے۔\n\nاس کے نتیجے میں زخمیوں کی کل تعداد 230 تک پہنچ گئی ہے، جس میں متعدد قومیتیں شامل ہیں، جن میں اماراتی، مصری، سوڈانی، ایتھوپیائی، فلپائنی، پاکستانی، ایرانی، انڈین، بنگلہ دیشی، سری لنکن، آذربائیجانی، یمنی، یوگنڈن، اریٹیرین، لبنانی، افغانی، بحرینی، کومورین، ترک، عراقی، نیپالی، نائجیرین، عمانی، اردنی، فلسطینی، گھانین، انڈونیشیائی، سویڈش، تیونسی، مراکشی، اور روسی شامل ہیں۔\n\nبیان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اموات کی کل تعداد تین تک پہنچ گئی ہے، جن میں ایک سویلین مراکشی شہریت کا حامل ہے جو مسلح افواج کے ساتھ معاہدے کے تحت کام کر رہا تھا، جبکہ سویلین اموات کی کل تعداد 10 ہے جو درج ذیل قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں: پاکستانی، نیپالی، بنگلہ دیشی، فلسطینی، انڈین اور مصری۔\n\nوزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ وہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستعد ہے اور ہر اس چیز کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی جو ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہو، اس انداز میں کہ اس کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور اس کے مفادات اور قومی صلاحیتوں کی حفاظت کی جائے۔\n\n## Screenshot 2026-05-08 175138.jpg\n\n* * *\n\n**چین کی جانب سے آبنائے ہرمز میں چینی آئل ٹینکر پر حملے کی تصدیق**\n\nچین کی وزارت خارجہ نے جمعے کو تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں پٹرولیم مصنوعات لے جانے والے ایک ٹینکر پر حملہ کیا گیا ہے جس پر چینی عملہ سوار تھا۔\n\nروئٹرز کے مطابق چین نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع سے متاثر ہونے والے بحری جہازوں کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔\n\nوزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے معمول کی ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ جہاز پر چینی شہری سوار ہیں، تاہم اب تک عملے کے کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔\n\nچین کے خبر رساں ادارے کیکسن نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ پیر کو آبنائے ہرمز کے قریب چین کی ملکیت والے پٹرولیم مصنوعات کے ایک ٹینکر پر حملہ کیا گیا۔\n\n* * *\n\n**پاکستان نے مذاکرات کے دوران ایران سے فوجی تصادم سے گریز کا مشورہ دیا: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ ’پاکستان نے امریکا سے درخواست کی تھی کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہ کی جائے۔‘\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ بیان آبنائے ہرمز میں دونوں جانب سے فائرنگ کے تبادلے کے بعد سامنے آیا۔\n\nصدر ٹرمپ نے کہا کہ ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، پاکستان شاندار رہا ہے۔ اور اُن کے فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم کی قیادت بھی شاندار رہی۔ اُنہوں نے ہم سے کہا کہ ہم یہ کارروائی نہ کریں۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم دوبارہ اس طرف جائیں گے۔ اُنہوں نے مذاکرات کے دوران ہم سے یہ نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔‘\n\nٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، حالانکہ ایران نے تین امریکی ڈسٹرائرز پر حملہ کیا تھا۔\n\nامریکی فوج کے مطابق اس نے جواب میں ایرانی فوجی اہداف پر حملے کیے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ فائرنگ کے تبادلے کا آغاز واشنگٹن کی جانب سے کیا گیا۔\n\nتازہ کشیدگی نے اس نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو آٹھ اپریل سے نافذ العمل ہے۔ اس جنگ بندی کے نتیجے میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے کئی ہفتوں بعد ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی کا خاتمہ ہوا تھا۔\n\nایران نے اس دوران مشرق وسطیٰ میں مختلف مقامات پر جوابی حملے کیے تھے اور عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا تھا۔\n\nوزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر 26 ستمبر 2025 کو وائٹ ہاؤس واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد موجود ہیں (پی ایم ہاؤس)\n\n\n\n\n* * *\n\n**جنگ بندی برقرار، ایران سے مذاکرات جاری: ڈونلڈ ٹرمپ**\n\nامریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ بندی برقرار ہے اور ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہیں۔\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو واشنگٹن میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ایران کے ساتھ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے؟ تو ٹرمپ نے کہا: ’ہاں وہ برقرار ہے۔ آج انھوں نے ہمارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ ہم نے انھیں اڑا کر رکھ دیا۔ انھوں نے چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ میں اسے ایک معمولی بات کہتا ہوں۔‘\n\nامریکی صدر کا اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں کہنا تھا کہ گولہ باری کے باوجود، تین عالمی معیار کے امریکی ڈسٹرائرز انتہائی کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے ابھی باہر نکلے ہیں۔ ان تینوں ڈسٹرائرز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، لیکن ایرانی حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچا۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’وہ بہت سی چھوٹی کشتیوں سمیت مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ ان کشتیوں کو ایران کی مکمل طور پر مفلوج بحریہ کی جگہ استعمال کیا جا رہا ہے۔‘\n\nایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکی فوج نے کہا کہ اس نے جمعرات کو آبنائے ہرمز میں بحریہ کے تین جہازوں پر ایرانی حملوں کو ناکام بنایا اور ’امریکی افواج پر حملے کی ذمہ دار ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘ جس سے دونوں ممالک کے درمیان ایک ماہ پرانی جنگ بندی کی نزاکت عیاں ہوتی ہے۔\n\nامریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ امریکی افواج نے ’بلااشتعال ایرانی حملوں‘ کو روکا اور اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nامریکی فوج نے کہا کہ کوئی جہاز نشانہ نہیں بنا۔ اس نے مزید کہا کہ وہ کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتی لیکن ’امریکی افواج کے تحفظ کے لیے اپنی پوزیشن پر برقرار اور تیار ہے۔‘\n\nاس دوران ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ملک کی مسلح افواج نے آبنائے میں واقع جزیرہ قشم پر ’دشمن‘ کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا۔ خلیج فارس میں واقع یہ ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جہاں تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار افراد آباد ہیں۔ یہاں سمندری پانی کو میٹھا بنانے کا پلانٹ بھی موجود ہے۔\n\nایرانی سرکاری میڈیا نے مغربی تہران میں بھی زور دار آوازیں سنائی دینے اور دفاعی فائرنگ کی اطلاع دی۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسیوں فارس اور تسنیم کے مطابق، جنوبی ایران میں بندر عباس کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رپورٹس میں ان دھماکوں کی وجہ کی نشاندہی نہیں کی گئی۔\n\n* * *\n\n**پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی واپسی کے لیے سنگاپور کے وزیرخارجہ سے بات کی ہے: اسحاق ڈار**\n\nپاکستانی وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا نے جمعے کو کہا ہے کہ انہوں نے پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی واپسی کے لیے سنگاپور کے وزیرخارجہ سے بات کی ہے۔\n\nاپنی ایکس پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’میں نے سنگاپور کے وزیرِ خارجہ ویویَن بالاکرشِنان سے بات کی اور سنگاپور کی مدد طلب کی تاکہ 11 پاکستانی اور 20 ایرانی سمندری کارکنوں کی فلاح و بہبود اور واپسی کو ممکن بنایا جا سکے، جو امریکی حکام کی جانب سے ضبط شدہ جہازوں پر ہیں اور اس وقت سنگاپور کی حدود کے قریب موجود ہیں۔‘\n\n## Screenshot 2026-05-08 175336.jpg\n\nان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسی معاملے پر میں نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے بھی گفتگو کی، اور ہم اس معاملے پر قریبی رابطے میں ہیں۔ پاکستان اس بات کے لیے بھی تیار ہے کہ ایرانی شہریوں کی محفوظ واپسی کو پاکستان کے راستے ایران تک سہولت فراہم کرے۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ ’ہم سنگاپور کی جانب سے کیے جانے والے تعاون اور حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان، اپنے وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں کے ذریعے، امریکی حکام اور دیگر فریقوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ اپنے شہریوں کی حفاظت، فلاح و بہبود اور جلد از جلد واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘\n\n* * *\n\n**فضائی دفاعی نظام ایران سے آنے والے میزائل خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے: یو اے ای**\n\nمتحدہ عرب امارات نے جمعے کی صبح کہا کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے آنے والے میزائل اور ڈرون خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز نے کہا ہے کہ یہ صورت حال امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ سے جاری غیر مستحکم جنگ بندی کے لیے ایک اور بڑا امتحان سمجھی جا رہی ہے۔\n\nحملے کی فوری تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم یہ واقعہ ایک دن بعد پیش آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے قریب فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا تھا۔\n\nامریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے تھے جس کے بعد تہران نے نہ اسرائیل پر میزائل داغے بلکہ پڑوسی ممالک کو بھی میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانا شروع کر دیا۔\n\nپاکستان اور دیگر ممالک کی کوششوں سے آٹھ اپریل سے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آغاز ہوا تھا جس میں بعد میں توسیع کر دی گئی۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nامریکہ\n\nایران جنگ\n\nایران پر امریکی حملہ\n\nامن مذاکرات\n\nامریکی وزیر خارجہ نے کہا: ’ہمیں آج کسی وقت ان کی جانب سے جواب ملنے کی توقع ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ ایک سنجیدہ پیشکش ہوگی۔‘\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, مئی 8, 2026 - 18:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 8 مئی 2026 کو روم میں امریکی سفارت خانے میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ (سٹیفانو ریلاندینی / پول / اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\nXck6oFgP\n\ntype:\n\nvideo\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nایران سے ’بہت مثبت بات چیت‘ جاری ہے: ٹرمپ\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ جلد متوقع ہے: پاکستان\n\nایران کی ناکہ بندی، امریکی بحریہ قزاقوں جیسا کام کر رہی: ٹرمپ\n\n’بہت اچھی بات چیت‘ کے بعد ایران سے معاہدہ ممکن: امریکی صدر\n\nSEO Title:\n\nامریکی تجویز پر ایران کا جواب جمعے کو موصول ہونے کی توقع ہے: مارکو روبیو\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "امریکی تجویز پر ایران کا جواب جمعے کو موصول ہونے کی توقع ہے: مارکو روبیو"
}