{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreie734ob5vzzvr2rxzdpcq4c4kgsuqa7uzgeaajf6wzwzs6omcnopi",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlexvti6avv2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiajgy6nsmuebsrvk6qg4ymre45s4cuz3edfucq4slhrkupzkbij4y"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 170187
},
"path": "/node/185829",
"publishedAt": "2026-05-08T14:30:33.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"news.com.au",
"Pakistan",
"Balochistan",
"IndependentUrdu",
"pic.twitter.com/9YBd0Fi3t1",
"January 31, 2026",
"پاکستان",
"آسٹریلیا",
"بلوچستان",
"کالعدم بلوچ لیبریشن آرمی",
"پابندی",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"news",
"@indyurdu"
],
"textContent": "**آسٹریلیا نے جمعے کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔**\n\nکالعدم بی ایل اے ایک قوم پرست شدت پسند تنظیم ہے، جن کی عسکریت پسند کارروائیوں سے صوبہ انتشار کا شکار ہے۔\n\nبرطانیہ، پاکستان اور امریکہ سمیت کئی ممالک اسے ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے چکے ہیں، جن کے حملوں میں 2011 سے اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور اس نے خاص طور پر چینی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nآسٹریلیوی ویب سائٹ ’news.com.au‘ کے مطابق جمعے کو پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے آسٹریلین وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ ’دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف آسٹریلیا کا عزم غیر متزلزل ہے۔‘\n\nانہوں نے ایک بیان میں کہا: ’بلوچستان لبریشن آرمی ایک ایسا گروہ ہے، جس نے پاکستان بھر میں پرتشدد دہشت گرد حملے کیے ہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’ان ہولناک حملوں میں شہریوں، اہم انفراسٹرکچر، غیر ملکیوں اور ریاست پاکستان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘\n\nوزیر خارجہ پینی وونگ کے مطابق یہ پابندیاں دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں مدد دیتی ہیں، جس سے ان کے لیے کارروائیاں کرنا، بھرتی کرنا اور اپنی نقصان دہ سوچ پھیلانا مشکل ہو جاتا ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے جو سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔\n\nانہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی فہرست میں شامل فرد یا تنظیم کے اثاثے استعمال کرنا یا انہیں فراہم کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے، جس پر بھاری جرمانے اور 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔\n\n> بلوچستان: کالعدم بی ایل اے کے حملوں میں مبینہ طور پر خواتین بھی شامل\n>\n> کالعدم علیحدگی پسند گروپ بلوچستان لبریشن آرمی کی شیئر کردہ ویڈیوز میں خواتین کو ہفتے کو بلوچستان بھر میں مربوط حملوں میں مبینہ طور پر حصہ لیتے دکھایا گیا ہے۔#Pakistan #Balochistan #IndependentUrdu pic.twitter.com/9YBd0Fi3t1\n>\n> — Independent Urdu (@indyurdu) January 31, 2026\n\nبی ایل اے نے رواں سال جنوری میں پاکستان میں حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی تھی، جسے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کا نام دیا گیا، جس کے دوران صوبے کے نو اضلاع میں خودکش دھماکے اور مسلح حملے کیے گئے۔\n\nحکام کے مطابق ان حملوں میں 274 افراد جان سے گئے تھے۔\n\nجس کے بعد پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا تھا وہ بی ایل اے کو اپنی پابندیوں کی رجیم کے تحت ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرنے کے لیے کام کرے۔\n\nیہ گروہ غیر بلوچ افراد کو کر ٹارگٹ کلنگ، اجتماعی قتل اور انفراسٹرکچر پر مہلک تخریبی حملوں میں بھی ملوث رہا ہے۔\n\nآسٹریلیا\n\nپاکستان\n\nبلوچستان\n\nکالعدم بلوچ لیبریشن آرمی\n\nپابندی\n\nپابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے آسٹریلین وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ ’دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف آسٹریلیا کا عزم غیر متزلزل ہے۔‘\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, مئی 8, 2026 - 19:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ایک سکیورٹی اہلکار 30 جنوری 2024 کو بلوچستان کے ضلع بولان میں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی کے مسلح علیحدگی پسندوں کی جانب سے جلائے گئے ٹرک کنٹینرز کے قریب پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبلوچستان میں حملے کا نشانہ بننے والی مائننگ کمپنی کون سی ہے؟\n\nسلامتی کونسل بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے: پاکستان\n\nامریکہ کی جانب سے بی ایل اے، مجید بریگیڈ کو دہشت گرد قرار دینے پر پاکستان کا خیر مقدم\n\nبلوچستان: ٹرین ہائی جیک کرنے والی تنظیم بی ایل اے کون ہے؟\n\nSEO Title:\n\nآسٹریلیا نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی پر پابندیاں عائد کر دیں\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "آسٹریلیا نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی پر پابندیاں عائد کر دیں"
}