{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihbg77qoe2w6htplwjcpeb2lnx2b4icdhtfyf4kkf4hencxe4twie",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlcar5ei2sj2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreid4yphmgf43lq3toy2y63krj2tnwjkvspdzvvczkhas76z4jscmpq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 92882
  },
  "path": "/node/185805",
  "publishedAt": "2026-05-07T08:14:27.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "متحدہ عرب امارات",
    "پاکستانی",
    "ابوظبی",
    "دبئی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی واپسی کا معاملہ انتظامی ہے جس میں قانونی اور دیگر خلاف ورزیاں شامل ہیں اور اس کے پیچھے کوئی سیاسی وجہ نہیں ہے۔**\n\nجمعرات کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ ’یہ معاملات بنیادی طور پر انتظامی اقدامات سے پیدا ہوئے، بشمول امیگریشن کی حیثیت کی خلاف ورزیاں اور دیگر قانونی خلاف ورزیاں کے۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ ’دبئی میں پاکستانی قونصل خانہ نے تقریباً 714 ایمرجنسی سفری دستاویزات جاری کیں، جب کہ ابوظبی نے جنوری اور اپریل کے درمیان ان میں سے تقریباً 780 دستاویزات جاری کیں۔ تو یہ چار ماہ کی مدت تھی جس کو ٹریک کیا گیا۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ ’میں آپ کو مزید بتا سکتا ہوں کہ ملک بدری کے اعداد و شمار مستحکم ہیں۔ یہ صورت حال بڑی حد تک یو اے ای میں شاہی عدالت کی معافی سے پیدا ہوئی جس نے قید میں بند افراد کی رہائی اور وطن واپسی کو ممکن بنایا۔‘\n\nترجمان دفتر خارجہ کے مطابق: ’یہ کچھ افراد کو دی گئی شاہی معافی کے نتیجے میں ہوا جو جیل میں بند تھے۔ ہمارا سفارت خانہ اور حکام یو اے ای کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ ’خلیجی علاقے میں کشیدگی اور یو اے ای کے خلاف انتہائی سنگین حوثی حملوں کے نتیجے میں، جن کی ہم نے مذمت کی ہے، ہماری کمیونٹی مقامی قوانین اور ہدایات کی مکمل تعمیل کرتی ہے۔‘\n\nان کے مطابق: ’مجموعی طور پر، ایک یا دو معاملات کے علاوہ، کمیونٹی مقامی حکام کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ تو میرے خیال میں یہی موجودہ صورت حال ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nترجمان دفتر خارجہ نے کہا: ’اس معاملے کو وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے ذریعے نمٹایا جا رہا ہے، اور عمل اسی کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ میں ملک بدری کے پیچھے کوئی سیاسی وجہ نہیں دیکھتا۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ ’یہ بنیادی طور پر قانونی معاملات ہیں، جن کو یو اے ای میں ہمارے سفارتی مشنز کے ساتھ ساتھ یو اے ای کے حکام دونوں کے ذریعے دیکھا جا رہا ہے۔‘\n\nپاکستانی سوشل میڈیا پر گذشتہ کئی روز سے ایسی ویڈیوز اور رپورٹس گردش کر رہی تھیں کہ کچھ پاکستانیوں کو یو اے ای سے واپس پاکستان بھیجا گیا ہے تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کی نیوز بریفنگ میں ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یو اے ای میں مختلف قانونی اور انتظامی خلاف ورزیوں کے باعث قید ان پاکستانیوں کی وطن واپسی شاہی عدالت کی معافی کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔‘\n\nپاکستان\n\nمتحدہ عرب امارات\n\nپاکستانی\n\nابوظبی\n\nدبئی\n\nپاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی واپسی کا معاملہ قانونی اور انتظامی ہے جس میں قانونی اور دیگر خلاف ورزیاں شامل ہیں اور اس کے پیچھے کوئی سیاسی وجہ نہیں ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, مئی 7, 2026 - 13:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">18 جنوری، 2024 کی اس تصویر میں ایک سکیورٹی اہلکار اسلام آباد میں واقع دفتر خارجہ کے باہر پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nیو اے ای کو 3.45 ارب ڈالر کی واپسی مکمل ہو گئی: پاکستان\n\nیو اے ای کو رقم واپسی، پاکستان نے ’گمراہ کن‘ خبریں مسترد کردیں\n\nیو اے ای کا حزب اللہ، ایران سے جڑے گروہ کے ارکان گرفتار کرنے کا اعلان\n\nصدر زرداری کا یو اے ای کا دورہ، تعلقات کے مکمل سپیکٹرم کا جائزہ لیا جائے گا\n\nSEO Title:\n\nیو اے ای سے پاکستانیوں کی واپسی قانونی اور انتظامی معاملہ ہے سیاسی نہیں: دفتر خارجہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "یو اے ای سے پاکستانیوں کی واپسی قانونی اور انتظامی معاملہ ہے سیاسی نہیں: دفتر خارجہ"
}