{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifcgdyqnuwopolwkfmjzvr6do6h3hh2bxnmxbitex7kjv4bnyngie",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3ml7cujwjuce2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreic5q3pl4gb4mgw3pctlm2xvysoji4zqtxbwvk5g2crh6dltnjswu4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 110362
},
"path": "/node/185789",
"publishedAt": "2026-05-06T06:16:08.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"جاپان",
"بچے",
"آبادی",
"بحران",
"معروشہ مظفر",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**جاپان میں بچوں کی آبادی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے اور اس طرح طویل عرصے سے جاری کمی کا یہ سلسلہ برقرار رہنے کی وجہ سے مشرقی ایشیائی ملک میں آبادی کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔**\n\nپیر کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یکم اپریل 2026 تک 15 سال اور اس سے کم عمر بچوں کی تعداد ایک کروڑ 32 لاکھ 90 ہزار تھی، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 3 لاکھ 50 ہزار کم ہے۔\n\n1950 میں ریکارڈ مرتب کیے جانے کے آغاز کے بعد سے یہ اب تک کی سب سے کم تعداد ہے اور کمی کا یہ مسلسل 45 واں سال ہے۔\n\nکل آبادی میں اب بچوں کا تناسب 10.8 فیصد ہے، جو ریکارڈ پر سب سے کم تناسب ہے۔\n\n22 اپریل 2023 کی اس تصویر میں ٹوکیو میں ایک مقابلے میں شریک ایک خاتون نے اپنے بچے کو اٹھا رکھا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nان تخمینوں میں غیر ملکی رہائشی بھی شامل ہیں، اور یہ مردم شماری سے منسلک آبادی کے اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔\n\nیہ اعداد و شمار منگل کو بچوں کے دن سے قبل جاری کیے گئے۔\n\nحکومت نے 2030 تک کے عرصے کو ’اس رجحان کو بدلنے کا آخری موقع‘ قرار دیا ہے، اگرچہ بچوں کی پرورش کرنے والے خاندانوں کے لیے مالی امداد بڑھانے جیسے اقدامات اب تک کارگر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔\n\nاعداد و شمار کے مطابق، صنف کے لحاظ سے 68 لاکھ 10 ہزار لڑکے اور 64 لاکھ 80 ہزار لڑکیاں ہیں۔\n\nعمر کے لحاظ سے، بڑے بچوں کی تعداد چھوٹے بچوں سے زیادہ ہے۔ 12 سے 14 سال کی عمر کے 30 لاکھ 90 ہزار بچوں کے مقابلے میں، صفر سے دو سال کی عمر کے بچوں کی تعداد 21 لاکھ 30 ہزار تھی۔\n\nوزارت صحت کے الگ سے حاصل ہونے والے ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 میں بچوں کی پیدائش کی تعداد مسلسل دسویں سال کم ہو کر سات لاکھ پانچ ہزار 809 کی کم ترین ریکارڈ سطح پر آ گئی۔\n\nجاپان میں بچوں کی آبادی 1954 میں دو کروڑ 98 لاکھ 90 ہزار کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی اور 1982 میں اس میں کمی آنا شروع ہو گئی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nکل آبادی کے مقابلے میں بچوں کے تناسب میں 1975 سے مسلسل 52 سال سے کمی واقع ہو رہی ہے۔\n\nاقوام متحدہ کے ایک سروے کے مطابق، چار کروڑ سے زیادہ آبادی والے ممالک میں بچوں کے سب سے کم تناسب کے لحاظ سے جاپان جنوبی کوریا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے، جہاں یہ تناسب 10.2 فیصد ہے۔\n\nگذشتہ سال فروری میں، یہ رپورٹ کیا گیا تھا کہ جاپان میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد 125 سال قبل ریکارڈ مرتب کیے جانے کے آغاز کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جو حکومت کی جانب سے اس کمی کو روکنے کی کوششوں کے باوجود مسلسل نویں سال کم ہوئی ہے۔\n\nاس وقت وزارت صحت نے کہا تھا کہ 2024 میں جاپان میں سات لاکھ 20 ہزار 988 بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں پانچ فیصد کم ہے۔\n\nگذشتہ جنوری میں، آبادیاتی رجحانات اور عمر رسیدہ معاشروں کے ایک ماہر نے خبردار کیا تھا کہ اگر جاپان میں شرح پیدائش میں موجودہ کمی کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا، تو 5 جنوری 2720 تک ملک میں 14 سال سے کم عمر کا صرف ایک بچہ رہ جائے گا۔\n\nجاپان\n\nبچے\n\nآبادی\n\nبحران\n\n1950 میں ریکارڈ مرتب کیے جانے کے آغاز کے بعد سے یہ اب تک کی بچوں کی سب سے کم تعداد ہے\n\nمعروشہ مظفر\n\nبدھ, مئی 6, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">19 جون 2016 کی اس تصویر میں یوکوہاما کے ایک نرسری سکول میں ایک ٹیچر بچوں کو پڑھاتے ہوئے (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nجب ہم جاپانی سومو پہلوان سے کشتی لڑتے لڑتے بچے\n\nبیوی کی لاش کو چڑیا گھر میں جلانے والا جاپانی شوہر گرفتار\n\nآسٹریلیا کو شکست، جاپان نے تیسری بار خواتین ایشیا کپ جیت لیا\n\nپیڈل جاپان میں ایشیائی کھیلوں میں ایونٹ کے طور پر شامل\n\nSEO Title:\n\nجاپان: بچوں کی تعداد کم ترین سطح پر، آبادی کا بحران مزید سنگین\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/japan/japan-child-population-decline-birthrate-b2970573.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "جاپان میں بچوں کی تعداد کم ترین سطح پر آ گئی"
}