{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidwys2tioiloco646ca3ajvmlndckk6sc5tzkdnta53ii5nsugpse",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3ml7ctragtaf2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiaskrsnrzpw66migiintldwb2o2vjqj3oxypxlwmghpc2563e2zzu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 138285
},
"path": "/node/185794",
"publishedAt": "2026-05-06T12:22:35.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"خیبر پختونخوا",
"ہڑتال",
"عمران خان",
"پی ٹی آئی",
"اظہار اللہ",
"دفتر",
"video"
],
"textContent": "**خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے آج (بدھ کو) وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر سرکاری دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال کی۔**\n\nصوبائی حکومت کے مطابق اس ہڑتال کا مقصد وفاقی حکومت کا مبینہ طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ جیل میں ناروا سلوک ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین نے بتایا کہ وہ آج دفاتر تو گئے لیکن ہڑتال کے اعلان کے باعث کوئی کام نہیں کیا۔\n\nیہ ہڑتال اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی تھی۔ ماضی میں مزدور یونینز، اساتذہ، ڈاکٹرز اور دیگر پیشہ ورانہ تنظیمیں حکومت کے خلاف قلم چھوڑ ہڑتال کرتی رہی ہیں، لیکن کسی صوبائی حکومت کا خود اپنے سرکاری محکموں میں ہڑتال کا شاید یہ پہلا واقعہ ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nہڑتال کی بنیادی تعریف یہی ہے کہ ملازمین اپنے ادارے یا آجر کے خلاف حقوق کے حصول کے لیے کام روک دیں جبکہ آج کا منظر اس تعریف سے یکسر مختلف تھا۔\n\n**قلم چھوڑ ہڑتال کی تاریخ**\n\nمزدوروں اور ملازمین کی ہڑتالوں کی روایت صدیوں پرانی ہے۔ انٹرنیشنل جرنل آف ہیومینیٹیز کے مطابق ’سٹرائک ان ورک‘ کی اصطلاح پہلی بار 17ویں صدی میں اس وقت سامنے آئی جب ملازمین نے اپنے حقوق کے لیے منظم احتجاج شروع کیا۔\n\nانڈیا کی نیشنل لا یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق قلم چھوڑ ہڑتال کا تصور برصغیر میں 1930 میں ابھرا، جب ملازمین دفاتر آتے تو تھے لیکن کام کرنے سے گریز کرتے۔\n\nاُس وقت لیبر کمیشن کے سامنے یہ قانونی سوال اٹھا کہ آیا اسے باقاعدہ ہڑتال تسلیم کیا جائے یا بدنظمی شمار کیا جائے۔\n\nبعد ازاں ہندوستان کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے میں قلم چھوڑ ہڑتال کو قانونی طور پر ہڑتال کی تعریف میں شامل کر لیا۔\n\nاپنے مطالبات منوانے میں مؤثر ثابت ہونے کے باعث یہ طریقۂ احتجاج جنوبی ایشیا میں مقبول ہوتا گیا اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان اور انڈیا دونوں میں ایک باقاعدہ احتجاجی شکل اختیار کر گیا۔\n\nخیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر کارکن 30 جنوری، 2026 کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کر رہے ہیں(انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\n**پاکستان میں قلم چھوڑ ہڑتال**\n\nپاکستانی تاریخ میں قلم چھوڑ ہڑتال کی نمایاں مثال 1965 میں سامنے آئی جب نیشنل بینک آف پاکستان کے ملازمین نے بونس کے مطالبے پر کام کرنے سے انکار کر دیا۔\n\nاس کے بعد سے یہ احتجاجی طریقہ مختلف سرکاری محکموں میں وقتاً فوقتاً استعمال ہوتا رہا ہے۔\n\nتاہم موجودہ صوبائی حکومت نے اس روایت میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے: اب حکومت خود بھی اپنے محکموں میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔\n\nخیبر پختونخوا\n\nہڑتال\n\nعمران خان\n\nپی ٹی آئی\n\nماضی میں ملازمین اپنے محکموں یا حکومت کے خلاف ہڑتال کرتے رہے ہیں لیکن کسی صوبائی حکومت کا خود اپنے محکموں میں ہڑتال کرنے کا شاید یہ پہلا واقعہ ہے۔\n\nاظہار اللہ\n\nبدھ, مئی 6, 2026 - 17:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر کارکن 30 جنوری، 2026 کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کر رہے ہیں(انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nدفتر\n\njw id:\n\nm9PynpXv\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nبلوچستان میں سرکاری ملازمین کی الاؤنس کے لیے ہڑتال\n\nپنجاب: ڈاکٹروں کی ہڑتالیں بھی اور عارضی بھرتیاں بھی\n\nخیبر پختونخوا میں ڈرون حملے، وزیر اعلیٰ کا احتجاج کا عندیہ\n\nSEO Title:\n\nخیبر پختونخوا میں منفرد ’سرکاری‘ ہڑتال، تاریخ کیا بتاتی ہے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "خیبر پختونخوا میں منفرد ’سرکاری‘ ہڑتال، تاریخ کیا بتاتی ہے"
}