{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreie7pdjfjizmxcrzdn6mwth2kz3nox6sjd2yujb4boshr6ytlukhlm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3ml7ctglmwyu2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihwxubign5qfogqzrohkizgiqf7j5j6g63rejmy3xtrbodizuvlvm"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 93294
},
"path": "/node/185795",
"publishedAt": "2026-05-06T13:19:20.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"چناب",
"دریا",
"پانی",
"سندھ طاس معاہدہ",
"قرۃ العین شیرازی",
"ماحولیات",
"news"
],
"textContent": "**حکومت پاکستان نے انڈیا سے آنے والے دریائے چناب کے بہاؤ میں نمایاں کمی پر پڑوسی ملک سے باضابطہ وضاحت طلب کر لی۔**\n\nپاکستان کے کمشنر برائے سندھ طاس مہر علی شاہ نے تصدیق کی کہ انہوں نے اپنے انڈین ہم منصب سے رابطہ کیا ہے جبکہ پاکستانی حکام اعداد و شمار کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس کمی کے پیمانے اور ممکنہ اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔\n\nوزارت آبی وسائل کے ایک سینیئر عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پانی کے بہاؤ میں یہ کمی مرالہ ہیڈ ورکس پر ریکارڈ کی گئی۔\n\nان کے مطابق یہ صورتحال سندھ طاس معاہدے کی شقوں سے مطابقت نہیں رکھتی، جو پاکستان اور انڈیا کے درمیان دریائی پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے۔\n\nعہدے دار نے خبردار کیا کہ یہ کمی ممکنہ طور پر معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپاکستان کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ آبی وسائل کے حوالے سے کشیدگی پہلے سے بڑھی ہوئی ہے اور سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کے بارے میں سنجیدہ تحفظات پائے جاتے ہیں۔\n\nپاکستان ماضی میں بھی بالائی دریاؤں پر ہائیڈرولوجیکل تبدیلیوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے حوالے سے خدشات اٹھاتا رہا ہے۔\n\nآبی ماہر ڈاکٹر فضل الدا نبیل کے مطابق دریا کے بہاؤ میں کسی بھی غیر متوقع تبدیلی سے آبپاشی کی منصوبہ بندی درہم برہم ہو سکتی ہے اور زیریں علاقوں میں زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔\n\nواضح رہے کہ دریائے چناب پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔\n\nچناب\n\nدریا\n\nپانی\n\nسندھ طاس معاہدہ\n\nپاکستانی حکام اعداد و شمار کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس کمی کے پیمانے اور ممکنہ اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nبدھ, مئی 6, 2026 - 18:15\n\nMain image:\n\n> <p style=\"direction:rtl\">راہگیر 26 اگست، 2023 کو پنجاب کے ضلع حاصل پور میں اسلام ہیڈ ورکس پر دریائے ستلج میں پانی کے تیز بہاؤ کو دیکھ رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nماحولیات\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسندھ طاس معاہدے پر انڈیا کا اقدام آبی سلامتی کے لیے خطرہ: پاکستان\n\nسندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے سرخ لکیر ہے: شہباز شریف\n\nانڈیا نے دریائے چناب میں دو مرتبہ غیر اعلانیہ پانی چھوڑا: پاکستان\n\nدریائے چناب میں اچانک اتار چڑھاؤ، کیا انڈیا نے پانی روکنا شروع کر دیا؟\n\nSEO Title:\n\nدریائے چناب میں پانی کی کمی، پاکستان کی انڈیا سے وضاحت طلب\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "دریائے چناب میں پانی کی کمی، پاکستان کی انڈیا سے وضاحت طلب"
}