{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiba37c5uofdp34c3n3q4oh433ily745shdkk3l3svu4k3q7au22xi",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3ml3xjf4q5r62"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiexpezk6utje6wq5q7rsefxnqu5tmwlgoo6tvgr4kjljet67l6jii"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 43133
},
"path": "/node/185776",
"publishedAt": "2026-05-05T08:27:38.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"افغانستان",
"افغانستان کا بحران",
"افغان امن",
"افغان امن مذاکرات",
"اظہار اللہ",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق معروف عالم دین اور جمیعت علمائے اسلام کے صوبائی سرپرست مولانا محمد ادریس منگل کو چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جان سے چلے گئے۔**\n\nضلعی پولیس سربراہ محمد وقاص خان کے مطابق واقعے میں مولانا ادریس کی سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کے ذریعے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔\n\nوزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے جب کہ مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے واقعے کی مذمت اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔\n\n**مولانا شیخ ادریس کون تھے؟**\n\nمولانا محمد ادریس خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں 1961 میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم گاؤں کے سکول سے حاصل کی۔\n\nدینی تعلیم پہلے علاقے کے مدرسے سے اور بعد میں نوشہرہ کے معروف مدرسے جامعہ دارالعلوم حقانیہ چلے گئے۔ ان دنوں وہ ترنگزئی میں جامعہ نعمانیہ کے نام سے مدرسہ چلا رہے تھے۔\n\nوہ 2002 میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے جب کہ جمیعت علمائے اسلام کی مرکزی شوریٰ کے رکن بھی تھے۔\n\nمولانا محمد ادریس 2007 میں پشاور میں قتل ہونے والے معروف عالم دین مولانا حسن جان کے داماد تھے اور دونوں کا تعلق ضلع چارسدہ سے تھا۔\n\nخودکش حملوں کے خلاف اس وقت فتویٰ دینے والے مولانا حسن جان کو پشاور کے وزیر باغ کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔\n\n31 مارچ 2026 کو پشاور میں قومی اصلاحی تحریک اور ایسپائر کے زیر اہتمام منعقد کیے گئے جرگے کا ایک منظر (انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\n**پاکستان افغان امن مذاکرات میں مولانا ادریس کا کردار**\n\nمولانا محمد ادریس 2022 میں مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے جانے والے علما کے وفد کا بھی حصہ تھے جس نے وفد کے ساتھ کابل جا کر افغان طالبان کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔\n\nمولانا محمد ادریس دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں متعدد افغان طالبان رہنماؤں کے استاد رہ چکے ہیں اور اسی وجہ سے ان کا افغان طالبان میں کافی اثر و رسوخ موجود اور اس دورے کے بارے میں انہوں نے کچھ ہفتے پہلے پشاور میں منعقدہ جرگے میں گفتگو بھی کی تھی۔\n\nانہوں نے پشاور یونیورسٹی کے ایریا سٹڈی سینٹر میں پاک افغان امن جرگے سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ سب سے پہلے ہم پاکستانی ہیں اور ہمیں اپنے گھر سے زیادہ پاکستان اور یہاں کا امن عزیز ہے۔\n\nکابل دورے کے بارے میں انہوں نے بتایا تھا کہ ’وہاں ہمارے شاگرد موجود ہیں جو یہاں پاکستان سے پڑھے ہیں اور دونوں ممالک کو امن قائم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہییں کیوں کہ افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں بھی امن ہوگا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**مولانا ادریس اور سیاست**\n\nمولانا محمد ادریس خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن رہے اور سیاست کو ایک دینی فریضہ سمجھتے تھے جب کہ سیاست کے بارے میں ان کی رائے یہ تھی کہ ’سیاست دراصل لوگوں کی رہنمائی کرنا ہے۔‘ ان کا مؤقف رہا کہ علما کا سیاست میں بہت بڑا کردار ہے اور ان کا کردار صرف مسجد اور منبر تک محدود نہیں ہے۔\n\nخواتین کی سیاست پر ان کی رائے تھی کہ ’ہر ایک سیاسی جماعت کی خواتین کی سیاست میں کردار کے حوالے سے اپنی پالیسی ہوتی ہے اور بعض ان کو مظاہروں اور تقاریب میں شریک کرتے ہیں جب کہ بعض کی ایسی پالیسی نہیں ہے۔‘\n\n’جمعیت علمائے اسلام کی اپنی خواتین کی ایک شاخ موجود ہے اور وہ فعال کردار ادا کرتی ہے لیکن ہماری پالیسی یہ ہے کہ ہم خواتین کو جلسے جلوسوں میں نہیں نکالتے۔‘\n\nجمیعت علمائے اسلام کے صوبائی ترجمان اور مولانا ادریس کے قریبی ساتھی عبدالجلیل جان کے مطابق مولانا ادریس ان کی انتخابی مہم کے لیے خود آئے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ درس و تدریس کی بات کی جائے تو افغانستان سے لے کر جاپان، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر میں میں بھی ان کے شاگرد موجود ہیں اور وہاں درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔\n\nامن کے حوالے سے جلیل جان نے بتایا کہ مولانا ادریس کا یہی موقف تھا کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ نہ لڑیں ان کا کہنا تھا کہ ‘بد قسمتی یہی ہے کہ امن کے داعے اور امن کی بات کرنے والے کو نشانہ بنایا گیا۔‘\n\nافغانستان\n\nافغانستان کا بحران\n\nافغان امن\n\nافغان امن مذاکرات\n\nمعروف عالم دین اور جمیعت علمائے اسلام کے صوبائی سرپرست مولانا محمد ادریس کی منگل کو نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں موت ہو گئی ہے۔\n\nاظہار اللہ\n\nمنگل, مئی 5, 2026 - 12:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">چارسدہ میں نامعلوم افراد کے حملے میں جان سے جانے والے مولانا محمد ادریس (سابق سینیٹر مشتاق احمد/ایکس)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان، افغانستان امن بات چیت آگے بڑھ رہی ہے: چین\n\nپاکستان، افغانستان کے چین میں ’ورکنگ لیول مذاکرات‘ کی تصدیق\n\nپشاور میں ’پائیدار امن‘ کے لیے پاکستان افغانستان امن جرگہ\n\nپاکستان اور افغانستان کے اورمچی میں مذاکرات: رپورٹ\n\nSEO Title:\n\nپاک افغان مذاکرات میں کردار ادا کرنے والے مقتول مولانا ادریس کون تھے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پاک افغان مذاکرات میں کردار ادا کرنے والے مقتول مولانا ادریس کون تھے؟"
}