{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreibcaxdzvurqmuzyrhiugsmduvwxhbzlwwuazazxne7hudvumi7eie",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3ml3jnhjsvh62"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreid56plub2jho5sofduitvfanapyz4psy4vkr5muucn2hh56cjmiue"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 50990
},
"path": "/node/185771",
"publishedAt": "2026-05-05T04:04:42.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"مصنوعی ذہانت",
"سائبر کرائم",
"ہیکرز",
"لوسنڈا کیمرون",
"ٹیکنالوجی",
"news"
],
"textContent": "**ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سائبر مجرموں کو مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔**\n\nاس تحقیق میں زیر زمین اور ڈارک ویب پر موجود سائبر کرائم کمیونٹیز کی تقریباً 10 کروڑ پوسٹس کا تجزیہ کیا گیا۔\n\nمحققین نے پایا کہ زیادہ تر سائبر مجرموں میں اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنے جرائم میں استعمال کرنے کی مہارت یا وسائل موجود نہیں۔\n\nایڈنبرا، سٹراتھ کیلائیڈ اور کیمبرج کی یونیورسٹیوں کے محققین کی ٹیم نے کرائم بی بی ڈیٹابیس میں موجود گفتگوؤں کا تجزیہ کیا، جس میں ڈارک ویب اور زیرِ زمین سائبر کرائم فورمز سے جمع کی گئی 10 کروڑ سے زائد پوسٹس شامل ہیں۔\n\nگفتگوؤں کے تجزیے کے لیے مشین لرننگ ٹولز اور مینوئل سیمپلنگ کا استعمال کیا گیا۔\n\nمحققین ایسے پیغامات تلاش کر رہے تھے جن میں ذکر ہو کہ سائبر مجرم، جنہیں عام طور پر ہیکرز کہا جاتا ہے، نومبر 2022 کے بعد کس طرح اے آئی ٹیکنالوجی کے ساتھ تجربات کر رہے تھے۔\n\nاسی ماہ میں چیٹ جی پی ٹی بھی پیش کیا گیا تھا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ سائبر کرائم کرنے کی مہارت میں اضافہ کرنے کی بجائے اے آئی کوڈنگ اسسٹنٹس زیادہ تر انہی لوگوں کے کام آ رہے ہیں جو پہلے ہی ماہر ہیں کیونکہ ان ٹولز کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے نمایاں مہارت اور علم ضروری ہیں۔\n\nمحققین کے مطابق اے آئی کا سب سے کامیاب استعمال سوشل میڈیا بوٹس چلانے میں دیکھا گیا۔\n\nایسے بوٹس جو خواتین کے خلاف نفرت انگیز ہراسانی کرتے ہیں یا فراڈ کے ذریعے پیسہ کماتے ہیں اور ایسے نمونوں کو چھپانے میں جو عام طور پر سائبر سکیورٹی ماہرین شناخت کر لیتے ہیں۔\n\nتاہم محققین نے اطمینان ظاہر کیا کہ بڑے چیٹ بوٹس پر لگے حفاظتی اقدامات (guardrails) نقصان کو کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔\n\nایڈنبرا یونیورسٹی کے سکول آف سوشل اینڈ پولیٹیکل سائنس کے سینیئر لیکچرر ڈاکٹر بین کولیر نے کہا ’سائبر مجرم ان ٹولز کے ساتھ تجربات ضرور کر رہے ہیں مگر جو ہمیں نظر آتا ہے، یہ انہیں اپنے کام میں کوئی حقیقی فائدہ نہیں دے رہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n’ہماری صنعت کے لیے پیغام ہے، ابھی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔\n\n’اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کمپنیاں اور عام لوگ ناقص سکیورٹی والے اے آئی سسٹمز اپناتے ہیں، جو انہیں ایسے تباہ کن حملوں کے لیے کھول دیتے ہیں جنہیں سائبر مجرم کم سے کم مہارت سے انجام دے سکتے ہیں۔‘\n\nتحقیق میں مزید پایا گیا کہ کئی سائبر کرائم کمیونٹی کے افراد اے آئی کے بڑھتے اثرات کی وجہ سے اپنی ’آئی ٹی نوکریاں‘ کھونے کے خوف میں مبتلا ہیں اور یہ خدشہ ہے کہ اس پریشانی کی وجہ سے وہ مزید سائبر جرائم کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔\n\nرپورٹ کے مصنفین نے خبردار کیا کہ صنعت کے لیے سب سے بڑا خطرہ غیر محفوظ ’ایجنٹک ‘ اے آئی سسٹمز اپنانے سے ہوگا۔\n\nایسے اے آئی سسٹمز جو خود مختار طور پر کام کر سکتے ہیں، کاموں کے فیصلے خود لے سکتے ہیں اور عمل انجام دے سکتے ہیں۔\n\nانہوں نے ’وائب کوڈڈ‘ سافٹ ویئر کے خطرات سے بھی خبردار کیا، یعنی ایسا کمپیوٹر کوڈ جو پوری طرح اے آئی کے ذریعے لکھا گیا ہو لیکن اس میں مناسب سکیورٹی نہ رکھی گئی ہو۔\n\nتحقیق کے نتائج کا جائزہ لیا جا چکا ہے اور وہ جون میں امریکہ کے شہر برکلے میں ہونے والی ’ورک شاپ آن دی اکنامکس آف انفارمیشن سکیورٹی‘ میں پیش کیے جائیں گے۔\n\nمصنوعی ذہانت\n\nسائبر کرائم\n\nہیکرز\n\nتحقیق کے مطابق زیادہ تر سائبر مجرموں میں اے آئی کو اپنے جرائم میں استعمال کرنے کی مہارت یا وسائل موجود نہیں۔\n\nلوسنڈا کیمرون\n\nمنگل, مئی 5, 2026 - 08:45\n\nMain image:\n\n> <p>12 جولائی، 2023 کو اوسلو میں ایک فون کے سکرین گریب میں مختلف اے آئی ایپس نظر آ رہی ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nہیکروں کی جدید تکنیک سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟\n\nشمالی کوریا کے ہیکرز نے تاریخ کی سب سے بڑی چوری کیسے کی؟\n\nچین کے اے آئی نے ایک دہائی پرانا ریاضی کا مسئلہ حل کر لیا\n\nٹام کروز اور بریڈ پٹ کی اے آئی ویڈیو، ہالی وڈ تباہی کے دہانے پر؟\n\nSEO Title:\n\nہیکرز کو جرائم میں اے آئی استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا: تحقیق\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/tech/edinburgh-cambridge-berkeley-b2969879.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ہیکرز کو جرائم میں اے آئی استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا: تحقیق"
}