{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidzuukbavtdurqr6uoti6f7vtjl44vtybvel7ndp6nxho3kc346hi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3ml33frft7562"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidzloe3uzigftbqhtqcmmwvyobo7tajdvkukg4vewklu5h6mngsxa"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 100246
  },
  "path": "/node/185758",
  "publishedAt": "2026-05-04T05:42:20.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "May 4, 2026",
    "@MIshaqDar50",
    "@Araghchi",
    "pic.twitter.com/B5PN7DhnEN",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "امریکہ",
    "ایران",
    "آبنائے ہرمز",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "news",
    "@TahirAndrabi",
    "@ForeignOfficePk"
  ],
  "textContent": "**امریکہ کی جانب سے گذشتہ دنوں قبضے میں لیے جانے والے ایرانی جہاز کا عملہ پیر کو واپس وطن پہنچ گیا۔**\n\nایرانی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق ایم وی توسکا بحری جہاز کے ایرانی عملے کے 15 ارکان رمدان سرحدی گذرگاہ کے راستے پاکستان سے ایرانی صوبے سیستان بلوچستان پہنچے۔\n\nحکومت پاکستان نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی جہاز کے عملے کو آج ایران کے حوالے کر دیا جائے گا۔\n\nامریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے اتوار کو اے بی سی میڈیا کو بتایا تھا کہ امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے پر قبضے میں لیا جانے والا ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔\n\nکیپٹن ہاکنز کے مطابق ’آج امریکی افواج نے ایم/وی توسکا کے 22 عملے کے ارکان کو پاکستان منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا تاکہ انہیں ایران واپس بھیجا جا سکے۔‘\n\nامریکی بحریہ کی 21 اپریل، 2026 کو جاری کردہ اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں امریکی فورسز کو بحیرہ عرب میں ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز ’توسکا‘ کے قریب گشت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nانہوں نے مزید کہا ’چھ دیگر مسافروں کو گذشتہ ہفتے ہی وطن واپسی کے لیے خطے کے ایک ملک منتقل کر دیا گیا تھا۔‘\n\nایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ چھ افراد عملے کے بعض ارکان کے اہل خانہ تھے۔\n\nاس ایرانی جہاز کو امریکہ کے مطابق گذشتہ ماہ امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کرتے ہوئے روکا اور قبضے میں لیا گیا تھا۔\n\nاسلام آباد میں دفتر خارجہ نے آج ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’اعتماد سازی کے ایک اقدام کے طور پر امریکہ کی جانب سے ضبط شدہ ایرانی کنٹینر جہاز ’ایم وی توسکا‘ پر موجود بائیس (22) ایرانی عملے کو پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے۔‘\n\n> Official Press Release\n>\n>  Pakistan Facilitates Transfer of Iranian Crew Members:\n>\n>  As a confidence-building measure by the United States of America, twenty-two crew members held aboard the seized Iranian container ship, ‘MV Touska’, have been evacuated to Pakistan.\n>\n>  The…\n\n> — Tahir Andrabi (@TahirAndrabi) May 4, 2026\n\nبیان کے مطابق ’یہ افراد گذشتہ شب پاکستان لائے گئے تھے اور آج ایرانی حکام کے حوالے کر دیے جائیں گے۔\n\n’ایرانی جہاز کو بھی ضروری مرمت کے بعد پاکستانی علاقائی پانیوں میں واپس لایا جائے گا، جہاں سے اسے اس کے اصل مالکان کو لوٹا دیا جائے گا۔‘\n\nبیان میں مزید کہا گیا کہ ’واپسی کا یہ عمل ایرانی اور امریکی فریقوں کی حمایت اور ہم آہنگی کے ساتھ جاری ہے۔\n\n’پاکستان ایسے اعتماد سازی کے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے جاری مصالحتی کوششوں کے دوران مکالمے اور سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔‘\n\n**پاکستانی وزیر خارجہ کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ**\n\nادھر پاکستان کی وزارت خارجہ نے پیر کو بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے گذشتہ شب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر خطے کی صورت حال اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔\n\nبیان کے مطابق عراقچی نے فریقین کے درمیان پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ مصالحتی کوششوں کو سراہا۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ اسحٰق ڈار نے ’تعمیری سفارتی روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے زور دیا کہ مسائل کے پرامن حل اور خطے سمیت عالمی سطح پر دیرپا امن و استحکام کے لیے بات چیت اور سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہیں۔‘\n\n> Deputy Prime Minister / Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 held a telephonic conversation late last night with the Foreign Minister of Iran, Seyed Abbas Araqchi @Araghchi.\n>\n> Discussion focused on regional situation and Pakistan’s ongoing diplomatic efforts… pic.twitter.com/B5PN7DhnEN\n\n> — Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) May 4, 2026\n\n28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جس کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی اہداف پر حملے کیے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nآٹھ اپریل کو امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کے بعد امریکی اور ایرانی وفود کا اسلام آباد میں براہ راست امن مذاکرات کا دور ہو، جس میں پیش رفت نہ ہو سکی۔\n\nدونوں ممالک کے درمیان ڈیڈلاک برقرار اور بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ان کے نمائندوں کی ایران سے ’بہت اچھی بات چیت‘ جاری ہے۔\n\nایران نے اتوار کو کہا کہ اسے پاکستان کے ذریعے امریکہ کی امن مذاکرات کے لیے اپنی تازہ پیشکش پر جواب موصول ہوا ہے۔\n\nایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے ایران کی 14 نکاتی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے پہنچایا، جس کا تہران میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔\n\nتاہم اس پیش رفت کی فوری طور پر امریکہ یا پاکستان کی جانب سے تصدیق نہیں ہو سکی۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nامریکہ\n\nایران\n\nآبنائے ہرمز\n\nنیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق ایم وی توسکا بحری جہاز کے ایرانی عملے کے 15 ارکان رمدان سرحدی گذرگاہ کے راستے پاکستان سے ایرانی صوبے سیستان بلوچستان پہنچے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, مئی 4, 2026 - 14:45\n\nMain image:\n\n> <p>بحری جہاز کے ایرانی عملے کے 15 ارکان رمدان سرحدی گذرگاہ کے راستے پاکستان سے ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان پہنچے (تسنیم نیوز ایجنسی)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران کی ناکہ بندی، امریکی بحریہ قزاقوں جیسا کام کر رہی: ٹرمپ\n\nکوئی بھی ایرانی جہاز ناکہ بندی کے قریب آیا تو سخت کارروائی ہو گی: صدر ٹرمپ\n\nآبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو ادائیگی پر امریکہ کی وارننگ\n\nآبنائے ہرمز میں جہازوں پر فائرنگ، انڈیا کی تشویش\n\nSEO Title:\n\nامریکہ سے پاکستان کے حوالے کیا گیا بحری عملہ ایران پہنچ گیا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "امریکہ سے پاکستان کے حوالے کیا گیا بحری عملہ ایران پہنچ گیا"
}