{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreic37mvmdiioctj3sphznid3y5zpiwcdnm3vi7dldv32oamlu5dk54",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3ml33eyb7yho2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihaiqg54ln5ra62rxgevunly3esutvzfgsangebi7c6mewysb23pm"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 157001
},
"path": "/node/185764",
"publishedAt": "2026-05-04T12:34:19.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"اسلام آباد",
"سی ڈی اے",
"غیر قانونی تعمیرات",
"اسلام آباد ہائی کورٹ",
"قرۃ العین شیرازی",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوموار کو بی این پی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی لیز منسوخی کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے سی ڈی اے کی جانب سے آٹھ مارچ 2023 کو جاری کردہ لیز منسوخی کے آرڈر کو قانونی قرار دے دیا۔**\n\nجبکہ بی این پی لمیٹڈ کی جانب سے دائر کردہ ایگزیکیوشن پٹیشن بھی عدالت نے خارج کر دی ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ محمد سرفراز ڈوگر نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔\n\nعدالت نے تیسرے فریق (انویسٹرز) کی درخواستیں بھی نمٹا دی ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انویسٹرز اپنے حقوق کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتے ہیں۔\n\nفیصلے میں کہا گیا کہ ’درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مالیاتی شرائط کی پاسداری نہیں کی۔ درخواست گزار کمپنی 2022 کی قسط کے 2.916 ارب روپے جمع کرانے میں ناکام رہی۔‘\n\nعدالت نے کہا ہے کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی لیز منسوخ کرنے کا سی ڈی اے آرڈر قانونی اور سپریم کورٹ کی فیصلے میں دیے گئے اختیار کے عین مطابق ہے۔\n\nعدالت نے کہا ہے کہ ’پٹیشنر نے سپریم کورٹ کے دیے گئے لائف لائن موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔‘\n\nعدالت نے پٹیشنر کی جانب سے 30 روزہ نوٹس کی تکنیکی غلطی کے اعتراض کو بھی مسترد کر دیا ہے۔\n\nفیصلے کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے سی ڈی اے کے لیز منسوخی آرڈر کو تکنیکی نکتے پر چیلنج کیا گیا جو 30 روز کے نوٹس کی مدت کے حساب سے متعلق ہے۔\n\n69 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ’درخواست گزار کے وکیل کے مطابق لیز منسوخی کا نوٹس سات فروری جبکہ لیز منسوخی آرڈر آٹھ مارچ 2023 کو جاری ہوا۔‘\n\nفیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فروری 28 دن کا ہونے کی وجہ سے 30 دن کے نوٹس پیریڈ کی مدت مکمل نہیں ہوئی، ’لہذا عدالت اس مؤقف کو قانونی طور پر غلط اور منصفانہ اصولوں کے لحاظ سے بھی کمزور قرار دیتی ہے، اس تناظر میں کہ درخواست گزار کی جانب سے مسلسل اور تسلیم شدہ خلاف ورزی موجود ہے۔‘\n\nفیصلے کے مطابق ’سپریم کورٹ نے نو جنوری 2019 کو لیز بحال کرتے ہوئے آٹھ سال میں 17.5 ارب روپے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔ بی این پی لمیٹڈ نے 2021 کی قسط جمع کرائی لیکن 2022 کی قسط کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کیا۔‘\n\nپٹیشنر کی جانب سے 50 کروڑ روپے کا چیک عدالت نے ناکافی قرار دیا ہے۔\n\nسی ڈی اے نے بار بار یاد دہانیوں کے بعد سات فروری 2023 کو نوٹس اور پھرآٹھ مارچ کو لیز منسوخی کا حکم جاری کیا تھا۔\n\nسی ڈی اے نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی لیز منسوخ کر دی تھی جس کے بعد بی این پی کمپنی نے لیز منسوخی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا تھا۔\n\nاسلام آباد کے حساس ترین علاقے ریڈ زون میں واقع ’ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو‘ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے 31 اپریل اور یکم مئی کی درمیانی شب خالی کروانا شروع کر دیا تھا۔\n\nتاہم جمعے کو وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی۔\n\n**عمارت خالی کروانے کی وجہ کیا ہے؟**\n\nون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کو خالی کروانے کی کارروائی اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کی گئی، جس میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے اقدام کو برقرار رکھا گیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nسی ڈی اے نے اس عمارت کی لیز منسوخ کر دی تھی، جسے عدالت نے درست قرار دیا۔\n\nعدالتی فیصلے کے مطابق لیز منسوخی کی بنیادی وجہ اربوں روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی تھی۔\n\nیہ منصوبہ تقریباً دو دہائیاں قبل ایک نجی گروپ کو دیا گیا تھا۔ اس جگہ پر اصل معاہدے کے تحت فائیو سٹار ہوٹل تعمیر ہونا تھا۔\n\nتاہم بعد ازاں منصوبے میں تبدیلی کر کے یہاں رہائشی اپارٹمنٹس اور کمرشل یونٹس قائم کیے گئے، جسے حکام نے اصل معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔\n\n**سی ڈی اے کا مؤقف**\n\nسی ڈی اے کے مطابق چونکہ اس مقام پر فائیو سٹار ہوٹل تعمیر نہیں کیا گیا، اس لیے اہم سرکاری دوروں، بین الاقوامی وفود اور سفارتی تقریبات کے دوران انتظامی اور لاجسٹک مشکلات پیش آتی رہیں۔\n\nادارے کا کہنا تھا کہ ریڈ زون میں واقع اس مقام کا اصل مقصد اہم ریاستی اور سفارتی ضروریات پوری کرنا تھا، جو تبدیل شدہ منصوبے کے باعث ممکن نہ ہو سکا۔\n\nون کانسٹی ٹیوشن ایونیو اسلام آباد کے اہم ترین مقامات میں شمار ہوتی ہے اور عدالت کے فیصلے کے بعد عمارت خالی کروانے کا عمل شروع ہو چکا ہے، جبکہ یہ واضح نہیں کہ یہاں موجود رہائشیوں اور کمرشل یونٹس کے مالکان یا کرایہ داروں کے لیے آئندہ کیا انتظامات کیے جائیں گے۔\n\nاسلام آباد\n\nسی ڈی اے\n\nغیر قانونی تعمیرات\n\nاسلام آباد ہائی کورٹ\n\nعدالت نے کہا ہے کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی لیز منسوخ کرنے کا سی ڈی اے آرڈر قانونی اور سپریم کورٹ کی فیصلے میں دیے گئے اختیار کے عین مطابق ہے۔\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nسوموار, مئی 4, 2026 - 17:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">آٹھ اپریل 2026، کی اس تصویر میں اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nاسلام آباد کے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کو کیوں خالی کروایا جا رہا ہے؟\n\nکراچی:تجاوزات کے خلاف آپریشن میں سینکڑوں دکانیں سیل\n\nلاہور: پرندوں کی مارکیٹ میں تجاوزات کے خلاف آپریشن، کیا جانور بھی مارے گئے؟\n\nکراچی میں ’تجاوزات کے خلاف آپریشن‘ مزاحمت پرعارضی بند\n\nSEO Title:\n\nاسلام آباد ہائی کورٹ: ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی لیز منسوخی کے خلاف درخواست مسترد\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "اسلام آباد ہائی کورٹ: ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی لیز منسوخی کے خلاف درخواست مسترد"
}