{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreig5omhtkapvh7m5gddksu6pkl6vehwnxcgporb4ch5ffu7xy45f3i",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkvn2fsw7xp2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreicenk2o6fihzxiqprmwbewtybywonmtihpjjsu56qfccbsba3e77a"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 65608
},
"path": "/node/185735",
"publishedAt": "2026-05-02T02:58:36.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"انٹرنیٹ",
"سوشل میڈیا",
"نکول وٹون کین",
"ٹیکنالوجی",
"news"
],
"textContent": "**ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بچے سوشل میڈیا اور گیمنگ پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کرنے کے لیے عمر کی حد سے بچنے کے طریقے استعمال کر رہے ہیں، جیسے جعلی تاریخ پیدائش دینا یا اپنی شکل بدلنے کے لیے مصنوعی مونچھیں بنانا۔**\n\nرپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ایک تہائی سے زیادہ بچوں نے آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت نافذ کردہ عمر کی تصدیق کے نظام سے بچنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیا ہے۔\n\nاس قانون کے تحت تمام پورنوگرافی ویب سائٹس، سوشل میڈیا اور وہ آن لائن پلیٹ فارم جو بچوں کے استعمال میں آ سکتے ہیں، عمر کی تصدیق کرنے کے پابند ہیں۔\n\nعام طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کم از کم 13 سال کی عمر اور پورنوگرافی ویب سائٹس 18 سال سے زائد عمر کا تقاضا کرتی ہیں۔\n\nنئی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ہر چھ میں سے ایک والدین نے اپنے بچے کو عمر کی تصدیق سے بچنے میں مدد کی جبکہ بچوں نے بتایا کہ وہ ان پلیٹ فارمز کو دھوکہ دے کر خود کو بڑا ظاہر کرتے ہیں۔\n\nوالدین نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو ٹیکنالوجی کو بے وقوف بنانے کے لیے مصنوعی مونچھیں بناتے ہوئے پکڑا۔\n\nایک ماں نے کہا ’میں نے اپنے بیٹے کو بھنوؤں کے پینسل سے مونچھیں بناتے پکڑا اور سسٹم نے اسے 15 سال کا سمجھ کر تصدیق کر دی۔‘\n\nآن لائن سیفٹی تنظیم انٹرنیٹ میٹرز کی رپورٹ کے مطابق تقریباً نصف بچوں نے بتایا کہ انھیں حال ہی میں کسی سوشل میڈیا یا گیمنگ پلیٹ فارم پر اپنی عمر کی تصدیق کرنے کو کہا گیا۔\n\n1000 برطانوی بچوں کے نمونے میں سے 46 فیصد کا کہنا تھا کہ عمر کی جانچ کو بائی پاس کرنا بہت آسان ہے جبکہ 32 فیصد نے اعتراف کیا کہ وہ ایسا پہلے ہی کر چکے ہیں۔\n\nمحققین نے یہ بھی پایا کہ 49 فیصد بچوں کو حال ہی میں آن لائن نقصان دہ مواد کا سامنا ہوا۔\n\nرپورٹ میں کہا گیا کہ یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ آن لائن سیفٹی ایکٹ بچوں کے آن لائن ماحول کو بہتر بنانے لگا ہے لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ ریگولیٹرز اور پلیٹ فارمز کو جواب دہ بنائے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nرپورٹ کے مطابق ’بچوں کو اب بھی ناقابل قبول حد تک نقصان دہ مواد کا سامنا ہے جبکہ عمر کی تصدیق کے بہت سے طریقے عملی طور پر غیر مؤثر یا آسانی سے بائی پاس کیے جا سکتے ہیں۔\n\n’حکومت کو چاہیے کہ موجودہ قانون پر سختی سے عمل کروائے اور جہاں عمل نہ ہو وہاں سخت کارروائی کرے۔ اسے قانون میں موجود خامیوں کو بھی فوری طور پر دور کرنا ہوگا۔‘\n\nیہ سب ایسے وقت میں سامنے آیا جب حکومت غور کر رہی ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مزید پابندیاں یا مکمل پابندی لگائی جائے۔\n\nمحکمہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے ترجمان نے کہا کہ قانون بالکل واضح ہے کہ پلیٹ فارمز پر لازم ہے کہ وہ بچوں کو نقصان دہ مواد سے بچائیں۔\n\nانہوں نے مزید کہا ’کمپنیاں بچوں کو نقصان پہنچنے پر آنکھ بند کر کے نہیں بیٹھ سکتیں۔ آف کام کو قانون نافذ کرنے کے مکمل اختیارات حاصل ہیں۔‘\n\nحکومت کے مطابق وہ عمر کی حدود، محفوظ ڈیزائن اور حتیٰ کہ مکمل سوشل میڈیا پابندی جیسے اقدامات پر مشاورت کر رہی ہے اور تازہ ترین شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔\n\nآف کام کے ترجمان نے کہا ’یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ آن لائن سیفٹی ایکٹ کیوں اہم ہے۔ عمر کی تصدیق کے بغیر، بچے ان خطرات سے دوچار رہے جن کا انہوں نے انتخاب بھی نہیں کیا اور جن پلیٹ فارمز سے وہ بچ بھی نہیں سکتے تھے۔ کمزور یا قابل بائی پاس عمر چیکس قابل قبول نہیں۔\n\n’ہم نے دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنیوں کو بچوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کا کہا ہے اور جہاں ضرورت پڑی ہم کارروائی سے دریغ نہیں کریں گے۔‘\n\nانٹرنیٹ\n\nسوشل میڈیا\n\nرپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ایک تہائی سے زیادہ بچوں نے آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت نافذ کردہ عمر کی تصدیق کے نظام سے بچنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیا ہے۔\n\nنکول وٹون کین\n\nہفتہ, مئی 2, 2026 - 08:00\n\nMain image:\n\n> <p>ایک کم عمر طالب علم 16 مارچ، 2026 کو برازیلیا کے ایک سرکاری سکول میں موبائل فون کا استعمال کر رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nآسٹریلیا: پابندی کے باوجود ’دو تہائی بچے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں‘\n\nنوجوانوں کے سوشل میڈیا پر پابندی ضروری\n\nسوشل میڈیا سکرولنگ کی لت سے بچنے کے آسان اور مشکل حل\n\nکیا روشن خیال قوتیں سوشل میڈیا کی جنگ ہار رہی ہیں؟\n\nSEO Title:\n\nبچے آن لائن عمر کی حد سے بچنے کے لیے مصنوعی مونچھیں لگا رہے ہیں: رپورٹ\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/uk/home-news/children-bypassing-age-verification-social-media-b2968803.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "بچے آن لائن عمر کی حد سے بچنے کے لیے مصنوعی مونچھیں لگا رہے ہیں: رپورٹ"
}