{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicca6svzkidlsfpp7c3dvtaws64fzquwkumeaxx6prjnwlwr4tvuy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mksp4phszgs2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiagpa7rplzecl3yrm6oy3b6jy5az6dsf5o5r6bqzilfaa4heqwrqm"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 112750
},
"path": "/node/185724",
"publishedAt": "2026-05-01T06:31:08.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"جاپان",
"میاں بیوی",
"لاش",
"چڑیا گھر",
"اے ایف پی",
"گھر",
"news"
],
"textContent": "**جاپان کی پولیس نے ایک شخص کو اس الزام میں گرفتار کیا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کی لاش کو اس چڑیا گھر میں جلا دیا جہاں وہ ملازمت کرتا تھا۔**\n\nیہ بات حکام اور مقامی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو انسانی باقیات کی دریافت کے بعد بتائی۔\n\nپولیس کے ایک مقامی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تاتسویا سوزوکی کو جمعرات کی شام اس شبہے میں گرفتار کیا گیا کہ اس نے ’خاتون کی لاش کو ایک تفریحی مقام تک منتقل کیا‘ جو شمالی جزیرے ہوکائیدو میں واقع ہے، اور ’وہاں اسے جلا کر تلف کر دیا۔‘\n\n33 سالہ متاثرہ خاتون، یوئی سوزوکی، کو مقامی میڈیا نے اس کی بیوی قرار دیا ہے۔ پولیس نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ اس کی موت کیسے واقع ہوئی تھی۔\n\nپولیس کی رضاکارانہ پوچھ گچھ کے دوران سوزوکی نے کہا کہ اس نے چڑیا گھر کے اس بھٹی نما نظام کو استعمال کیا، جو کچرے اور مردہ جانوروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے بنایا گیا ہے، اور جیسا کہ مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا عورت کی لاش کو ’چند گھنٹوں تک‘ جلایا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمقامی میڈیا کے مطابق اس کے اعتراف کے بعد پولیس نے بھٹی میں اس کے باقیات کی تلاش شروع کی اور جزوی انسانی باقیات کی دریافت نے سوزوکی کی گرفتاری کی راہ ہموار کی۔\n\nسرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے نے تحقیقاتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ زندگی میں ایک موقع پر بیوی نے اپنے رشتہ داروں سے کہا تھا کہ اس کا شوہر اسے دھمکی دیتا تھا کہ ’تمہیں اس طرح جلا دوں گا کہ تمہارا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا۔‘\n\nاس ہولناک واقعے کے باعث آساہیاما چڑیا گھر کو، جو ایک مقبول سیاحتی مقام ہے اور گذشتہ ماہ کے آغاز سے گرمیوں کے موسم سے قبل معمول کی دیکھ بھال کے لیے بند تھا، بدھ کو ہونے والی اپنی دوبارہ افتتاحی تقریب مؤخر کرنا پڑی۔\n\nجمعہ کو چڑیا گھر نے دوبارہ کام شروع کیا، جہاں حکام نے سیاحوں کے سامنے جھک کر پیش آنے والی پریشانی پر معذرت کی۔\n\nساہیکاوا شہر کے میئر ہیرو سُکے امامزو نے، جو اس چڑیا گھر کو چلاتے ہیں، این ایچ کے کے مطابق کہا، ’اس وقت چڑیا گھر نہایت مشکل صورت حال سے گزر رہا ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا، ’لیکن ہم آپ کی حمایت کو اپنی طاقت میں بدلنا چاہتے ہیں اور اپنے جانوروں کی خوبصورت زندگی کو آپ تک پہنچانا چاہتے ہیں۔‘\n\nآساہیاما چڑیا گھر جولائی 1967 میں کھولا گیا اور ملک کا سب سے شمال میں واقع چڑیا گھر ہے۔ اگست 2004 میں 320,000 سے زائد افراد نے چڑیا گھر کا دورہ کیا، جو جاپان کے تمام چڑیا گھروں میں دوسرا سب سے زیادہ وزیٹر تھا۔\n\nجاپان\n\nمیاں بیوی\n\nلاش\n\nچڑیا گھر\n\nپولیس کی رضاکارانہ پوچھ گچھ کے دوران سوزوکی نے کہا کہ اس نے چڑیا گھر کے اس بھٹی نما نظام کو استعمال کیا، جو کچرے اور مردہ جانوروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے بنایا گیا ہ۔\n\nاے ایف پی\n\nجمعہ, مئی 1, 2026 - 12:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">یہ تصویر 7 فروری 2020 کو لی گئی ہے، جس میں شمالی جاپان کے اساہیکاوا کے اساہیاما چڑیا گھر میں پانی کے ٹینک میں سیلز کو تیرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ بیوی کی لاش اسی چڑیا گھر میں جلائی گئی (یاسویوشی چیبا / اے ایف پی)</p>\n\nگھر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nمیاں بیوی کے مسائل کا نیا حل: ’فلم تھراپی‘\n\nدوسری بیوی، تین بچوں کی پھندا لگی لاشیں برآمد: کراچی پولیس\n\nایران: 11 شوہروں کے قتل کی ملزمہ کو کیسے پکڑا گیا؟\n\nبیٹے سے کوئی غلطی ہوئی بھی تو اسے جلانا نہیں چاہیے تھا: والد\n\nSEO Title:\n\nبیوی کی لاش کو چڑیا گھر میں جلانے والا جاپانی شوہر گرفتار\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "بیوی کی لاش کو چڑیا گھر میں جلانے والا جاپانی شوہر گرفتار"
}