{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreib6272zzwem5zpgq5av4zjmfjddad2mpcjpnzrkctr4xpiluva6m4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mksp4iviqj32"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreietbgwirn4a6ovjf2wgnfni4edpxm7kw2mgqnnvbosjlje6rdakiu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 35515
  },
  "path": "/node/185726",
  "publishedAt": "2026-05-01T08:00:35.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "دستاویزی فلم",
    "انڈیا",
    "امریکی",
    "فلم",
    "نمیتا سنگھ",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**انڈیا میں گرفتار امریکی فلم ساز میتھیو وین ڈاک کے اہل خانہ نے ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اپنی حکومت سے اپیل کی ہے۔**\n\nانڈیا نے فلم ساز پر الزام لگایا ہے کہ وہ ملک کے شمال مشرق میں ممنوعہ علاقوں میں داخل ہوئے اور نسلی ملیشیا گروپوں کو تربیت دینے کے لیے سرحد پار کر کے میانمار گئے۔\n\n13 مارچ کو، انڈیا کے انسداد دہشت گردی کے ادارے نے چھ یوکرینی شہریوں اور امریکی صحافی اور دستاویزی فلم ساز میتھیو وین ڈائک کو میانمار کی نسلی ملیشیاؤں کو مبینہ طور پر ڈرون جنگ کی تربیت دینے کے الزام میں گرفتار کیا، جس سے تنازعات والے علاقوں میں پھیلے ایک مشکوک نیٹ ورک کا پردہ چاک ہوا۔\n\nانڈین نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے تین ہوائی اڈوں پر چھاپوں کے دوران غیر ملکیوں کو گرفتار کیا اور انہیں تفتیش کے لیے انڈیا کے قومی دارالحکومت دہلی لے آئی۔ 46 سالہ مسٹر وین ڈائک دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔\n\nمیتھیو وین ڈائک کے اہل خانہ اور قانونی نمائندوں نے کہا کہ وہ قانونی کارروائی میں تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان کی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔ ان کے رشتہ داروں کے مطابق، وہ بعض اوقات چلنے پھرنے سے قاصر رہے ہیں اور انہیں وہیل چیئر کی ضرورت پڑی ہے۔\n\nدی انڈپینڈنٹ کے ساتھ شیئر کیے گئے ایک پریس بیان کے مطابق، ان کی والدہ نے کہا کہ ’یہ ہمارے خاندان کے لیے انسانی ہمدردی کی ایک ہنگامی صورت حال ہے۔ میتھیو نے اپنی زندگی انسانی مصائب کو دستاویزی شکل دینے اور بحران کے شکار لوگوں کی مدد کرنے میں گزاری ہے۔ ہم ان کی بحفاظت گھر واپسی کی اپیل کر رہے ہیں۔‘\n\nانہوں نے باقاعدہ طور پر امریکی قونصلر معاونت کی درخواست کی اور مزید کہا: ’ہم امریکی سفارت خانے اور امریکی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ میتھیو کے حقوق، فلاح و بہبود اور طبی ضروریات کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے تمام مناسب قونصلر مدد فراہم کریں۔‘\n\nاین آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے میتھیو وین ڈائک اور ان کے ساتھیوں کو انڈیا کے انسداد دہشت گردی کے بنیادی قانون، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت جیل بھیج دیا۔ پولیس میں درج شکایت کے مطابق، ملزموں نے شمال مشرقی ریاست میزورام کا سفر کیا، اجازت کے بغیر میانمار کی سرحد عبور کی، اور نسلی مسلح تنظیموں اور انڈیا میں کالعدم گروہوں سے رابطہ قائم کیا۔\n\nامریکی شہری میتھیو وین ڈائک کو دو اکتوبر 2011 کو لیبیا کے ساحلی شہر سرتے کے مشرقی محاذ پر دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nان پر الزام ہے کہ انہوں نے ہتھیار فراہم کیے، ڈرون چلانے کی تربیت دی، اور ایسی کارروائیوں کی حمایت کی جنہیں کرائے کے جنگجوؤں کی سرگرمیوں کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔\n\nچھ یوکرینی شہریوں کی شناخت ہربا پیٹرو، سلیویاک تاراس، ایوان سکھمانوسکی، سٹیفانکیو ماریان، ہونچاروک میکسم، اور کامنسکی وکٹر کے نام سے کی گئی۔ یوکرینی حکام نے کہا کہ وہ زیر حراست افراد کے اہل خانہ سے رابطے میں ہیں اور صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبک ہ انڈین ایجنسیاں اپنی تفتیش کر رہی ہیں۔\n\nدی انڈپینڈنٹ کو دیے گئے ایک بیان میں این آئی اے کا کہنا تھا کہ ’یہ مقدمہ فی الحال زیر تفتیش ہے اور ہو سکتا ہے کہ ہم اس وقت اس معاملے پر تبصرہ نہ کر سکیں۔‘\n\nدی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے انڈیا میں امریکی سفارت خانے سے بھی رابطہ کیا۔\n\nاس سے قبل، سفارت خانے نے مقامی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقدمے سے آگاہ ہے لیکن رازداری کی وجوہات کی بنا پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔\n\nنئی دہلی میں میتھیو وین ڈائک کے وکیل روہت گوڑ نے کہا کہ ’وین ڈائک قانونی عمل میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ ہم متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ایک منصفانہ اور بروقت حل کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘\n\nتفتیش کاروں کا الزام ہے کہ اس گروپ کی سرگرمیاں ایک وسیع تر کارروائی کا حصہ تھیں جس میں غیر ملکی شہری سیاحتی ویزوں پر انڈیا میں داخل ہوتے، شمال مشرقی ریاستوں کا سفر کرتے، اور میانمار کی سرحد عبور کرنے سے قبل مناسب دستاویزات کے بغیر آگے بڑھتے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مسلح گروہوں کے استعمال کے لیے ڈرون یورپ سے براستہ انڈیا بھیجے گئے تھے۔\n\nانڈیا کو میانمار سے متصل کئی شمال مشرقی ریاستوں میں داخل ہونے والے غیر ملکی شہریوں کے لیے خصوصی اجازت ناموں کی ضرورت ہوتی ہے، یہ ایک ایسا خطہ ہے جو طویل عرصے سے جاری نسلی تنازعات اور سرحد پار بغاوت کا شکار ہے۔ حکام نے اس سے قبل یہ خدشات ظاہر کیے ہیں کہ ان علاقوں کو میانمار جانے کے لیے راہداری کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔\n\nمیری لینڈ سے تعلق رکھنے والے مسٹر وین ڈائک، تنازعات کے شکار علاقوں کی کوریج کرنے والے صحافی اور فلم ساز کے طور پر اپنے کام کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی دستاویزی فلم پوائنٹ اینڈ شوٹ نے 2014 میں ٹریبیکا فلم فیسٹیول میں بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ جیتا۔ ان کی فلمیں دنیا بھر کے 200 سے زائد فیسٹیولز میں دکھائی جا چکی ہیں۔\n\n2011 کی لیبیا کی خانہ جنگی کی فوٹیج پر مبنی، پوائنٹ اینڈ شوٹ نے مزید ایوارڈز بھی حاصل کیے، جن میں انڈیپنڈنٹ فلم فیسٹیول آف بوسٹن میں ڈاکیومنٹری فیچر کے لیے سپیشل جیوری پرائز اور لٹل راک فلم فیسٹیول سے غیر معمولی جرات مندانہ فلم سازی پر سپیشل جیوری ایوارڈ شامل ہیں۔\n\nمیتھیو وین ڈائک 19 اپریل 2014 کو نیویارک میں ٹریبیکا فلم فیسٹیول کے دوران ’پوائنٹ اینڈ شوٹ‘ کے پریمیئر میں شرکت کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nانہوں نے شام کی خانہ جنگی پر ناٹ اینی مور: اے سٹوری آف ریولیوشن کی ہدایات بھی دیں اور جم: دی جیمز فولی سٹوری میں سینماٹوگرافر کے طور پر کام کیا۔\n\nبالٹی مور میں پیدا ہونے والے مسٹر وین ڈائک نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی، انہوں نے یونیورسٹی آف میری لینڈ، بالٹیمور کاؤنٹی سے پولیٹیکل سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے سے قبل کالورٹ سکول اور گلمین سکول میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے اعلیٰ ترین اعزاز کے ساتھ گریجویشن کیا۔\n\nبعد ازاں انہوں نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے والش سکول آف فارن سروس سے مشرق وسطیٰ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سکیورٹی سٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی، جہاں انہوں نے دی ہویا کے لیے لکھا اور ڈبلیو جی ٹی بی پر ایک ریڈیو پروگرام کی شریک میزبانی کی۔ وہ مینسا آئی کیو سوسائٹی کے رکن بھی ہیں۔\n\nمیتھیو وین ڈائک پہلی بار لیبیا کی خانہ جنگی کے دوران اس وقت نمایاں ہوئے، جب وہ معمر قذافی کی حکومت کے خلاف لڑنے والی باغی افواج میں شامل ہوئے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوہ ایک گھات لگا کر کیے گئے حملے میں زخمی ہوئے، انہیں حراست میں لیا گیا، اور طرابلس کے زوال کے دوران فرار ہونے سے قبل انہوں نے سرت اور طرابلس کی جیلوں، بشمول ابو سلیم، میں پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ قید تنہائی میں گزارا۔ بعد ازاں وہ دوبارہ باغی افواج میں شامل ہو گئے اور سرت سمیت دیگر جنگی کارروائیوں میں حصہ لیا۔\n\n2014 میں اپنے دوستوں جیمز فولی اور سٹیون سوٹلوف کی موت کے بعد، وین ڈائک نے سنز آف لبرٹی انٹرنیشنل (سولی) کی بنیاد رکھی، جسے ایک غیر منافع بخش تنظیم قرار دیا جاتا ہے جو بغاوت اور دہشت گردی کا سامنا کرنے والی کمیونٹیز کو مفت فوجی مشاورت اور تربیت فراہم کرتی ہے۔ اس تنظیم نے عراق میں داعش کے خلاف اسوری مسیحی جنگجوؤں کو تربیت فراہم کی ہے اور یہ عوامی عطیات پر انحصار کرتی ہے۔\n\nاطلاعات کے مطابق، انہیں کولکتہ ہوائی اڈے پر گرفتار کیا گیا، جبکہ گروپ کے دیگر ارکان کو لکھنؤ اور دہلی میں حراست میں لیا گیا۔\n\nدستاویزی فلم\n\nانڈیا\n\nامریکی\n\nفلم\n\nانڈیا میں امریکی فلم ساز میتھیو وین ڈائک پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ملک کے ممنوعہ علاقوں میں داخل ہوئے اور ملیشیا گروپوں کو تربیت دینے کے لیے میانمار گئے۔\n\nنمیتا سنگھ\n\nجمعہ, مئی 1, 2026 - 13:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\"> </p>\n>\n> <p class=\"rteright\">میتھیو وین ڈائک 24 اپریل 2014 کو نیویارک میں ’پوائنٹ اینڈ شوٹ‘ کے لیے بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ وصول کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nشاہ چارلس کو کوہ نور ہیرا انڈیا کو واپس کرنے کا کہوں گا: ظہران ممدانی\n\nمودی پر دستاویزی فلم انڈیا میں پابندی کا شکار\n\nامریکی شہری ملک چھوڑ کر کہاں جانا چاہتے ہیں اور کیوں؟\n\nموسمیاتی تبدیلیوں سے جڑے مسائل پر خواتین کی دستاویزی فلمیں\n\nSEO Title:\n\nانڈیا: امریکی فلم ساز ممنوعہ علاقوں میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/india/matthew-vandyke-india-arrested-nia-terror-myanmar-b2967819.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "انڈیا: امریکی فلم ساز ممنوعہ علاقوں میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار"
}