{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreia26f2tiag73m7xn7lv4mt6pvxgvhhd57ibgncdwu5dqbr5ma7xkm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkpxw3heval2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifr4jino26sowwaezpafbzeuwr2t74zeiwu3txwpkjf4palqufuca"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 130569
  },
  "path": "/node/185719",
  "publishedAt": "2026-04-30T14:30:33.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "یوگنڈا",
    "کمبوڈیا",
    "ترجمان دفتر خارجہ",
    "قرۃ العین شیرازی",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستانی دفتر خارجہ نے جمعرات کو بتایا ہے کہ یوگنڈا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں گرفتار 27 پاکستانی آج وطن واپسی کے لیے روانہ ہوں گے جبکہ کمبوڈیا میں ملازمت کے جھانسے میں پھنسنے والے 84 پاکستانی شہریوں کو بچا لیا گیا ہے۔**\n\nافریقی ملک یوگنڈا کی وزارت داخلہ نے دو روز قبل کہا تھا کہ ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن کا انسانی سمگلروں اور سائبر سکیم کی کارروائیوں سے تعلق تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں پاکستانی شہری بھی شامل تھے، تاہم ان کی تعداد سامنے نہیں آئی تھی۔\n\nجمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے 27 پاکستانیوں کی آج یوگنڈا سے روانگی کی خبر دیتے ہوئے بتایا کہ ’مزید 30 افراد بھی جلد اپنے ہوائی ٹکٹ کا انتظام کرنے کے خواہش مند ہیں۔ دیگر افراد بھی روانہ ہو جائیں گے کیونکہ وہ وزٹ ویزا پر ہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ ’امیگریشن حکام نے ہر ایک فرد پر مالی جرمانہ عائد کیا ہے، لیکن ہمارے سفارت خانے کی ٹیم یوگنڈا کے حکام کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کر رہی ہے تاکہ اس جرمانے کو معاف کروایا جا سکے۔‘\n\nیوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں ایک بند کمپاؤنڈ میں اکٹھے رہنے والے غیر ملکیوں کے دو گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں پیر سے کم از کم 231 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔\n\nدوسرے گروپ میں پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، گھانا، میانمار، ایتھوپیا، سری لنکا، کمبوڈیا اور ملائیشیا کے شہری شامل تھے، جو یوگنڈا کے حکام کے مطابق: ’ایک انتہائی محدود، خود ساختہ اپارٹمنٹ کمپلیکس میں مقیم تھے، جو اس کے اپنے ریستوران اور داخلی سہولیات سے آراستہ تھا، جو نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔‘\n\nحکام نے بتایا تھا کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ بہت سے لوگوں کے پاس پاسپورٹ یا دیگر ضروری دستاویزات نہیں تھیں۔\n\n**کمبوڈیا میں 84 پاکستانی شہریوں کو بچا لیا گیا: دفتر خارجہ**\n\nترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بتایا کہ اب تک کمبوڈیا میں ملازمت کے جھانسے میں پھنسنے والے 84 پاکستانی شہریوں کو بچایا جا چکا ہے۔\n\nبقول ترجمان ان افراد کو ’فراڈ کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے ملازمت کی پیشکش کی گئی تھی، جس میں تقریبا 500 ڈالر ماہانہ تنخواہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ان میں سے اکثر درست سیاحتی ویزوں پر آئے تھے، لیکن انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں تھی بلکہ بطور سیاح قیام کرنا تھا۔‘\n\nطاہر اندرابی کے مطابق یہ افراد غیر قانونی طور پر کام کرتے ہوئے پکڑے گئے، جو قانون کی پہلی خلاف ورزی تھی۔ ان میں سے کچھ نے قیام کی مقررہ مدت سے بھی تجاوز کیا، جو ایک اور خلاف ورزی تھی۔\n\nتاہم انہوں نے بتایا کہ ’پاکستانی حکام کو ان افراد تک قونصلر رسائی دی گئی اور ہم نے ان سے ملاقات بھی کی۔ ہمارے نمائندے کو رسائی دی گئی اور وہ ان افراد سے رابطہ قائم کرنے میں بھی کامیاب رہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ مشن نے اپنے وسائل سے کچھ افراد کو خوراک اور طبی سہولیات بھی فراہم کیں۔\n\nطاہر اندرابی نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا: ’مجموعی طور پر یہ دیکھا گیا کہ کمبوڈیا کے حکام تمام زیرِ حراست افراد کو بنیادی سہولیات، بشمول خوراک اور طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں، لہذا ہماری ٹیم جو خوراکی امداد لے کر گئی تھی، ایک طرح سے اس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ یہ پہلے ہی فراہم کی جا رہی تھی۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ امیگریشن حکام کے ساتھ ان افراد کی رہائش اور پاسپورٹ کی حیثیت کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔\n\nترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی حکام نہایت ’مثبت جذبے کے ساتھ ان افراد پر عائد جرمانوں کو معاف کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، جب قانونی عمل مکمل ہو جائے گا تو ان افراد کی واپسی میں سہولت فراہم کی جائے گی۔ لہذا جب کمبوڈیا میں داخلی کارروائیاں مکمل ہو جائیں گی تو یہ افراد وطن واپس آ جائیں گے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’ہمارے لوگوں کو بیرون ملک پیش کی جانے والی ان آن لائن فراڈ ملازمتوں کے حوالے سے بہت محتاط رہنا چاہیے۔آسیان (ASEAN) خطے کے دیگر ممالک میں بھی اسی نوعیت کی نوکریاں پیش کی جا رہی ہیں، اس لیے ہم اپنے ہم وطن پاکستانیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسی پیشکشوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور ان کے بارے میں احتیاط سے کام لیں۔‘\n\nیوگنڈا\n\nکمبوڈیا\n\nترجمان دفتر خارجہ\n\nپاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق یوگنڈا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں گرفتار 27 پاکستانی آج وطن واپسی کے لیے روانہ ہوں گے جبکہ کمبوڈیا میں ملازمت کے جھانسے میں پھنسنے والے 84 پاکستانی شہریوں کو بچا لیا گیا ہے۔\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعرات, اپریل 30, 2026 - 19:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی عمارت کا بیرونی منظر (فائل فوٹو/ انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nیوگنڈا میں پاکستانیوں سمیت 231 غیر قانونی تارکین وطن گرفتار: حکام\n\nکمبوڈیا جانے والے پاکستانی اغوا برائے تاوان کا نشانہ کیسے بنے؟\n\nکون سی نگری ویزا فری: کمبوڈیا\n\nبلوچستان کا ’30 ہزار افراد کو بیرون ملک ملازمت‘ دلوانے کا منصوبہ\n\nSEO Title:\n\nیوگنڈا میں گرفتار 27 پاکستانیوں کی وطن روانگی آج، کمبوڈیا میں 84 کو بچایا گیا: دفترخارجہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "یوگنڈا میں گرفتار 27 پاکستانیوں کی وطن روانگی آج، کمبوڈیا میں 84 کو بچایا گیا: دفترخارجہ"
}