{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihtowhwcl6gexbjz2wb5xlm2mgq5ijlilqbqo4n6xs77ww73k6mgi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkpkivz7dzm2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiay6x23ih3ifach3bl54qcumx3fm2bcnopbygd4qifsuuomq4fi5u"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 135196
  },
  "path": "/node/185713",
  "publishedAt": "2026-04-30T11:04:09.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "لاہور ہائی کورٹ",
    "وکلا",
    "وکلا برادری",
    "آئینی ترامیم",
    "ارشد چوہدری",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے تبادلوں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ بار سمیت بڑے شہروں میں جمعرات کو وکلا نے احتجاج کیا جبکہ کئی وکلا نے ان تبادلوں کو ’آئینی اقدام‘ قرار دیا ہے۔**\n\nجوڈیشل کمیشن کی سفارش پر قائم قام صدر مملکت یوسف رضا گیلانی نے گذشتہ روز اسلام آباد کے تین ججوں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا بالترتیب پشاور، لاہور اور سندھ ہائی کورٹ تبادلے کے نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ بار، پشاور اور لاہور ہائی کورٹ بار نے احتجاج کیا۔\n\nلاہور میں ہونے والے وکلا احتجاج میں جماعت اسلامی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمٰن نے بھی شرکت کی۔\n\nلاہور ہائی کورٹ بار کے صدر بابر مرتضیٰ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پارلیمنٹ سے 26 اور 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست زیر سماعت ہے۔ اس دوران ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ تبادلوں کا اقدام غیر آئینی ہے۔‘\n\nان کا مزید کہنا تھا: ’ہم پہلے بھی آئینی ترامیم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، آج ان تبادلوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ ایسے غیر آئینی اقدامات سے نہ صرف وکلا بلکہ عوام میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدوسری جانب سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل الیاس خان اسے حکومت کا ’آئینی اختیار‘ سمجھتے ہیں۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’آئینی ترامیم حکومت کا آئینی اختیار ہے۔ نئی قانون سازی کے تحت جوڈیشل کمیشن کو تبادلوں کا اختیار دیا گیا ہے، لہذا اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلوں پر احتجاج بلا جواز ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’اگر ان ججوں کو اعتراض ہے تو وہ مستعفی ہو کر وکلا کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوں ورنہ انتظامی احکامات کا احترام کریں۔‘\n\nپارلیمنٹ میں 27ویں ترامیم کے خلاف اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف بھی ردعمل ظاہر کرتی رہی ہے۔ اسی تنازعے کے دوران سپریم کورٹ کے سینیئر جج منصور علی شاہ اور سابق جسٹس اطہر من اللہ مستعفی ہوگئے تھے، تاہم ابھی تک حکومتی حلقوں میں اس حوالے سے احتجاج کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔\n\nسپریم کورٹ کے ساتھ آئینی عدالت بھی اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔\n\nاسی طرح بعض وکلا کے خیال میں کسی کو پسند ہو یا نہ ہو، آئینی طور پر پارلیمان سے قانون سازی کے بعد کوئی بھی اقدام قانون کا حصہ بن جاتا ہے۔\n\nلاہور ہائی کورٹ\n\nوکلا\n\nوکلا برادری\n\nآئینی ترامیم\n\nجسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے تبادلوں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ بار سمیت بڑے شہروں میں وکلا نے احتجاج کیا جبکہ کئی وکلا نے ان تبادلوں کو ’آئینی اقدام‘ قرار دیا ہے۔\n\nارشد چوہدری\n\nجمعرات, اپریل 30, 2026 - 16:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">30 اپریل 2026 کی اس تصویر میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے ججوں کے تبادلے کے خلاف لاہور میں وکلا احتجاج کرتے ہوئے (ارشد چوہدری/ انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\na7DQqvqH\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nجوڈیشل کمیشن کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے تبادلے کی منظوری\n\nجوڈیشل کمیشن: سپریم کورٹ میں چھ نئے ججوں کی تعیناتی منظور\n\nسپریم کورٹ کے چار ججوں کی نئی تقرریوں کو روکنے کی درخواست\n\nصوبائی ہائی کورٹس کے ججوں کی اسلام آباد منتقلی پر وکلا کا احتجاج\n\nSEO Title:\n\nاسلام آباد ہائی کورٹ سے ججوں کے تبادلے پر وکلا کا احتجاج\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "اسلام آباد ہائی کورٹ سے ججوں کے تبادلے پر وکلا کا احتجاج"
}