{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreig4afqet5ts5ky7g2sundveiq3nqkv3elqykypsrvk22a3bxldo5a",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkp53g34t7y2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifc7ovbhh3qxnplqr52xrdeh7n7her4qsu2lc5qgdnnxtaruv5ave"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 90990
},
"path": "/node/185709",
"publishedAt": "2026-04-30T07:35:49.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"صومالیہ",
"صومالی پناہ گزین",
"بحری قزاق",
"بحری جہاز",
"صالحہ فیروز خان",
"پاکستان",
"video"
],
"textContent": "**کراچی کے علاقے گلستان سوسائٹی سکیم 33 میں واقع ایک گھر گذشتہ کئی دنوں سے بے چینی اور انتظار کا منظر پیش کر رہا ہے کیوں کہ آئل ٹینکر کے یرغمال بنائے گئے عملے میں اس گھر کے سربراہ سید حسین یوسف بھی شمال ہیں جن کے بارے میں ان کے اہل خانہ کو کوئی اطلاع نہیں ہے۔**\n\n21 اپریل 2026 کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کی جانب سے ’اونر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو یرغمال بنانے کی خبریں سامنے آئیں جس میں 11 پاکستانی بھی سوار تھے۔\n\nواقعہ سامنے آنے کے بعد پاکستانی عملے کے اہل خانہ بے یقینی اور شدید اضطراب کا شکار ہیں اور حکومت سے فوری اقدامات کی اپیل کررہے ہیں۔\n\nاس وقت جہاز پر یرغمال سید حسین یوسف کے گھر میں روزمرہ زندگی جیسے رک سی گئی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق وقت گزر تو رہا ہے لیکن ہر لمحہ غیر یقینی صورت حال کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔\n\nحسین یوسف کی بیٹی معصومہ جب سکول سے واپس آئیں تو ان کے چہرے پر معمول کی تھکن کے ساتھ ایک واضح اداسی بھی تھی۔ گھر کا دروازہ کھولتے ہی انہیں وہی ماحول ملا جو گذشتہ کئی دنوں سے معمول بن چکا ہے۔ لوگوں کی آمد و رفت، سرگوشیاں اور بار بار دعا کے لیے اٹھتے ہاتھ۔\n\nمعصومہ یوسف نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ ’پتہ نہیں بابا کس حال میں ہیں؟ انہوں نے کھانا بھی کھایا ہو گا؟ وہ ٹھیک تو ہوں گے؟‘\n\nاہل خانہ نے حکومت پاکستان سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اقدامات کی اپیل کی ہے (انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\nان کی آواز میں لرزش تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’سکول میں سب دوست پوچھتے ہیں کہ تمہارے بابا کب آئیں گے؟ میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ میں بس خاموش ہو جاتی ہوں۔‘\n\nکچھ لمحے رک کر وہ آہستہ سے کہتی ہیں کہ ’میں بس دعا کرتی ہوں کہ میرے بابا صحیح سلامت واپس آ جائیں۔‘\n\nوفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے 28 اپریل کو صومالیہ کی حکومت سے ’اونر 25‘ پر موجود پاکستانی عملے کی بحفاظت بازیابی کے لیے فوری تعاون کی اپیل کی۔\n\nحسین یوسف کی اہلیہ عنبرین یوسف کے لیے ہر گزرتا لمحہ آزمائش بن چکا ہے۔ انہیں ابتدائی طور پر واقعے کا علم بھی کسی اورمتاثرہ خاندان کے ذریعے ہوا۔\n\nعنبرین یوسف نے انڈہینڈنٹ اردو سے بات چیت میں شوہر کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ واقعے کے تین سے چار دن بعد شوہر سے مختصر بات ہوئی ایک ایسی گفتگو جس نے میری بےچینی کو مزید گہرا کر دیا۔‘\n\n’ان کی آواز میں خوف تھا وہ ٹھیک سے بات بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کھانے پینے کا سامان ختم ہو چکا ہے، اور قزاق ہر وقت اسلحہ لے کر ہر مغوی کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ یہ سب سن کر جیسے زمین پاؤں تلے سے نکل گئی ہو۔‘\n\nعنبرین کہتی ہیں: ’سمجھ میں نہیں آ رہا کہ خود کو اور بچوں کو کیسے سنبھالوں؟ اس کے بعد سے اب تک شوہر کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔‘\n\nعنبرین کی اپیل سادہ مگر درد سے بھری ہوئی ہے: 'ہمیں صرف یہ جاننا ہے کہ وہ زندہ اور محفوظ ہیں۔ حکومت سے گزارش ہے کہ ہمارے پیاروں کو واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔‘\n\nحسین یوسف کے کمسن بیٹے شبیر یوسف کے لیے یہ صورت حال سمجھنا بھی مشکل ہے، لیکن وہ بار بار ایک ہی بات دہراتے ہے کہ انہیں اپنے والد کی بہت یاد آ رہی ہے اور وہ جلد واپس آ جائیں۔\n\nدوسری جانب کراچی کے ایک اور رہائشی امین بن شمس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔ انہوں نے یہ آڈیو پیغام اپنے والد کو بھیجا تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاپنے وائس نوٹ میں وہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ’ابو، ہمیں بحری قزاقوں نے پکڑ لیا ہے۔ یہ شاید میرا آخری پیغام ہو۔ ہو سکتا ہے میں آپ سے دوبارہ بات نہ کر سکوں۔ وہ ہمیں مارنے کے لیے لے جا رہے ہیں۔ اگر مجھ سےکوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کر دیجیے گا اور میرے لیے دعا کیجیے گا۔‘\n\nامین بن شمس کی اہلیہ عائشہ امین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’بعد میں ہونے والی مختصر بات چیت میں امین کا کہنا تھا کہ نے قزاق ہوائی فائرنگ کر کے عملے کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔ ہمیں ڈرا کر لے جایا جا رہا ہے انہوں نے مشین گن ہمارے سروں پر تانی ہوئی ہے۔‘\n\nیرغمال بنائے جانے والے امین بن شمس دو کم عمر بچوں کے والد ہیں پانچ ماہ کا بیٹا، اور تین سالہ بیٹی۔ اہلیہ عائشہ امین نے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ ویڈیو بھی شیئر کی جس میں تین سالہ بیٹی والد کو تڑپتے ہوئے یاد کررہی ہے اور باربار یہی جملے دہرا رہی ہے کہ ’میرے بابا کو لے کر آؤ۔‘\n\nیہ صرف دو خاندانوں کی کہانی نہیں، بلکہ ان 11 پاکستانیوں کے گھروں کی مشترکہ اذیت ہے جو اس وقت انجانےخطرے سے دوچار ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے پاکستانی عملے کی جلد واپسی کے لیے اقدامات کی اپیل کی ہے۔\n\nہر گزرتے دن کے ساتھ امید اور خوف کی یہ کشمکش مزید گہری ہوتی جا رہی ہے اور ایک ہی دعا بار بار دہرائی جا رہی ہے کہ ’وہ صحیح سلامت واپس آ جائیں۔‘\n\nصومالیہ\n\nصومالی پناہ گزین\n\nبحری قزاق\n\nبحری جہاز\n\nصومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بننے والے کراچی کے رہائشیوں کے دو خاندانوں نے حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے۔\n\nصالحہ فیروز خان\n\nجمعرات, اپریل 30, 2026 - 12:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">صومالیہ میں یرغمال بنائے گئے آئل ٹینکر پر موجود پاکستانی شہریوں کے کراچی میں موجود اہل خانہ اذیت میں مبتلا ہیں (انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nBQ0wv7rv\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nصومالیہ نے متحدہ عرب امارات سے تمام معاہدے منسوخ کر دیے\n\nصومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اسرائیل کا صومالیہ پر حملہ: پاکستان\n\nصومالیہ میں کار بم دھماکہ، 73 افراد ہلاک\n\nپاکستانی قیادت میں انسداد بحری قزاقی کی ’سی سپرٹ‘ نامی مشقیں مکمل\n\nSEO Title:\n\n’پتہ نہیں بابا کس حال میں ہیں؟‘ یرغمال بحری جہاز پر سوار پاکستانی کی منتظر بیٹی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "’پتہ نہیں بابا کس حال میں ہیں؟‘ یرغمال بحری جہاز پر سوار پاکستانی کی منتظر بیٹی"
}