{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreid7pfq7as5ztecfti2jpec3axmrcrez2upylsxn4x3mcnwgjeov6e",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkobokioz3q2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihg2mglmxynet5qga4axv2o2nclvrkzi24kcshumagob36e4gb7y4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 162166
},
"path": "/node/185703",
"publishedAt": "2026-04-29T15:18:05.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"امریکہ",
"جنگ",
"ایران",
"پینٹاگون",
"اے پی",
"news"
],
"textContent": "**پینٹاگون کے اعلیٰ مالیاتی عہدیدار نے بدھ کو قانون سازوں کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ پر اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔**\n\nایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس کے دوران قائم مقام انڈر سیکرٹری برائے مالیات جولز ہرسٹ سوم نے بتایا کہ اس رقم کا بڑا حصہ اسلحہ اور گولہ بارود پر خرچ کیا گیا، جبکہ فوجی کارروائیوں کے اخراجات اور ساز و سامان کی تبدیلی پر بھی خطیر رقم صرف کی گئی۔\n\n28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس تنازعے نے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش نے تیل کی قیمتوں اور درآمدی لاگت کو بڑھا دیا، جو ایندھن کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔\n\nدوسری جانب امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد بدھ کو پہلی بار قانون سازوں کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ یہ ایک مہنگی جنگ ہے جو کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کی گئی۔\n\nیہ سماعت ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں منعقد ہوئی جس کا مقصد 2027 کے فوجی بجٹ پر بات چیت تھا، جس کے تحت دفاعی اخراجات کو بڑھا کر ریکارڈ 1.5 ٹریلین ڈالر تک لے جانے کی تجویز ہے۔\n\nپیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سے توقع ہے کہ وہ مزید ڈرونز، میزائل دفاعی نظام اور جنگی جہازوں کی ضرورت پر زور دیں گے۔\n\nڈیموکریٹس کی جانب سے جنگ کے بڑھتے اخراجات، اہم امریکی اسلحے کے تیزی سے استعمال اور ایک سکول پر بمباری جس میں بچوں کی اموات ہوئیں، جیسے معاملات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔\n\nبعض ارکان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات اور ایرانی ڈرون حملوں کے خلاف فوج کی تیاری پر بھی سوال اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ کچھ ڈرون امریکی دفاعی نظام کو عبور کر کے فوجیوں کو قتل یا زخمی کر چکے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nواشنگٹن سے ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے کہا: ’آپ کئی چھوٹی لڑائیاں جیت سکتے ہیں لیکن جنگ ہار سکتے ہیں، اسی لیے ابتدا ہی میں جنگ میں نہیں الجھنا چاہیے۔ میرے خیال میں حکمت عملی یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ تشدد اور دباؤ کے ذریعے دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جائے، جو ایک انتہائی خطرناک راستہ ہے۔‘\n\nاگرچہ اس وقت ایک نازک جنگ بندی قائم ہے، مگر امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو بغیر کانگریسی نگرانی کے جنگ کا آغاز کیا تھا۔ ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کی گئی متعدد قراردادیں، جن کے ذریعے صدر ٹرمپ کو جنگ روکنے پر مجبور کیا جا سکتا تھا، منظور نہ ہو سکیں۔\n\nرپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال جنگ کے دوران ٹرمپ کی قیادت پر اعتماد برقرار رکھیں گے، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر، تاہم وہ بھی چاہتے ہیں کہ جنگ جلد ختم ہو اور اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو آئندہ ووٹنگ صدر کے لیے ایک اہم امتحان بن سکتی ہے۔\n\nکمیٹی کے چیئرمین رپبلکن رکن مائیک راجرز نے سماعت کا آغاز دفاعی اخراجات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے چین، روس اور ایران کی جانب سے دفاعی اخراجات میں اضافے کی نشاندہی کی۔\n\nانہوں نے کہا: ’ہمارے پاس اتنا اسلحہ، جہاز، طیارے یا خودکار نظام موجود نہیں کہ ہر دشمن کے خلاف برتری حاصل کر سکیں جبکہ وہ اپنی جی ڈی پی کا زیادہ حصہ دفاع پر خرچ کر رہے ہیں۔‘\n\nوزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اب تک اس جنگ پر قانون سازوں کے براہِ راست سوالات سے گریز کرتے رہے ہیں، تاہم انہوں نے اور جنرل کین نے پینٹاگون میں بریفنگز ضرور دی ہیں۔ ہیگستھ زیادہ تر قدامت پسند صحافیوں کے سوالات لیتے رہے ہیں اور مرکزی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔\n\nامریکہ\n\nجنگ\n\nایران\n\nپینٹاگون\n\nامریکی ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس میں قائم مقام انڈر سیکرٹری برائے مالیات جولز ہرسٹ سوم نے بتایا کہ اس رقم کا بڑا حصہ اسلحہ اور گولہ بارود پر خرچ کیا گیا، جبکہ فوجی کارروائیوں پر بھی خطیر رقم صرف کی گئی۔\n\nاے پی\n\nبدھ, اپریل 29, 2026 - 20:15\n\nMain image:\n\n> <p>تہران میں 29 مارچ 2026 کو ایک عمارت پر میزائل حملے کے بعد لوگ تباہی کا جائزہ لے رہے ہیں (عطا کنارے / اے ایف پی)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبادشاہ اور ملکہ کا دورہ امریکہ، کیا کچھ بدترین ہو سکتا ہے؟\n\nامریکہ: جب ایک پوڈکاسٹ نے 1982 کے قتل کا معمہ حل کروا دیا\n\nایران ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنا چاہے تو اس کا فیصلہ ہوگا: امریکہ\n\nایران امریکہ جنگ: سفارت کاری میں چین کا کیا کردار رہا؟\n\nSEO Title:\n\nایران جنگ پر امریکہ کے 25 ارب ڈالر خرچ ہوئے: پینٹاگون عہدیدار\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ایران جنگ پر امریکہ کے 25 ارب ڈالر خرچ ہوئے: پینٹاگون عہدیدار"
}