{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreica32ywfhpzhusgpo4sxvgvqtbdyamhynm6k7kpwumz6edefaywwy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mklkjrbji5o2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigb2czcinpkkanii3xymx2trz5xyx7ktioff6r6c34whypjtz5elu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 61224
  },
  "path": "/node/185680",
  "publishedAt": "2026-04-28T08:54:09.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "عمران خان",
    "پاکستان تحریک انصاف",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "سیاست",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی رواں ہفتے اسلام آباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں آنکھ کے چوتھے طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔**\n\nعمران خان 2023 سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں متعدد مقدمات میں قید ہیں۔\n\nپاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مطابق عمران خان کو طبی معائنے کے لیے پیر کو لایا گیا تھا۔\n\nپمز انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس عمل سے پہلے کیے گئے آنکھ کے سکین میں طبی بہتری ظاہر ہوئی۔‘\n\nان کے مطابق یہ سکین آپٹیکل کوہرنس ٹوموگرافی (OCT) تھا، جو ریٹینا اور آنکھ کے اندرونی حصوں کا جائزہ لینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔\n\nسابق وزیر اعظم کی صحت اور جیل کی صورت حال پر ان کی جماعت، حامیوں اور انسانی حقوق کے مبصرین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔\n\nپاکستان تحریک انصاف بارہا ان کو دی جانے والی طبی سہولیات اور دورانِ قید علاج تک رسائی پر تشویش ظاہر کر چکی ہے۔\n\nہسپتال انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کو چوتھے انٹراویٹریئل انجیکشن کے لیے لایا گیا تھا، جو عام طور پر ریٹینا اور آنکھ کی دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے آنکھ میں دوا انجیکٹ کرنے کا طریقہ ہے۔\n\nبیان کے مطابق ڈاکٹروں نے عمل سے پہلے خان کا معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر مستحکم پایا۔\n\nپمز کے مطابق ’یہ عمل ڈے کیئر سرجری کے طور پر کیا گیا اور اس کے بعد انہیں فالو اپ نگہداشت کی ہدایات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس سے قبل 23 مارچ کو بھی عمران خان نے اینٹی وی ای جی ایف انٹراویٹریئل انجیکشن لگوایا تھا۔\n\nان کی آنکھ کی بیماری دائیں مرکزی ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) جنوری کے آخر میں سامنے آئی تھی۔ ان کا پہلا طبی معائنہ 24 جنوری کو کیا گیا تھا، جبکہ دوسری بار انہیں 24 فروری کو ہسپتال لے جایا گیا۔\n\nدوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں تصدیق کی کہ عمران خان کو گذشتہ رات آنکھ کے انجیکشن اور طبی معائنے کے لیے پمز لے جایا گیا تھا۔\n\nبیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ’علاج کچھ بھی ہو، ہماری تشویش کا جواب نہیں ملا۔‘ انہوں نے پی ٹی آئی کے اس مطالبے کی طرف اشارہ کیا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ’ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں، اہل خانہ کی موجودگی کے ساتھ علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’یہ ان کا بنیادی حق ہے۔‘\n\nپاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے ’حراست میں کیے جانے والے اندرونی طبی معائنوں پر انحصار غیر جانبداری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔\n\n’طبی استحکام‘ کے کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، اس لیے یہ اس وقت تک ناقابل قبول ہے جب تک مریض کے اپنے منتخب کردہ ڈاکٹروں سے اس کی توثیق نہ ہو، خصوصاً ایک سابق وزیرِاعظم کے معاملے میں۔‘\n\nپی ٹی آئی کے مطابق ’مسلسل غیر شفافیت عوامی بداعتمادی میں اضافہ کرتی ہے اور یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔‘\n\nپاکستان\n\nعمران خان\n\nپاکستان تحریک انصاف\n\nپاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی رواں ہفتے اسلام آباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں آنکھ کے چوتھے طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, اپریل 28, 2026 - 13:45\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان 17 مارچ 2023 کو لاہور میں روئٹرز کے ساتھ انٹرویو کے دوران موجود ہیں (فائل فوٹو)</p>\n\nسیاست\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nاڈیالہ کے باہر خاموشی: عمران خان کی رہائی کی تحریک کہاں کھڑی ہے؟\n\nعمران خان کا اسلام آباد کے ہسپتال میں آنکھ کا تیسرا پروسیجر\n\nعمران خان کا جیل میں معائنہ، بینائی میں نمایاں بہتری: میڈیکل بورڈ\n\nعمران خان کا کیا علاج ہو رہا ہے؟\n\nSEO Title:\n\nعمران خان کی آنکھ کا چوتھا پروسیجر، ڈاکٹر ’مطمئن‘ مگر پی ٹی آئی کو تشویش\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "عمران خان کی آنکھ کا چوتھا پروسیجر، ڈاکٹر ’مطمئن‘ مگر پی ٹی آئی کو تشویش"
}