{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreia5kucw37d2zevlhqd4rinzvkd7yhuzp3uzeaebhxquhebqo3kyoa",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mklkjomwfvy2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihapqsoh7g7i2u3nxwz6rxq2ydevn45sluurcjojxoyh24kaoscfu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 97161
  },
  "path": "/node/185684",
  "publishedAt": "2026-04-28T12:54:24.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "وام",
    "یو اے ای",
    "متحدہ عرب امارات",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے منگل کو پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے نکلنے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے، جو کہ یکم مئی 2026 سے لاگو ہو گا۔**\n\nملک کی سرکاری نیوز ایجنسی وام نے رپورٹ کیا کہ ’اس فیصلے کو یو اے ای کے طویل المدتی سٹریٹجک اور معاشی وژن اور بدلتے ہوئے توانائی پروفائل کا عکاس قرار دیا گیا ہے، جس میں مقامی توانائی پیداوار میں تیز رفتار سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی توانائی منڈیوں میں ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور مستقبل بین کردار ادا کرنے کے عزم کو بھی دہرایا گیا ہے۔‘\n\nمزید کہا گیا کہ ’یہ فیصلہ یو اے ای کی پیداواری پالیسی اور موجودہ و مستقبل کی صلاحیت کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے، جو قومی مفاد اور عالمی منڈی کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے عزم پر مبنی ہے۔‘\n\nتیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا قیام 1960 میں عمل میں آیا تھا، جس کے اہم ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (اب علیحدگی کا اعلان)، ایران، عراق، کویت، وینزویلا، الجزائر، لیبیا، نائجیریا، انگولا اور قطر شامل ہیں جبکہ اوپیک پلس کا قیام 2016 میں عمل آیا تھا جب اوپیک ممالک اور نان اوپیک ممالک میں اتحاد ہوا، اس میں روس سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔\n\nاوپیک اور اوپیک پلس تیل کی پیداوار اور قیمتوں کا تعین کرتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیو اے ای کی حکومت نے کہا ہے کہ ’قلیل مدتی اتار چڑھاؤ، بشمول خلیج عرب اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں، سپلائی کے نظام کو متاثر کر رہے ہیں، تاہم بنیادی رجحانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ درمیانی اور طویل مدت میں عالمی توانائی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو گا۔ ایک مستحکم عالمی توانائی نظام کے لیے لچکدار، قابلِ اعتماد اور سستی فراہمی ضروری ہے۔ یو اے ای نے بدلتی ہوئی طلب کو مؤثر اور ذمہ دارانہ طریقے سے پورا کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی ہے، جس میں استحکام، لاگت میں توازن اور پائیداری کو ترجیح دی گئی ہے۔‘\n\nوام کے مطابق ’یہ فیصلہ دہائیوں پر محیط تعمیری تعاون کے بعد سامنے آیا ہے۔ یو اے ای نے 1967 میں ابوظبی کے ذریعے اوپیک میں شمولیت اختیار کی اور 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد بھی اس کی رکنیت برقرار رکھی۔ اس دوران یو اے ای نے عالمی تیل منڈی کے استحکام اور پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان مکالمے کو مضبوط بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔‘\n\nیو اے ای دنیا کے کم لاگت اور نسبتاً کم کاربن اخراج والے تیل کے بڑے پیداکنندگان میں شامل ہے، جو عالمی ترقی اور اخراج میں کمی کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔\n\nیو اے ای نے کہا ہے کہ اوپیک سے علیحدگی کے بعد بھی یو اے ای ذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے بتدریج اور متوازن انداز میں پیداوار کو منڈی میں لائے گا، جو طلب اور حالات کے مطابق ہو گی۔\n\nوسیع اور مسابقتی وسائل کی بنیاد پر یو اے ای اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر وسائل کی ترقی جاری رکھے گا، جس سے معاشی ترقی اور تنوع کو فروغ ملے گا۔\n\nیہ فیصلہ عالمی منڈی کے استحکام کے لیے یو اے ای کے عزم یا پیدا کرنے اور استعمال کرنے والے ممالک کے ساتھ تعاون پر مبنی پالیسی کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ اس سے بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ردِعمل دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔\n\nیو اے ای نے اوپیک اور اوپیک پلس اتحاد کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ پانچ دہائیوں سے زائد تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی توانائی منڈی کے استحکام کے لیے اپنا فعال کردار جاری رکھے گا۔\n\nبیان میں کہا گیا: ’تنظیم میں قیام کے دوران یو اے ای نے نمایاں کردار ادا کیا اور مشترکہ مفاد کے لیے بڑی قربانیاں بھی دیں، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ قومی مفاد، سرمایہ کاروں، صارفین، شراکت داروں اور عالمی توانائی منڈیوں کے حوالے سے اپنی ترجیحات پر توجہ دی جائے، اور آئندہ اسی پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔‘\n\nیو اے ای\n\nمتحدہ عرب امارات\n\nیو اے ای کی سرکاری نیوز ایجنسی وام کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق یکم مئی 2026 سے ہو گا۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, اپریل 28, 2026 - 17:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">3 مارچ 2026 کی اس تصویر میں ابوظبی کی نیشنل آئل کمپنی کے ذیلی ادارے ایڈنوک گیس کی ایک تنصیب کے پاس سے ایک ٹرک گزر رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nآئندہ دو برسوں میں تیل کی طلب میں اضافے کا اوپیک تخمینہ برقرار\n\nسعودی عرب کا ’اوپیک پلس‘ معاہدے کی پابندی کا عزم\n\nیو اے ای کو 3.45 ارب ڈالر کی واپسی مکمل ہو گئی: پاکستان\n\nیو اے ای کو رقم واپسی، پاکستان نے ’گمراہ کن‘ خبریں مسترد کردیں\n\nSEO Title:\n\nمتحدہ عرب امارات کا اوپیک اور اوپیک پلس سے نکلنے کا اعلان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "متحدہ عرب امارات کا اوپیک اور اوپیک پلس سے نکلنے کا اعلان"
}