{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreievvi5nxfpn7jj2kldrd6dmejukemjk4phiellkt6r2uvvgsbehli",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkhkpaus2372"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreicyeeji4s3px76ts6tgx3ue43durc6uoeqlgfi2ifggf3ym2lsuei"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 35041
},
"path": "/node/185664",
"publishedAt": "2026-04-27T06:25:31.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بلوچستان",
"پولیس",
"خاتون",
"عسکریت پسند",
"خضدار",
"عامر باجوئی",
"پاکستان",
"video"
],
"textContent": "**رواں ماہ کے وسط میں بلوچستان کے علاقے خضدار میں مسلح افراد کے حملے میں ماری جانے والی پولیس اہلکار ملک ناز اپنے شوہر کی ایک ایسے ہی حملے میں موت کے بعد اپنے تین بچوں کی کفالت کے لیے پولیس فورس کا حصہ بنی تھیں۔**\n\nاس حملے میں ملک ناز کے علاوہ ایک اور پولیس اہلکار بھی جان سے گیا۔\n\nپولیس کے مطابق خضدار کے علاقے باغبانہ باجوئی میں مسلح افراد نے ایک واردات کے دوران ملک ناز اور ہیڈ کانسٹیبل سمیع اللہ باجوئی کو اسلحہ پھینکنے کے لیے کہا لیکن جب انہوں ایسا نہیں کیا تو ان پر فائرنگ کر دی گئی۔\n\nملک ناز کے شوہر کانسٹیبل عبدالغنی بھی 2011 میں پولیس میں فرائض انجام دہی کے دوران خضدار کے علاقے چمروک میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے تھے جس کے بعد 2013 میں ملک ناز ’شہید کوٹہ‘ پر پولیس میں بھرتی ہوئی تھیں۔\n\nان کے تین بچے ہیں جن کے نام سمیر احمد، شمائلہ اور سمیہ بی بی ہیں، جن کو تعلیم دلانے کے لیے ان کی والدہ ملک ناز نے والد کے وفات کے بعد پولیس فورس جوائن کی۔\n\nسمیر احمد نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’والد کے گزرنے کے بعد وہ ہمارا سہارا تھیں۔ کفالت سے لے کر بہترین تعلیم تک جتنا ان سے ہو سکا ہماری خاطر کیا۔ میرا اب یہی ارادہ ہے کہ میں خود تعلیم حاصل کرکے اور اپنی بہنوں کو تعلیم دلاؤں اور اپنے والدین کی خواہش اور مشن کو پورا کروں گا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nلیڈی کانسٹیبل کے بیٹے سمیر احمد نے مزید کہا ’میری امی چاہتی تھیں کہ میں بڑا ہو کر ایک وکیل بنوں انہیں محکمہ کی جانب سے جب ڈیوٹی کے لیے بُلاوا آتا تھا وہ دن رات اور سردی گرمی اور بیماری اور ہماری فکر کو چھوڑ کر ڈیوٹی پر جاتی تھیں۔‘\n\nلیڈی کانسٹیبل سمرین نے انڈپینڈنٹ اردو سےکو بتایا کہ ’ملک ناز خضدار میں سب سے سنییئر اور قابل سپاہی تھیں وہ ہر مشکل آپریشن میں حصہ لیتی تھیں۔‘\n\nایڈیشنل ایس پی خضدار عبدالقدوس نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس علاقے میں خواتین کا پولیس فورس میں شامل ہونا اور فعال کردار ادا کرنا اتنا آسان نہیں لیکن ’ملک ناز ایک بہادر، فرض شناس اور خضدار میں سب سے سنییئر پولیس کانسٹیبل تھیں جنہوں نے کبھی بھی فرائض کی ادائیگی کے دوران کوئی بہانہ نہیں بنایا۔‘\n\nبلوچستان\n\nپولیس\n\nخاتون\n\nعسکریت پسند\n\nخضدار\n\nسال 2011 میں ملک ناز کے شوہر کانسٹیبل عبدالغنی خضدار میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے تھے، جس کے بعد انہوں نے بھی پولیس میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔\n\nعامر باجوئی\n\nسوموار, اپریل 27, 2026 - 11:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ملک ناز کے شوہر کانسٹیبل عبدالغنی بھی 2011 میں پولیس میں فرائض انجام دہی کے دوران خضدار کے علاقے چمروک میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے تھے جس کے بعد 2013 میں ملک ناز ’شہید کوٹہ‘ پر پولیس میں بھرتی ہوئی تھیں(بلوچستان پولیس)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nDikwKANF\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nبلوچستان میں حملے کا نشانہ بننے والی مائننگ کمپنی کون سی ہے؟\n\nپختونخوا،بلوچستان میں مارکیٹ اور شادی ہالوں کی بندش کے اوقات مقرر\n\nبلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 15عسکریت پسند مارے گئے: فوج\n\nSEO Title:\n\nخضدار حملے میں جان سے جانے والی ملک ناز پولیس کا حصہ کیوں بنیں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "خضدار حملے میں جان سے جانے والی ملک ناز پولیس کا حصہ کیوں بنیں؟"
}