{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigvjhhp4d7n2gjyhj4aqwpceg4o6rukqcboahhn2pvwrlpuv2o6yy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkh3vfyeoi72"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibg46qmxlzttjcz4pohoohvxg2hefkzxkltvt3x6uk75t7j6zuuru"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 89997
},
"path": "/node/185656",
"publishedAt": "2026-04-27T01:13:29.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"زندگی",
"شادی",
"رشتہ",
"برابری",
"حسنین جمال",
"بلاگ",
"video"
],
"textContent": "**رشتہ خاندان دیکھ کے کرنا چاہیے، ایک اور بات بزرگوں کی سائنسی طور پہ ثابت ہو گئی۔**\n\nکیا ہے بھائی یہ، مجھے لگتا ہے ہم لوگ بڑے ہی اس لیے ہوتے ہیں کہ ہر اس چیز پہ ایمان لا سکیں جو بزرگ ہمارے کانوں میں فیڈ کر دیا کرتے تھے۔\n\nجس وقت میں بڑا ہو رہا تھا ایشیا کی سرخی ڈھلک کر میرے استادوں کے چہرے پہ آ چکی تھی، حقیقی برابری سے ہٹ کے بات بس یہاں پہ ٹھہری ہوئی تھی کہ سب انسانوں کو برابر سمجھا جائے۔\n\nاس وقت جب آس پاس لوگوں کے رشتے ہوتے تھے، پی ٹی وی کے ڈراموں میں امیر غریب کی شادی پر کہانیاں بنتی تھیں۔\n\nفلمیں دکھاتی تھیں کہ ایک رئیس زادی کس طرح ڈرائیور پہ فدا ہو کے اس سے شادی کر لیتی ہے تو فقیر کو لگتا تھا کہ واقعی یہ خاندان وغیرہ کچھ نہیں ہوتا اور لوگ جو فلاں ابن فلاں ابن فلاں کے پلندے اٹھائے پھرتے ہیں یہ سب کاغذی باتیں ہیں، آدمی شجرے سے بالاتر ہے، باقی گلاں ای بنیاں نیں۔\n\nپھر جب اخبار پڑھنا شروع کیا تو اس میں ایک دن اشتہار دیکھا کہ جرمن شیفرڈ برائے فروخت، ساتھ اس کے آباؤاجداد کی مکمل فہرست، بلڈ لائن کی تفصیل ۔۔۔ وہ چیز کلک ہوئی لیکن کمزور ترین درجے کی، ایویں میں نے سر جھٹکا اور کام پہ لگ گیا۔\n\nاس کے بعد نیٹ آ گیا، کوئی فلم دیکھی جس میں گھوڑوں کی ریس کا قصہ تھا، اب اس میں ایک سے ایک نجیب الطرفین گھوڑا، صرف چیمپئین گھوڑے کی نسل مخصوص بندوں کے ہاتھ میں رکھنے کے لیے وہ جنگ پڑی کہ الامان۔\n\nاب سر جھٹکنا مشکل ہوتا گیا۔ اب میرے سامنے یہ سوال تھا کہ بھئی جب کتے اور گھوڑے تک پیڈیگریڈ ہیں، مرغے اصیل ہیں تو انسانوں میں بھی کوئی نہ کوئی تو رولا ہو گا جس کی وجہ سے خاندانوں میں بزرگ کیدو بن کے بیٹھے ہوتے تھے۔\n\nارتقا کی سائنس دیکھی تو وہ بھی سیلیکٹو بریڈنگ کی طرف اشارے دے رہی تھی۔ وہ کہتی ہے کہ شادی مذہبی یا سماجی رسم کی بجائے ایسا سسٹم ہے جو انسانوں میں نسل بڑھانے اور ان کے جینیاتی تسلسل کو باقاعدہ رکھنے میں مدد کرتا ہے۔\n\nاب بیچ میں جینز آ گئیں، پھر نیچرل سلیکشن کی اینٹری ہو گئی مطلب دو انسانوں کی شادی کے بعد وہ خصوصیات آگے بڑھتی ہیں جو ان کے نسلی بقا اور ریپروڈکشن کے لیے فائدہ مند ہوں۔\n\nپھر سیکشوئل سلیکشن کا نظریہ بھی لے آئی ایولوشنری سائنس، جو کہتا ہے کہ انسان اپنے شریکِ حیات کا انتخاب فطری طور پر صحت، ذہانت، سماجی حیثیت یا وسائل وغیرہ دیکھتے ہوئے کرتا ہے اور یہ انتخاب اس کی اگلی نسل کی جینیاتی خصوصیات پر اثر انداز ہوتا ہے۔\n\nاب مجھے بتائیں کہ اگر ڈارون یہ کہتا ہے کہ والدین سے اولاد میں وراثتی خوبیاں منتقل ہو رہی ہیں تو کیا وہ ’خاندان‘ دیکھنے کی بات نہیں کر رہا؟\n\nایک چیز کلیئر کر دوں، اس پوری کہانی میں یہ نہیں کہا میں نے کہ آپ ’اپنے خاندان‘ میں شادی کریں، اس کی مخالفت تو ہر طرح کی سائنس کرتی ہے، جو میں کہہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ بزرگ رشتہ دیکھتے ہوئے پرائے خاندان کی پچھ پرتیت کیوں کرتے تھے۔\n\nتو خیر، ڈارون تک فقیر پہنچ گیا تھا، تقریباً درمیانے درجے کی دراڑ آ چکی تھی برابری کے ساری خیالوں میں، ایشیا میرا سبز ہوتا جا رہا تھا، پھر خدا نے صحیح والی مدد کر دی اور میں نتیجے پر پہنچ گیا۔\n\nجسے آج کل آپ پوڈکاسٹ کہتے ہیں وہ پرانے زمانوں میں انٹرویو ہوا کرتا تھا۔ تو ایک ایسی ہی انفارمل گپ شپ کے دوران بریک ہوا اور قرۃ العین قریشی آ گئیں۔\n\nاس عالیشان سٹوڈیو کا پورا سیٹ اپ وہی دیکھتی ہیں، ان سے بات چل رہی تھی کہ اس دوران انہوں نے بتایا وہ لمز میں ہیں، پی ایچ ڈی بھی ہیں، پوچھا کس موضوع پہ، بتایا ایپی جینیٹکس پہ۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاللہ اکبر، میں خاصا مرعوب ہوا، پوچھا یہ ہے کیا، تو انہوں نے سمجھایا کہ سادے ترین الفاظ میں ایک انسان کے جینز پر کس طرح اس کا ماحول، اس کی اپنی عادتیں، اس کے خاندان کا رہن سہن اور اس کا شہر یا گاؤں اثرانداز ہوتے ہیں اور پھر یہ سب چیزیں کیسے اس کے جینز میوٹیٹ کر دیتے ہیں۔\n\nنہ ہوا ممتاز مفتی کہ اس جواب پر کوئی قلندرانہ برکت دکھاتا، نہ کوئی صاحب حال ہوں کہ چیخ مارتا اور چادر تان کے مر جاتا، بس اتنا ہوا کہ ان سے تفصیل پوچھی، واپس آ کے شاہ جی سے حَکم لیا اور یہ کہانی لکھنے بیٹھ گیا۔\n\nایپی جینیٹکس کہتی ہے کہ آپ کا رہن سہن سیدھا سیدھا آپ کے اندر پہلے سے موجود اچھے یا برے جینز کو سوئچ آن اور سوئچ آف کرتا رہتا ہے۔\n\nآپ کا ڈی این اے نہیں بدلے گا، لیکن پوتڑوں کے رئیس کی جین میوٹیشن الگ ہو گی اور مجھ جیسے نوکری پیشہ حال مست کے عموماً غیر صحت مند جین والے بٹن آن ہوتے جائیں گے، اور یہ سب پھر میرے بچوں میں بھی جائیں گے۔\n\nیعنی جو لائنیج کی، یا شجرے کی، یا خاندان کی بات ہوتی ہے وہ اس لیے کہ ایک ہائی کوالٹی ماحول ہر نئے پیدا ہونے والے بچے کے لیے مینٹین ہوتا رہے اور ہر بچے کو بیسٹ ایپی جینیٹک تبدیلیاں ملیں۔\n\nباقی ایپی جینیٹکس یہ بھی کہتی ہے کہ بگڑا اب بھی کچھ نہیں، پولیوشن سے دور رہنا، غذائیت والے پھل سبزی کھانا، ورزش کرنا، سٹریس سے دور رہنا، اچھے لوگوں سے میل جول رکھنا۔\n\nیوگا یا مراقبہ کرنا اور ایسی ہر صحتمند چیز آپ کے ان اچھے والے جینز کو دوبارہ سوئچ آن بھی کر سکتی ہے جو غریب اس وقت دھوئیں اور چرغوں کی چکنائی میں کہیں دبے پڑے ہوں گے۔\n\nاور ایک آخری بات ایپی جینیٹکس یہ بتاتی ہے کہ اچھے خاندان سے بھی اگر کوئی سپوت ہے اور اس میں غلط عادتیں پڑ گئیں تو بس پھر کیڑے اور امرود والا معاملہ ہو گا، وہ قسمت کی بات ہے، کسی کی پوری ریڑھی ٹھیک نکل جاتی ہے کسی کا اکلوتا امرود کیڑے والا ہوتا ہے!\n\n_نوٹ یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nزندگی\n\nشادی\n\nرشتہ\n\nبرابری\n\nجس وقت میں بڑا ہو رہا تھا ایشیا کی سرخی ڈھلک کر میرے استادوں کے چہرے پہ آ چکی تھی، حقیقی برابری سے ہٹ کے بات بس یہاں پہ ٹھہری ہوئی تھی کہ سب انسانوں کو برابر سمجھا جائے۔\n\nحسنین جمال\n\nسوموار, اپریل 27, 2026 - 06:15\n\nMain image:\n\nبلاگ\n\njw id:\n\niODjnZmv\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nسب انسان برابر نہیں ہوتے\n\nبرداشت یا مساوات، سب انسانوں کا اکٹھے رہنا ممکن بھی ہے؟\n\nلمبے قد والوں کو دنیا میں کامیابی زیادہ ملتی ہے، نہیں؟\n\nہم لفظوں سے کھیل رہے ہیں بس، چاہے باڈی پازیٹوٹی ہو یا کولیٹرل ڈیمج!\n\nSEO Title:\n\nاچھے خاندان میں رشتہ کرنے کی بات بزرگ کیوں کرتے تھے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "اچھے خاندان میں رشتہ کرنے کی بات بزرگ کیوں کرتے تھے؟"
}