{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidm55rwayvpx2dxgfs62jssbdjdiabfi45sy5jmerch3h5uam6gxa",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkgoi6hzkbh2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreia6kwye47qef64ey7chwhuyg6xvythelgobfh2c2cw7ilvvjme4k4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 91757
},
"path": "/node/185653",
"publishedAt": "2026-04-26T04:32:12.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"مائیک بیڈیگن",
"امریکہ",
"video"
],
"textContent": "**وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کی سالانہ تقریب اس وقت شدید افراتفری کا شکار ہو گئی جب ہفتے کی رات ایک مسلح شخص نے اس اعلیٰ سطحی پروگرام میں فائرنگ کر دی۔**\n\nمشکوک حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا، تاہم ان کے محرک کے بارے میں تفصیل سامنے نہیں آئی۔\n\nصدر ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور انتظامیہ کے دیگر اراکین کو واشنگٹن ہلٹن کے بال روم سے فوراً باہر نکال لیا گیا جبکہ مہمان خوف زدہ ہو کر ادھر ادھر پناہ لینے لگے۔\n\n**مشتبہ حملہ آور کون ہے؟**\n\nنیویارک ٹائمز نے قانون نافذ کرنے والے متعدد ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مشتبہ شخص کی شناخت 31 سالہ کول ٹوماس ایلن سے ہوئی جو ٹورینس، کیلیفورنیا کے رہائشی ہیں۔\n\nٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے ایک تصویر بھی جاری کی جس میں ایک شخص ہوٹل کے اندر زمین پر لیٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔\n\nصدر نے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پوسٹ کی جس میں ایک شخص سکیورٹی چیک پوائنٹ کے پاس سے دوڑتا ہوا گزرتا ہے اور ایجنٹس ہتھیار نکالتے ہوئے نظر آتے ہیں۔\n\nٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے یہ ویڈیو شفافیت کے لیے جاری کی تاکہ دکھایا جا سکے کہ ایجنٹس نے کس قدر تیزی سے کارروائی کی۔\n\nبعد ازاں وائٹ ہاؤس میں ایک پریس بریفنگ میں ٹرمپ نے مشتبہ حملہ آور کو ’بیمار ذہنیت رکھنے والا شخص‘ قرار دیتے ہوئے کہا تفتیش کار ان کے اپارٹمنٹ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔\n\nواشنگٹن ڈی سی کی اٹارنی ججینین پیرو نے بتایا کہ ملزم پر دو سنگین الزامات لگائے گئے ہیں:\n\nتشدد پر مبنی جرم کے دوران اسلحہ استعمال کرنا اور وفاقی افسر پر خطرناک ہتھیار سے حملہ کرنا\n\nانہوں نے کہا ملزم کو پیر کو وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nواشنگٹن ڈی سی کے پولیس چیف جیفری ڈبلیو کیرول کے مطابق ملزم کے پاس شاٹ گن، ہینڈ گن اور کئی چاقو موجود تھے۔\n\nاگرچہ سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں گولی نہیں ماری مگر انہیں طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس چیف نے بتایا کہ مشتبہ شخص غالباً ہوٹل ہی میں ٹھہرا ہوا تھا۔\n\n**کیا ہوا تھا؟**\n\nہفتے کی شام تقریباً ساڑھے آٹھ بجے واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں فائرنگ کی آوازوں کے بعد تقریب میں بھگدڑ مچ گئی۔\n\nسیکرٹ سروس کے اہلکار فوراً صدر کے گرد حلقہ بنا کر انہیں سٹیج سے ہٹا کر باہر لے گئے۔\n\nخاتون اول اور کابینہ کے دیگر اراکین کو بھی نکال لیا گیا۔ اندر موجود شرکا میزوں کے نیچے چھپ گئے۔\n\nسیکرٹ سروس نے بتایا کہ فائرنگ ہوٹل کے مرکزی سکیورٹی سکریننگ ایریا کے قریب ہوئی۔\n\nبیان میں مزید کہا گیا کہ صدر، خاتون اول اور دیگر محفوظ افراد بالکل خیریت سے ہیں جبکہ ایک شخص کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔\n\nواشنگٹن ہلٹن وہی مقام ہے جہاں 1981 میں صدر رونلڈ ریگن کو گولی ماری گئی تھی۔\n\n**ٹرمپ کے ساتھ کیا ہوا؟**\n\nصدر ٹرمپ کو نائب صدر جے ڈی وینس، مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ شخصیات کے ساتھ فوراً وہاں سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔\n\nبعد ازاں وہ وائٹ ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کی۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nصدر ٹرمپ نے مشتبہ حملہ آور کو ’بیمار ذہنیت رکھنے والا شخص‘ قرار دے دیا۔\n\nمائیک بیڈیگن\n\nاتوار, اپریل 26, 2026 - 09:30\n\nMain image:\n\n> <p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 26 اپریل، 2026 کو واشنگٹن میں ہوئے حملے کے ملزم کی تصویر اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر شیئر کی ہے</p>\n\nامریکہ\n\njw id:\n\naLHkym9P\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nوائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ، امریکی صدر محفوظ رہے\n\nجب ٹرمپ گھنٹوں چیختے اور سچویشن روم سے باہر رہے\n\nSEO Title:\n\nصدر ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص کون ہے؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.the-independent.com/news/world/americas/us-politics/trump-gunman-suspect-shots-b2965047.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "صدر ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص کون ہے؟"
}