{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreieltwd2fn22ycac2bxj7byhpujcuzmvdn4fdbfyakvc5zmceuz7ti",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkgoi2egxtj2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreid35uhweap7nonoirdccxszq2ccoxa2wrhqc3exj2s3nrtifc6o7i"
},
"mimeType": "image/png",
"size": 579314
},
"path": "/node/185655",
"publishedAt": "2026-04-26T12:18:39.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"صحت",
"فٹنس",
"ایپس",
"کیلوری",
"مایوسی",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"news"
],
"textContent": "**ایک نئی تحقیق کے مطابق فٹنس اور کیلوریز ٹریک کرنے والی ڈیوائسز ان صارفین میں ’شرمندگی‘ کا احساس پیدا کر سکتی ہیں جو اپنے مقررہ اہداف حاصل نہیں کر پاتے۔**\n\nیونیورسٹی کالج لندن اور لوفبرو یونیورسٹی کے ماہرین نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہزاروں پوسٹس کا تجزیہ کیا۔\n\nاس تحقیق میں پانچ سب سے زیادہ منافع بخش فٹنس ایپس کے بارے میں 58,881 پوسٹس کا جائزہ لیا گیا، جس سے ان مقبول ٹولز کے ممکنہ منفی نفسیاتی اثرات سامنے آئے۔\n\nبعد ازاں ان پوسٹس کو فلٹر کیا گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ کن میں ’منفی جذبات‘ کا اظہار کیا گیا، جس کے نتیجے میں 13,799 پوسٹس سامنے آئیں۔\n\nمحققین نے پایا کہ صارفین غیر صحت بخش غذا کا اندراج کرنے پر ’شرمندگی‘ محسوس کرتے ہیں۔ ایپس کی جانب سے بار بار آنے والی نوٹیفکیشنز پر انہیں ’جھنجھلاہٹ‘ ہوتی ہے اور جب وہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر پاتے تو وہ ’مایوسی‘ محسوس کرتے ہیں۔\n\nایک نئی تحقیق کے مطابق فٹنس اور کیلوریز ٹریک کرنے والی ڈیوائسز ان صارفین میں ’شرمندگی‘ کا احساس پیدا کر سکتی ہیں جو اپنے مقررہ اہداف حاصل نہیں کر پاتے (اینواتو)\n\n\n\n\nتحقیق میں یہ خدشات بھی سامنے آئے کہ وزن کم کرنے کے مقاصد پر مبنی الگورتھم کے ذریعے بنائے گئے اہداف بھی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔\n\nماہرین نے برٹش جرنل آف ہیلتھ سائیکالوجی میں لکھا کہ: ’یہ ایپس ایسے الگورتھمز پر انحصار کرتی ہیں جو حقیقی زندگی کی لچک اور پیچیدگی کو ظاہر نہیں کرتے، نہ ہی افراد کے حالات اور فرق کو مدنظر رکھتے ہیں۔‘\n\nانہوں نے ایک صارف کی مثال بھی دی جس نے لکھا: ’اگر مجھے اپنے وزن کا مطلوبہ ہدف حاصل کرنا ہے تو مجھے روزانہ 700 کیلوریز کم لینی ہوں گی (کیلوری کی مقدار ہر فرد کے لیے انفرادی طور پر مختلف ہو سکتی ہے)۔‘\n\nکچھ صورتوں میں یہ تجربات ’حوصلہ شکنی‘ کا باعث بنے اور صارفین نے اپنے اہداف چھوڑنے کا رجحان دکھایا۔\n\nمحققین نے تجویز دی کہ فٹنس ایپس کو سخت کیلوری کاؤنٹ اور ورزش کے نظام سے ہٹ کر ایک زیادہ جامع طریقہ اپنانا چاہیے۔\n\nیونیورسٹی کالج لندن کی ڈاکٹر پالینا بوندارونیک نے کہا: ’اب تک بہت کم تحقیق نے ان ایپس کے ممکنہ نقصان دہ اثرات کا جائزہ لیا ہے۔‘\n\nسوشل میڈیا ہمیں بڑی مقدار میں ڈیٹا فراہم کرتا ہے جو ان اثرات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے اور اے آئی کی مدد سے ہم اس ڈیٹا کا تیزی سے تجزیہ کر سکے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے مزید کہا: ’ہم نے ان پوسٹس میں بہت زیادہ خود پر الزام لگانے اور شرمندگی جیسے احساسات دیکھے، جہاں لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اتنا اچھا نہیں کر رہے جتنا انہیں کرنا چاہیے۔ یہ جذباتی اثرات لوگوں کی حوصلہ افزائی اور صحت دونوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘\n\nانہوں نے مشورہ دیا: ’صرف وزن کم کرنے جیسے محدود اہداف کے بجائے، ہیلتھ ایپس کو مجموعی صحت اور اندرونی حوصلہ افزائی (یعنی کسی سرگرمی سے حاصل ہونے والی خوشی یا اطمینان) پر توجہ دینی چاہیے۔‘\n\nانہوں نے یہ بھی کہا: ’ہمیں خود پر سختی نہ کرنا سیکھنا ہوگا۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ خود کو موردِ الزام ٹھہرانا ہمیں بہتر بنائے گا، لیکن حقیقت میں اس کا الٹا اثر ہوتا ہے۔‘\n\nتاہم انہوں نے وضاحت کی کہ ’ہم نے صرف منفی پوسٹس کا جائزہ لیا ہے، اس لیے ہم ان ایپس کے مجموعی اثرات کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ممکن ہے کہ ان کے کچھ نقصانات ہوں، لیکن بہت سے لوگوں کے لیے یہ فائدہ مند بھی ہوں۔‘\n\nتحقیق کی شریک مصنف ڈاکٹر لوسی پورٹر نے کہا: ’سوشل میڈیا پر صارفین کی رائے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فٹنس ایپس بعض اوقات لوگوں کو مایوس اور ہمت ہارنے پر مجبور کر دیتی ہیں جو کہ ان ایپس کے مقصد کے بالکل برعکس ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’ہم جانتے ہیں کہ خود کو شرمندہ اور افسردہ محسوس کرنا صحت مند اور طویل مدتی تبدیلی میں مدد نہیں دیتا۔ اب ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ اثرات کتنے عام ہیں اور کیا فٹنس ایپس کو اس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے کہ وہ لوگوں کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کریں۔‘\n\nصحت\n\nفٹنس\n\nایپس\n\nکیلوری\n\nمایوسی\n\nایک نئی تحقیق کے مطابق فٹنس اور کیلوری ٹریک کرنے والی ایپس صارفین میں شرمندگی، جھنجھلاہٹ اور مایوسی جیسے جذبات پیدا کر رہی ہیں، خاص طور پر جب وہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر پاتے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, اپریل 26, 2026 - 17:00\n\nMain image:\n\n> <p>ایک نئی تحقیق کے مطابق فٹنس اور کیلوریز ٹریک کرنے والی ڈیوائسز ان صارفین میں ’شرمندگی‘ کا احساس پیدا کر سکتی ہیں جو اپنے مقررہ اہداف حاصل نہیں کر پاتے (اینواتو)</p>\n\nصحت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکیا ہیلتھ انفلوئنسر ہماری صحت ’ہائی جیک‘ کر رہے ہیں؟\n\nلمبی دوڑ آپ کی صحت کے لیے کیوں بہتر نہیں؟ نئی تحقیق میں انکشاف\n\nبلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے چینی سے احتیاط برتیں یا کیلوریز سے؟\n\nچہل قدمی کا نیا ٹرینڈ جو زیادہ کیلوریز کم کرنے میں مددگار\n\nSEO Title:\n\nفٹنس ٹریکرز اہداف پورے نہ ہونے پر ذہنی دباؤ بڑھاتے ہیں: تحقیق\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "فٹنس ٹریکرز اہداف پورے نہ ہونے پر ذہنی دباؤ بڑھاتے ہیں: تحقیق"
}